Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 182 of 199

3696Sunan At-Tirmidhi(3697)صحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ٹھہرا رہ اے احد ! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik, narrated that Allah’s Messenger ﷺ climbed the (mountain) Uhud, Abu Bakr (RA) , Umar and Uthman (RA) were with him. The mountain shook while they were on top of it. So, the Prophet ﷺ said, “Steady, Uhud, For, on you are a Prophet, a Siddiq (truthful), and two shahids.” (shahids is marhjrs). (Ahmed 12107, Bukhari 3686, Abu Dawud 4651]

صحيح، الصحيحة (875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3697
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : دو شہید سے مراد : عمر و عثمان (رض) ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا منکر اپنے ایمان کی خیر منائے۔ وہ مومن کہاں مسلمان بھی نہ رہا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٥) ، و ٦ (٣٦٨٦) ، و ٧ (٣٦٩٩) ، سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٥١) (تحفة الأشراف : ١١٧٢) ، و مسند احمد (٣/١١٢) (صحیح)
3697Sunan At-Tirmidhi(3696)صحیح

حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر (رض) حرا پہاڑ ١ ؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں ۔

Syyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger was atop (Mount) Hira, Abu Bakr (RA) Umar (RA) Uthman (RA) Ali , Talhah and Zubayr (RA), were with him. The rock vibrated and the Prophet ﷺ said, “Calm down, for, on you are none but a Prophet ﷺ or a Siddiq (truthful), or a Shahid (martyr).” [Muslim 2417, Ahmed 9430]

صحيح، الصحيحة (2 / 562)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3696
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ ( باب مناقب ابی بکر ) اور ( باب مناقب عثمان ) میں احد پہاڑ کا تذکرہ ہے ، حافظ ابن حجر کے بقول : یہ دو الگ الگ واقعات ہیں ، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٧) (تحفة الأشراف : ١٢٧٠٠) (صحیح)
3698Sunan At-Tirmidhiضعیف

حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ، وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے ۔

Sayyidina Talhah ibn Ubaydullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is for every Prophet, a frinend. And, my friend meaning, in paradise is Uthman.”

ضعيف، ابن ماجة (109) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (21) عن أبي هريرة، بسند آخر، ضعيف الجامع الصغير (4738) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3698
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩٩٦) (ضعیف) (اس کی سند میں زہری شیخ مبہم ہے، اور سند میں انقطاع ہے، اس لیے کہ حارث بن عبدالرحمن الدوسی المدنی کی وفات (١٤٦ ھ) میں ہوئی اور طلحہ بن عبیداللہ کی شہادت (٣٦ ھ) میں ہوئی، اور وہ طلحہ بن عبیداللہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، نیز یحییٰ بن الیمان صدوق راوی ہیں، لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، اور حافظہ میں تغیر بھی آگیا تھا)
3699Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ: مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ ، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ.

ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ حرا ٹھہرے رہو ! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں ؟ ، ان لوگوں نے کہا : ہاں، پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سلسلے میں فرمایا تھا : کون (اس غزوہ کا) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا (اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے) تو میں نے (خرچ دے کر) اس لشکر کو تیار کیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کردیا ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ١ ؎۔

Abu Abdur Rahman as-Sulami reported that when Uthman (RA) was besieged, he appeared before them on the roof of his house and said, “I remind you by Allah do you recall that when Hira shook, Allah’s Messenger ﷺ said, “Steady, Hira!, There is none on you but a Prophet, or a Siddiq (truthful), or a Shahid (martyr)?” They affirmed “Yes.” He said, “I remind you by Allah do you remember that Allah’s Messenger said at the time of (the Battle of Tabuk for the illequipped army, ‘Who will spend a spending that is approved?’ The people were striving in dificulty and I equipped that army?” They confirmed, “Yes!” Then he said, “I remind you, by Allah do you recall thait was not possible to get a drink from the well Rumah except against a price, so I bought it and made it availal?le to the rich and the poor and the traveller?” They affirmed, “O Allah, yes!” And other things that he conted out. [Bukhari 2775, Nisai 3608]

صحيح، ابن ماجة (109)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3699
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان (رض) نے انجام دیئے ، یہ آپ کی اسلام میں عظیم مقام و مرتبے کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٣٣ (تعلیقاً ) ، سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٩) (تحفة الأشراف : ٩٨١٤) ، و مسند احمد (١/٥٩) (صحیح)
3700Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَاالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ ثَلَاثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.

عبدالرحمن بن خباب (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان (رض) کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں ۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Khabbab (RA) narrated: I observed the Prophet ﷺ while he was encouraging (people) for the army illequipped (for the Battle of Tabuk). Uthman (RA) ibn Affan stood up and said, “O Messenger of Allah! ﷺ On me are a hundred camels loaded with their cloths and saddles in the path of Allah.” He continued to urge the people forward and Uthman (RA) got up and said, “O Messenger of Allah, I am bound to provide two hundred camels with their cloths and saddles in Allah’s path.” As the Prophet ﷺ carried on his appeal, Uthman ibn Affan (RA) got up again and said, “O Messenger of Allah’ On me are three hundred camels with their cloth, and saddles in Allah’s path.” I observed Allah’s Messenger ﷺ get down from the pulpit, saying the while, “Nothing against Uthman whatever he does after this. Nothing against Uthman whatever he does after this.” [Ahmed 16696]

ضعيف، المشکاة (6063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3700
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٩٤) (ضعیف) (سند میں فرقد ابو طلحہ مجہول راوی ہیں)
3701Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ: وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ عثمان (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں : دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم ﷺ کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا ، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Samurah (RA) narrated: Uthman (RA) came to the Prophet ﷺ with a thousand dinar. Hasan ibn Waqi said that elsewhere in his book (it was written) that he brought the one thousand dinar during the Battle of Tabuk rolled up in his sleeves and put them in the Prophet’s lap. Abdur Rahman went on to say, “I saw the Prophet ﷺ turn the money upside down in his lap and say, ‘Nothing will harm Uthman after today whatever he does.’ (twice).” [Ahmed 20655]

حسن، المشکاة (6064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3701
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٦٩٩) (حسن)
3702Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَبَايَعَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ ، فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بیعت رضوان ١ ؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان (رض) رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when Allah’s Messenger (RA) gave the command (to swear allegiance) for bay’ah Ridwan, Uthman ibn Affan was the envoy of Allah’s Messenger ﷺ to the people of Makkah. So the people gave the pledge. Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed Uthman is in the task of Allah and the task of His Messenger.” He struck one of his hands on his other hand. O Indeed, the hand of Allah’s Messenger ﷺ for Uthman was better than their (people’s) hands for themselves. [Abu Dawud 2726]

ضعيف، المشکاة (6065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے سال ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی ، یہ بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ خبر اڑ گئی کہ کفار مکہ نے عثمان کو قتل کردیا ہے ، اس پر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا ہے ، اس پر سب لوگوں سے بیعت لی گئی کہ کفار مکہ سے اس پر جنگ کی جائے گی ، سب لوگ اس عہد پر جمے رہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٥٥) (ضعیف) (سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف راوی ہیں)
3703Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وغير واحد المعنى واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمَنْقَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، قَالَ: فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ؟ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، قَالَ: فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ.

ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان (رض) نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا : تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چناچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان (رض) نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا ؟ ، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا (کھارا) پانی پی رہا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا : میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہوگئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا ؟ ، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا : ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر (رض) تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا : ٹھہر اے ثبیر ! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں ، لوگوں نے کہا : ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا : اللہ اکبر ! قسم ہے رب کعبہ کی ! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔

Thumamah ibn Hazn al-Qusjiayri narrated: I was present at the house when Uthman (RA) appeared before the people. He said, “Bring your two friends who have put you against me.” So, they were brought as if they were two camels or two donkeys. Uthman turned to them and said, “I adjure you by Allah and Islam, do you know that when Allah’s Messenger ﷺ came to Madinah and there was no fresh water except at Bi’r (well) Ruma and he said, ‘Who will buy the well Ruma and let Muslims put down it their backets for a better one than that for him in paradise?’ So, I bought it from my capital. But, today, you are preventing me that I may drink from it so that I have to drink salty water.” They affirmed, “O Allah, Yes!” Then he said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that the Mosque had grown crowded for its worshippers? So Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Who will buy the plot of such-and-such family and add it to the Mosque for a better one than that for him in paradise.” So, I bought it with my capital while you people deny me access to it today that I may pray two raka’at there.” They acknowledged, “O Allah, Yes!” He said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that I equipped the ill equipped army (for Tabuk) with my capital?” They acknowledged, “O Allah, yes!” He said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that Allah’s Messenger ﷺ was on the top of the muantain Thabir at Makkah and with him were Abu Bakr, Umar and myself? The mountain shook till its stones fell down with rapidity, He kicked it with his foot and said, ‘Stop, Thabir! On you is a Prophet, a Saddiq, two Shahids.” They affirmed, “O Allah, yes.’ He said “Allah Akbar (Allah is the Greatest)! They have testified for me, by the Lord of the Ka’bah, I am a Shahid (martyr)!” (He said that) three times. [Nisai 3686]

حسن، الإرواء (1594)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3703
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٨) (تحفة الأشراف : ٩٧٨٥) (حسن) (الإرواء ١٥٩٤، وتراجع الألبانی ٥٩٤)
3704Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: هَذَا، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ.

ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب (رض) کہا جاتا تھا، اس نے کہا : اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ ﷺ سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا : یعنی نبی اکرم ﷺ کا قول نقل کیا : یہ اس دن ہدایت پر ہوگا ، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان (رض) ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا : وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا : ہاں وہ یہی ہیں۔

Abu Ash’ath San’ani narrated: The sermonisers stood up in Syria and among them were some of the sahabah . Finally, a man named Murrah ibn Ka’b (RA) stood up and said, “If I had not heard a hadith from the Prophet ﷺ would not have stood up.” And he mentioned the fitan (trial or civilstrife), saying that it was nearing. A man passed by with a piece of cloth wrapped on his face. So he said, “He will be on guidance on that day.” So, I went to him and indeed he was Uthman ibn Affan . Then I turned to Murrah (RA) and asked, “Is he the one?” He said, “Yes.” [Ahmed 20374]

صحيح، ابن ماجة (111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3704
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٢٤٨) (صحیح)
3705Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عثمان ! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ١ ؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا ، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that the Prophet ﷺ said (to Uthman), “ Uthman, perhaps Allah may clothe you with a shirt. So, if people try to take it away from you, do not remove it for them.” (There is a lengthy account in the hadith). [Ahmed 25216, Ibn e Majah 112]

صحيح، ابن ماجة (112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس کرتے سے مراد خلعت خلافت ( خلافت کی چادر ) ہے ، مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیونکہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے ، اللہ کے رسول کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان (رض) نے شہادت کا جام پی لیا۔ لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١١) (تحفة الأشراف : ١٧٦٧٥) (صحیح)
3707Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں کہتے تھے : ابوبکر، عمر، اور عثمان ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: While Allah’s Messenger ﷺ was alive, we used to say Abu Bakr, Umar and Uthman (in this sequence). [Bukhari 3655, Abu Dawud 4628]

صحيح، المشکاة (6076)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3707
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ان کا ذکر آتا تو ہم اسی ترتیب سے ان کا نام لیتے تھے پہلے نمبر پر ابوبکر کا نام رکھتے تھے ، پھر عمر کا پھر عثمان کا ( (رض) ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٤ (٣٦٥٥) ، و ٧ (٣٦٩٧) ، سنن ابی داود/ السنة ٨ (٤٦٢٧) (تحفة الأشراف : ٧٨٢٠) (صحیح)
3708Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، فَقَالَ: يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا : اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا (یہ بات آپ نے عثمان (رض) کے متعلق کہی) ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ mentioned a fitnah (trial), He said, “This innocent one will be killed in that. “Referring to Uthman ibn Affan. [Ahmed 5960]

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3708
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن عمر (رض) کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣٨٣) (حسن الإسناد)
3706Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالُوا: قُرَيْشٌ، قَالَ: فَمَنْ هَذَا الشَّيْخُ ؟ قَالُوا: ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ مَا سَأَلْتَ عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ، أَوْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلُفَ عَلَيْهَا وَكَانَتْ عَلِيلَةً، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَ عُثْمَانَ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ، وَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ لِعُثْمَانَ، قَالَ لَهُ: اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا : یہ کون شیخ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر (رض) ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا : میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان (رض) احد کے دن بھاگے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، پھر اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا : ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ١ ؎، اس پر ابن عمر (رض) نے اس سے کہا : آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں : رہا ان (عثمان) کا احد کے دن بھاگنا ٢ ؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کردیا اور بخش دیا ہے ٣ ؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا : تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہوگا ، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان (رض) کی جگہ رسول اللہ ﷺ اسی کو بھیجتے، رسول اللہ ﷺ نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کا ہاتھ ہے ، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے ، تو ابن عمر (رض) نے اس سے کہا : اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔

Uthman ibn Abdullah ibn Mawhab reported that a man from Egypt performed Hajj. He saw some men sitting and asked, “Who are they?” The people said, “They are the Quraysh.” He asked, “Who is this shaykh?” They said, “He is Ibn Umar (RA) .” So, he came to him and said, “I am going to ask you about something, so tell me, I adjure by Allah and by the sanctity of this House. Do you know that Uthman fled from the Battle of Uhud?” He said, “Yes.” The man asked, “Do you know that he absented himself from the Bay’ah Ridwan and did not witness it?” He said, “Yes.” The man asked, “Do you know that he kept away from the Battle of Badr and did not participate?” He said, “Yes.” The man exclaimed, “Allah Akbar (Allah is the Greatest).” Ibn Umar (RA) said to him. “Stay till I explain to you what you have asked about. As for fleeing from the Battle of Uhud, I bear witness that. Allah surely overlooked and forgave him. As for absenting himself from the Battle of Badr, he had the Prophet’s ﷺ daughter as his wife and he had said to him, ‘You will get a reward of one who participated in Badr and the booty too.’ He commanded him to give her company, she being sick. As for keeping away from Bay’ah Ridwan, if there was anyone more honourable in the Makkah valley than Uthman then Allah’s Messenger ﷺ would have sent him in place of Uthman. Allah’s Messenger L sent him to Makkah and the Bay’ah Ridwan was taken after Uthman had gone to Makkah. Allah’s Messenger ﷺ said about his right hand, ‘This is Uthman’s hand,’ and struck with it his left hand, saying, This is for Uthman.’ So, go now, this being with you.” [Bukhari 3698, Abu Dawud 2726, Ahmed 5776

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3706
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ شیعی آدمی تھا جو عثمان (رض) سے بغض رکھتا تھا ، اسی لیے ان تینوں باتوں پر اللہ اکبر کہا ، یعنی : جب ان میں یہ تینوں عیب ہیں تو لوگ ان کی فضیلت کے کیوں قائل ہیں۔ ٢ ؎ : یہ اشارہ ہے غزوہ احد سے ان بھاگنے والوں کی طرف جو جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کے بعد میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے ، ان میں عثمان (رض) بھی تھے۔ ٣ ؎ : اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی اس آیت میں نازل کی تھی «ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» (سورة آل عمران : 155 ) پوری آیت اس طرح ہے «إن الذين تولوا منکم يوم التقی الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» یعنی : تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تھی ، یہ لوگ اپنے بعض گناہوں کے باعث شیطان کے بہکاوے میں آ گئے ، لیکن یقین جانو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ، اللہ تعالیٰ ہے ہی بخشنے والا اور تحمل والا ( آل عمران : 155 ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ١٤ (٣١٣٠) (بعضہ) وفضائل الصحابة ٧ (٣٦٩٨) ، والمغازي ١٩ (٤٠٦٦) (تحفة الأشراف : ٧٣١٩) (صحیح)
3709Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَاكَ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ هَذَا ؟ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ يَبْغَضُ عُثْمَانَ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ جِدًّا، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، وَيُكْنَى: أَبَا الْحَارِثِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ ثِقَةٌ، يُكْنَى: أَبَا سُفْيَانَ شَامِيٌّ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو ؟ آپ نے فرمایا : یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کردیا ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that funeral of a man was brought before the Prophet ﷺ that he may lead the funeral salah. But, he did not pray over it. Someone said, “ O Messenger of Allah, we have never seen you neglect the salah over anyone before this.”He said,” He bore hatred for Uthman. so Allah is angry with him.”

موضوع، الضعيفة (1967) // ضعيف الجامع الصغير (2073) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3709
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ١ ؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ (رض) کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور اس سند میں یہی محمد بن زیاد ہیں ، ان کی نسبت ہی میمونی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٩٤٣) (موضوع) (سند میں محمد بن زیاد الیشکری الطحان کذاب ہے)
3805Sunan At-Tirmidhi(3810)صحیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي: يَا أَبَا مُوسَى أَمْلِكْ عَلَيَّ الْبَابَ فَلَا يَدْخُلَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَضْرِبُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَدَخَلَ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ.

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : ابوموسیٰ ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے ، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : انہیں آنے دو ، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا : کون ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر ہوں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا : کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : عثمان ہوں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا : ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو ، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa al-Ash’ary (RA) narrated : I went with the Prophet ﷺ and enterred a garden of an ansar. He answered nature’s call there and said to me, afterwords, “O Abu Musa, stay at the gate for me that no one may come to me without permission.” A man came and knocked at the door. i asked, “Who is there?” He said, “Abu Bakr.” I said “O Messenger of Allah! ﷺ He is Abu Bakr (RA) seeking permission.” He said, “Give him permission and give him glad tidings of paradise.” So he enterred and I gave him glad tidings of Paradise. Another man came and knocked at the gate and I asked, “Who is there?” He said, “Umar.” I said, “O Messenger of Allah, here is Umar asking permission.” He said, “Open (the gate) for him and give him glad tidings of paradise.” So, I opened (the gate) and he came in and I conveyed to him the glad tidings of paradise. Another man came and knocked at the gate and I asked, “Who is there?” He said, “Uthman.” I said, “O Messenger of Allah. here is Uthman, seeking permission (to come in).” He said, “Open for him the door and give him glad tidings of paradise against a rebellion that he will encounter.” [Ahmed 19662, Bukhari 3674, Muslim 2403]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ٣- اس باب میں جابر اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان (رض) اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا ، نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ، اور یہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٤) ، و ٦ (٣٦٩٣) ، و ٧ (٣٦٩٥) ، والأدب ١١٩ (٦٢١٦) ، والفتن ١٧ (٧٠٩٧) ، وخبر الواحد ٣ (٧٢٦٢) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣ (٢٤٠٣) (تحفة الأشراف : ٩٠١٨) ، و مسند احمد (٤/٣٩٣، ٤٠٦، ٤٠٧) (صحیح)
3711Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِيأَبُو سَهْلَةَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ.

ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان (رض) نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ١ ؎۔

Abu Sahlah reported: When Uthman was beseiged in his house, he said to me,”Surely Allah’s Messenger ﷺ had taken a promise from me. So, lam patient over it.

صحيح، ابن ماجة (113)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3711
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس عہد سے مراد یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ تم کو ایک کرتا پہنائے گا ، لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں گے ، تو مت اتارنا ، ( اس سے خلافت کا کرتا مراد ہے ) اسی لیے عثمان شہید (رض) ہوگئے مگر خلافت سے دستبردار نہیں ہوئے کیونکہ آپ بفرمان رسالت مآب حق پر تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٣) (تحفة الأشراف : ٩٨٤٣) (صحیح)
3712Sunan At-Tirmidhiصحیح

مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ جَارِيَةً، فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ، وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.

عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (لشکر) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی (رض) کو مقرر کیا، چناچہ وہ اس سریہ (لشکر) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کرلیا ١ ؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چناچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیرلیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیرلیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو ؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ١ ؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا ۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ sent an army and appointed an amir, Ali ibn Abu Talib over them. They were a sariyah. He took a female captive from the booty. The people disliked that and four of the sahabah resolved to inform Allah’s Messenger ﷺ of what Ali ibn Abu Talib (RA) did, on meeting him. The Muslims used to meet Allah’s Messenger first thing on returning home from a journey, and then go to their homes. Thus, when this sariyah returned, they greeted the Prophet ﷺ One of the four stood and said, “O Messenger, of Allah, do you know that Ali ibn Abu Talib did this-and-that.” Allah’s Messenger turned his face away from him. Then the second stood up and spoke as the first had, and he turned away from him.Then the third stood and spoke similar words, and he turned his face away from him. Then, the fourth stood and spoke like they had spoken. Allah’s Messenger ﷺ turned to him and anger was obvious on his face. He said, ‘What do you expect from Ali? What do you expect from Ali. Ali is from me and I from him and he is the wali (friend or guardian), of all Muslims after me.”

صحيح، الصحيحة (2223)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3712
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ لونڈی مال غنیمت میں سے تھی ، تو لوگوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ ابھی مال غنیمت کی تقسیم تو عمل میں آئی نہیں ، اس لیے یہ مال غنیمت میں خردبرد کے ضمن میں آتا ہے ، یا اس لیے اعتراض کیا کہ مال غنیمت کی لونڈیوں میں ضروری ہے کہ پہلے ایک ماہواری سے ان کے رحم کی صفائی ہوجائے ، اور علی (رض) نے ایسا نہیں کیا ہے ، یہ بات تو علی (رض) سے بالکل بعید ہے کہ استبراء رحم ( رحم کی صفائی ) سے پہلے لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھیں ، ہوا یہ ہوگا کہ ایک دو دن کے بعد ہی وہ ماہواری سے فارغ ہوئی ہوگی ، تو اب مزید ماہواری کی تو ضرورت تھی نہیں۔ ٢ ؎ : اس جملہ سے اہل تشیع کا یہ استدلال کرنا کہ علی (رض) سارے صحابہ سے افضل ہیں درست نہیں ہے کیونکہ کچھ اور صحابہ بھی ہیں جن کے متعلق آپ نے یہی جملہ کہا ہے ، مثلاً جلیبیب کے متعلق آپ نے فرمایا : «ہذا منی و أنا منہ» اسی طرح اشعریین کے بارے میں آپ نے فرمایا : «فہم منی و أنا منہم» یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم کی ہیں ، مسند احمد میں ہے : آپ ﷺ نے بنی ناجیہ کے متعلق فرمایا : «أنا منہم وہم منی»۔ نیز اس سے یہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ علی مجھ سے ہیں کا مطلب ہے : علی آپ کی ذات ہی میں سے ہیں ، اس سے مراد ہے : نسب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٠٨٦١) ، و مسند احمد (٤/٤٣٧-٤٣٨) (صحیح)
3713Sunan At-Tirmidhiصحیح

مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوسریحہ یا زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sarihah (RA) or Zayd ibn Arqam-Shubah is uncertain about it-reported that the Prophet ﷺ said, “He of whom I am a friend, Ali is his friend.”

صحيح، الصحيحة (1750) ، الروض النضير (171) ، المشکاة (6082)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3713
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ ﷺ کے اس فرمان : «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» کا ایک خاص سبب ہے ، کہا جاتا ہے کہ اسامہ (رض) نے جب علی (رض) سے یہ کہا : « لست مولای إنما مولای رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے «من کنت مولاہ فعليّ مولاہ» کہا ، امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد «ولاء الإسلام» یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چارگی ہے ، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی (رض) نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حقدار تھے ، صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٣٢٩٩) ، و ٣٦٦٧) ، و مسند احمد (٤/٣٦٨، ٣٧٢) (صحیح)
3714Sunan At-Tirmidhiضعیف

مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ، وَحَمَلَنِي إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ، وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ، رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ، وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الْحَقُّ، وَمَا لَهُ صَدِيقٌ، رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ، رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ، وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کردی اور مجھے دارلہجرۃ (مدینہ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے (خرید کر) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ (اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں ۔

Sayyidina Ali narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah have mercy on Abu Bakr. He married his daughter to me, brought me to the dar-ul-hijrah (Madinah) and emancipated Bilal (RA) with his wealth. May Allah have mercy on Umar. He speaks the truth even if it be bitter. Truthfulness has left him without friends. May Allah have mercy on Uthman! The angels show modesty to him. May Allah have mercy on Ali! O Allah, let truth be with him wherever he is.”

ضعيف جدا، الضعيفة (2094) ، المشکاة (6125) // ضعيف الجامع الصغير (3095) بأتم من هنا //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3714
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ٣- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١٠٧) (ضعیف) (سند میں مختار بن نافع ضعیف اور ساقط راوی ہیں، الضعیفة ٢٠٩٤)
3715Sunan At-Tirmidhiضعیف

مناقب حضرت علی بن ابی طالب (رض) آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، بِالرَّحَبَةِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْكَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا، وَإِخْوَانِنَا، وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا، فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ بِالسَّيْفِ عَلَى الدِّينِ، قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَى الْإِيمَانِ ، قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَقَالَ عُمَرُ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَمْ يَكْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ كَذْبَةً، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، يَقُولُ: مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.

ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب (رض) نے «رحبیہ» (مخصوص بیٹھک) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے گروہ قریش ! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا : وہ کون شخص ہے ؟ اللہ کے رسول ! اور آپ سے ابوبکر (رض) نے بھی پوچھا : وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ اور عمر (رض) نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی (رض) کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، (راوی کہتے ہیں) پھر علی (رض) ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib said at Rahbah: During the peace of Hudaybiyah, a number of idolators came to us. Suhayl ibn Amr and other chiefs were among them. They said, “O Messenger of Allah, many people have come to you from our children, our brothers and our slaves. And they have no understanding of religion. They have only escaped from our wealth and our properties. So, return them to us. If they lack an understanding of religion, we shall make them understand.” So, the Prophet ﷺ said, “O company of Quraysh, desist! If not then Allah will impose on you such people as will strike your necks with swrlds for religion. Allah has tried their hearts for faith.” They asked, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ”. Abu Bakr (RA) asked him, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ” And Umar (RA) asked, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “He is the one who mends sandals,” and he had given his sandals to Ali to mend them. Then Ali turned to them and said : Allah’s Messenger said, “If anyone forges a lie on me intentionally then let him find his place in Hell.” [Bukhari 106, Muslim 2, Ibn e Majah 31]

ضعيف الإسناد، لکن الجملة الأخيرة منه صحيحة متواترة انظر الحديث (2796) // صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - (2141 / 2809) ، وصحيح سنن النسائي - باختصار السند - 2141 - 2809) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، ٢- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ٣- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا : منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ١٣٦ (٢٧٠٠) ، وانظر أیضا حدیث رقم ٢٦٦٠ (تحفة الأشراف : ١٠٠٨٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا آخری لفظ ” من کذب … “ دیگر سندوں سے صحیح متواتر ہے، ملاحظہ ہو : حدیث نمبر (٢٦٦٠، اور ٢٦٥٩، اور ٢٦٦١)