Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 183 of 199

3716Sunan At-Tirmidhiصحیح

مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے علی سے فرمایا : تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي، ولیس في بعض النسخ) (صحیح)
3717Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: إِنَّا كُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِينَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هَارُونَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي أَبِي هَارُونَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی (رض) سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔

Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) said, “We the company of Ansar recognise the hypocrites by their jealousy for Ali ibn Abu Talib (RA) This hadith is gharib. Shu’bah questioned Abu Harun Abdi’s veracity. This is reported from A’mash, from Abu Saith, from Abu Sa’eed (RA)

(حديث أبو سعيد) ضعيف الإسناد جدا، (حديث المساور الحميري عن أمه) ضعيف (حديث المساور الحميري عن أمه) ، المشکاة (6091) // ضعيف الجامع الصغير (6330) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ٢- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٦٤) (ضعیف جداً ) (سند میں ابو ہارون العبدی متروک راوی ہے)
3718Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا ؟ قَالَ: عَلِيٌّ مِنْهُمْ يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَسَلْمَانُ، أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا : علی انہیں میں سے ہیں ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے اور باقی تین : ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے ۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, Allah has commanded me to love four and has informed me that He also loves them.” He was requested, “O Messenger of Allah, name them to us.” He said, “Ali is one of them.” He said this three times. “And, Abu Dharr, Miqdad and Salman. And commanded me to love them and informed me that He also loves them.” [Ahmed 23029, Ibn e Majah 149]

ضعيف، ابن ماجة (149) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (28) ، ضعيف الجامع الصغير (1566) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3718
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٩) (تحفة الأشراف : ٢٠٠٨) ، و مسند احمد (٥/٣٥٦) (ضعیف) (سند میں ابو ربیعہ ایادی لین الحدیث، اور شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں)
3719Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

حبشی بن جنادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا ١ ؎۔

Sayyidina Hubshi ibn Junadah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “All is from me and I from Ali and none shall represent me save myself or Ali.” [Ibn e Majah 119]

حسن، ابن ماجة (119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اہل عرب کا یہ طریقہ تھا کہ نقض عہد یا صلح کی تنفیذ کا اعلان جب تک قوم کے سردار یا اس کے کسی خاص قریبی فرد کی طرف سے نہ ہوتا وہ اسے قبول نہ کرتے تھے ، اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر (رض) کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا اور پھر بعد میں اللہ کے اس فرمان «إنما المشرکون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا» (سورة التوبة : 28 ) کے ذریعہ اعلان برأت کی خاطر علی (رض) کو بھیجا تو آپ نے علی کی تکریم میں اسی موقع پر یہ بات فرمائی : «علی منی و أنا من علی و لا یؤدی عنی الا أنا أو علی»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٩) (تحفة الأشراف : ٣٢٩٠) ، و مسند احمد (٤/١٦٤، ٩٥) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ اور ابواسحاق سبیعی مدلس وصاحب اختلاط راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة رقم ١٩٨٠، وتراجع الالبانی ٣٧٨)
3720Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی (رض) روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ established ties of fraternity between his companions, Ali (RA) came to him with weeping eyes. He said, “O Messenger of Allah, you have joined ties of brotherhood between your sahabah but you have not joined me in brotherhood with anyone.” Allah’s Messenger ﷺ said to hun, “You are my brother in this world and the next.”

ضعيف، المشکاة (6084) // ضعيف الجامع الصغير (1325) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٦٧٧) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف رافضی ہے)
3721Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ، وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزَائِدَةُ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ had bird meat once. He said, “O Allah, send to me from Your creatures one who is dearest to You that he may eat with me this bird. So, Ali came to him and ate with him.

ضعيف، المشکاة (6085)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3721
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ٤- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٢٨) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
3722Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے (دینے میں یا بولنے میں) ۔

Abdullah ibn Amr ibn Hind al-Jamali reported that Ali said, “When I asked Allah’s Messenger ﷺ for anything, he gave me. When I said nothing, he began (to give) with me.

ضعيف، المشکاة (6086)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3722
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی (رض) سے سماع نہیں ہے، یعنی : سند میں انقطاع ہے)
3723Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ مُنْكَرٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ وَاحِدٍ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ شَرِيكٍ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔

Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger said, “I am the house of wisdom and Ali is its gate.’

ضعيف، المشکاة (6087) // ضعيف الجامع الصغير (6087) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٠٩) (موضوع) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں اور شریک کے سوا کسی نے سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس سے پتہ چلا کہ سند میں انقطاع بھی ہوا ہے، اس حدیث پر ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے موضوع کا حکم لگایا ہے، ابن تیمیہ کہتے ہیں : یہ حدیث ضعیف بلکہ عارفین حدیث کے یہاں موضوع ہے، لیکن ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے بایں ہمہ یہ جھوٹ ہے، اس حدیث کی مفصل تخریج ہم نے اپنی کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ میں کی ہے حدیث نمبر ٣٧٦)
3724Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ ؟ قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ وَخَلَفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَخْلُفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا ، فَأَتَاهُ وَبِهِ رَمَدٌ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، فَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61 الْآيَةَ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب (علی) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا : جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو علی (رض) سے فرماتے ہوئے سنا ہے (آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی (رض) نے کہا تھا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ١ ؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا : علی کو بلاؤ، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چناچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم» اتری۔ تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqas (RA) narrated: Mu’awiyah ibn Abu Sufyan (RA) ordered Sa’d and asked, “What prevents you from reviling Abu Turab.” He said, “As long as I remember three things that Allah’s Messenger had said I will not speak against him, for, even each of them is dearer to me than red camels. I heard Allah’s Messenger ﷺ say (this) to Ali while he had left him behind in one of his battles. All said to him, “O Messenger of Allah ﷺ do you leave me behind with women and children?” He said to him, ‘Does it not please you that you be to me of the rank of Harun to Musa except that there is no prophethood after me.” And I heard him say on the day of Khaybar, “I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him. We all hoped to receive that. But, he sent for Ali and he came. He had pain in his eyes. The Prophet ﷺ put his saliva in them and handed over the banner to him. Then Allah gave us victory at his hands and revealed this verse We will summon our sons and your sons, and our women and your women. (3:61) Allah’s Messenger ﷺ summoned Ali, Fatimah, Hasan and Husayn (RA) and said, “O Allah, these are my family.” [Muslim 2404]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3724
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ علی (رض) کے آپ ﷺ سے نہایت قریب ہونے کی دلیل ہے ، نیز یہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل ہے۔ ٢ ؎ : اس آیت مباہلہ میں جن لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کا اہل مراد لیا گیا ان میں علی (رض) بھی شامل کئے گئے ، «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة : ٤) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٦) ، والمغازي ٧٨ (٤٤١٦) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٤/٣٢) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢١) ، ( تحفة الأشراف : ٣٨٧٢) ، و مسند احمد (١/١٧٠، ١٧٧) (صحیح)
3725Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَقَالَ: إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ ، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

براء (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب (رض) کو اور دوسرے کا خالد بن ولید (رض) کو بنایا اور فرمایا : جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چناچہ علی (رض) نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے (مال غنیمت میں سے) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد (رض) نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ ﷺ سے علی (رض) کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں : چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہوگیا پھر آپ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہوگئے۔

Sayyidina Bara (RA) narrated: The Prophet ﷺ sent two armies. He appointed Ali ibn Abu Talib as commander over one and Khalid ibn Walid (RA) over the other, saying, “When fighting erupts Ali (RA) (will be the commander).” Ali conquered the fort and seized a female captive (for himself). So Khalid sent me with a Letter to the Prophet ﷺ with the Complaint. I went to the Prophet ﷺ who read the letter and the colour of his face changed. Then he said, “What do you say of a man who loves Allah and His Messenger and Allah and Hid Messenger love him.” I said, “I seek refuge in Allah from Allah’s anger and from the anger of His Messenger, for, I am only a carrier of message.” He did not say anything (after that).

ضعيف الإسناد ومضی برقم (1756) // (286 / 1772) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3725
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم : ١٧٠٤ (ضعیف الإسناد)
3726Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَجْلَحِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا، عَنِ الْأَجْلَحِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَكِنَّ اللَّهَ انتجاه يَقُولُ: اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ طائف کے دن علی (رض) کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے : آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ called Sayyidina (RA) during the Battle of Ta’if and confided with him. The people said, “The confiding has lengthened with the son of his uncle.” Allah’s Messenger ﷺ said, “I have not had secret talk with him, but Allah has had secret talk with him.”

ضعيف، المشکاة (6088) ، الضعيفة (3084) // ضعيف الجامع الصغير (5022) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3726
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ٢- آپ کے قول بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٦٥٤) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
3727Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل هَذَا الْحَدِيثَ فَاسْتَغْرَبَهُ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : علی ! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے ۔

Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to Ali, “O Ali, it is not allowed to anyone to be in a state of seminal impurity in this mosque, except for me and you.” Alii ibn Mundhir said that he asked Dirar ibn Surad the meaning of this hadith. He said, “It is not allowed to anyone except me and you to make it a thoroughfare in a defiled state”

ضعيف، المشکاة (6089) ، الضعيفة (4973) // ضعيف الجامع الصغير (6402) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3727
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- علی بن منذر کہتے ہیں : میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ٣- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑگئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٠٣) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور سالم بن ابی حفصہ غالی شیعہ ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
3728Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ was commissioned on Monday and Ali (RA) ofered salah on Tuesday.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3728
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٢- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن عابس اور مسلم بن کیسان اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)
3731Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.

سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ali “You are to me like Harun was to Musa.” (except that there is no Prophet ﷺ after me).” [Muslim 2404, Ahmed 1547]

صحيح، ابن ماجة (121)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3731
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ٣- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٣٠ (صحیح)
3730Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے علی (رض) سے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (اور ہارون (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے) ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ali (RA), “You are to me like Harun was to Musa, but that there is no Prophet ﷺ after me.”

صحيح بما قبله (3729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3730
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٣٧٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں، مگر سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث (٣٧٢٤) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
3732Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی (رض) کے دروازے کے علاوہ (مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ commanded that all doors should be closed (that opened in the mosque) except the door of Ali.

صحيح الضعيفة تحت الحديث (4932 و 4951)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مناقب ابی بکر (رض) میں یہ حدیث گزری کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کردینے کا حکم دیا ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے ، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی (رض) کے بند کردینے کا حکم ہوا ، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشندان کھول لیے اور نبی اکرم ﷺ کے مرض کے ایام میں آپ نے ابوبکر (رض) کے روشندان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کردیئے ، ( یہ روشندان اوپر بھی ہوتے تھے اور نیچے بھی ، نیچے والے سے لوگ آمدورفت بھی کرتے تھے ، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہوجانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کردیا تھا ، «کما فی کتب مشکل الحدیث»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٣١٤) (صحیح)
3733Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ، وَأَبَاهُمَا، وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا ۔

Sayyididina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: The Prophet ﷺ held the hands of Hasan and Husayn and said, ‘He who loves me, loves these two, their father and their mother will be with me at my place on the Day of Resurrection.

ضعيف، الضعيفة (3122) ، تخريج المختارة (392 - 397) // ضعيف الجامع الصغير (5344) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3733
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٧٣) ، و مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (سند میں علی بن جعفر مجہول ہیں، اور حدیث کا متن منکر ہے، ملاحظہ ہو الضعیفة رقم : ٣١٢٢)
3734Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی (رض) ہیں۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the one who was the first to offer salah was Ali.

صحيح الضعيفة تحت الحديث م (4932)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ٢- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی (رض) ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے : بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر (رض) ہیں اور علی (رض) جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ (رض) ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور یہی قول سب سے بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٦٣١٥) (صحیح)
3735Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ.

زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی (رض) ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا : سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔

Sayyidin Zayd ibn Arqam (RA) reported that the first to believe was Ali Amr ibn Murrah said that he mentioned that to Ibrahim Nakha’i and he denied that, saying, “The first person who believed was Ali bin Talib”

صحيح الإسناد عن زيد، متصل عن النخعیصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3735
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٣٦٦٤) (صحیح)
3736Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی امی ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے ١ ؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں : میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی ٢ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) narrated: Indeed, the Prophet ﷺ the unlettered Prophet ﷺ asserted to me, “None will love you except a believer and none will despise you but a hypocrite.” Adi ibn Thabit said, “I belong to the generation for whom the Prophet ﷺ prayed.” [Muslim 78, Ibn e Majah 114, Nisai 5033, Ahmed 1062J

صحيح، ابن ماجة (114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3736
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے ، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر (رض) سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہوگی ، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے ، تو صرف علی (رض) سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے ، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان (رض) سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ٢ ؎ : یعنی : ارشاد نبوی اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے ، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی (رض) سے محبت رکھتا ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨) ، سنن النسائی/الإیمان ١٩ (٥٠٢١) ، و ٢٠ (٥٠٢٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤) (تحفة الأشراف : ١٠٠٩٢) و مسند احمد (١/٨٤، ٩٥) (صحیح)