Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 181 of 199

3676Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی : مجھے بتائیے اللہ کے رسول ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں ؟ (تو کس کے پاس جاؤں) آپ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا ١ ؎۔

Sayyidina Jubayr ibn Mut’im (RA) reported that a woman came to Allah’s Messenger ﷺ and spoke to him about something. He gave her some instructions, but she asked, ‘What do you say, O Messenger of Allah, if I do not find you?” He said, “If you do not find me, go to Abu Bakr.” [Ahmed 16755, Bukhari 3659, Muslim 2386]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3676
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس میں آپ ﷺ کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر (رض) کے ہونے کی پیشین گوئی ، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٥٩) ، والأحکام ٥١ (٧٢٢٠) ، والاعتصام ٢٥ (٧٣٦٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٦) (تحفة الأشراف : ٣١٩٢) (صحیح)
3678Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ . هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہ نبی اکرم ﷺ نے (مسجد کی طرف کھلنے والے) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر (رض) کے دروازہ کے۔

Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ commanded that all the doors should be closed up except the door of Abu Bakr.

صحيح انظر الحديث (3922)
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ٢- اس باب میں ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٤١٠) (صحیح)
3679Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا. هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Abu Bakr (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ who said, ‘You are Atiq of Allah from the hell.” Since that day, he was named Atiq

صحيح، المشکاة (6022 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسیٰ بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٩٢١) (صحیح) (الصحیحة ١٥٧٤)
3680Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى: أبا إدريس وهو شيعي.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر (رض) ہیں ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri narrated: Allah’s Messenger said, “There is no Prophet ﷺ without two ministers from the dwellers of the heavens and two ministers from the inhabitants of the earth. As for my heavenly ministers they are Jibril and Mika’il and my ministers from earth are Abu Bakr (RA) and Umar.

ضعيف، المشکاة (6056) // ضعيف الجامع الصغير (5223) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا (اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے) ٣- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس کے باوجود ابوبکر و عمر (رض) کی منقبت میں حدیث روایت کی ، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ، «الفضل ما شہدت بہ أعداء»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤١٩٦) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں)
3677Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ: لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں (یہ کہہ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے ، واللہ اعلم ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “While a man mounted a cow to ride it, it remarked, “I was not created for this. I am created to plough the fields.’ I have believed in that and Abu Bakr (RA) and Umar.” Abu Salamah (RA) said that both of them were not among the people that day. [Ahmed 8972, Bukhari 2324, Muslim 2388]

صحيح، الإرواء (247) صحيح، الإرواء (247)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3677 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3677
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اللہ کے رسول ﷺ کو ان دونوں کے سلسلہ میں اتنا مضبوط یقین تھا کہ جو میں کہوں گا وہ دونوں اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے ، اسی لیے ان کے غیر موجودگی میں بھی آپ نے ان کی طرف سے تصدیق کردی ، یہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث والمزارعة ٤ (٢٣٢٤) ، وأحادیث الأنبیاء ٥٢ (٣٤٧١) ، وفضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٣) ، و ٦ (٣٦٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٨) (تحفة الأشراف : ١٤٩٥١) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3681Sunan At-Tirmidhiصحیح

مناقب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما ، آپ ﷺ نے فرمایا : تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed, “O Allah, strengthen Islam with whichever of these two men is dearer to you. Abu JahI or Umar ibn al-Khattab.” And, Umar (RA) was the one of the two dear to Allah.” [Ahmed 57001]

صحيح، المشکاة (6036 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3681
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن عمر (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٦٥٥) ، و مسند احمد (٢/٦٥) (صحیح)
3682Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ، أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے ۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب (رض) نے (راوی خارجہ کو شک ہوگیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر (رض) کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Surely, Allah brought the truth on the tongue of Umar and his heart.” He also reported that when a situation arose and other people said something and Umar (RA) said something-or he said that Ibn ul-Khattab said something (the narrator being unsure which way), the Qur’an was revealed upholding Umar’s view.

صحيح، ابن ماجة (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3682
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ٣- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٦٥٦) ، و مسند احمد (٢/٥٣، ٩٥) (صحیح)
3683Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ ابْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرَ ، قَالَ: فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ وَهُوَ يَرْوِي مَنَاكِيرَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما ، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed: O Allah give strength to Islam through (the Islam of) Abu Jahi ibn Hisham or-Umar ibn al-Khatab. So, the next morning Umar (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ and embraced Islam.

ضعيف جدا، المشکاة (6036)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3683
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (لیکن حدیث رقم : (٣٦٩٠) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٢٣) (ضعیف جداً ) (سند میں نضر بن عبدالرحمن ابو عمر الخزاز متروک راوی ہے، امام ترمذی نے بھی اسی سبب ضعف کا ذکر کردیا ہے)
3684Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر (رض) سے کہا : اے رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر انسان ! اس پر ابوبکر (رض) نے کہا : سنو ! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) said to Sayyidina Abu Bakr (RA) , “O the best of men after Allah’s Messenger But, Abu Bakr (RA) said (to him), Though you say that, I had, indeed, heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘The sun has not risen on a man better than Umar.’”

موضوع، الضعيفة (1357) // ضعيف الجامع الصغير (5097) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3684
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس باب میں ابو الدرداء (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٨٩) (موضوع) (سند میں عبد الرحمن ابن اخی محمد بن منکدر اور عبد اللہ بن داود ابو محمد التمار دونوں ضعیف راوی ہیں، اور دونوں کی متابعت نہیں کی جائے گی، حدیث کو ابن الجوزی اور ذہبی اور البانی نے موضوع کہا ہے، اور اس کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ قطعی طور پر صحیح اور ثابت حدیث کے مخالف ہے کہ سب سے بہتر جن پر سورج طلوع ہوا وہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم اور دیگر انبیاء ورسل ہیں، اس کے بعد ابوبکر ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا : انبیاء ورسل کے بعد کسی پر سورج کا وغروب نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو، الضعیفة : ١٣٥٧)
3685Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر (رض) کی تنقیص کرے ١ ؎۔

Muhammad ibn Sirin said, ‘I do not suppose that a man who defames Abu Bakr (RA) and Umar loves the Prophet ﷺ ’

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3685
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ان دونوں کی محبت واقعی جزو ایمان ہے ، ان کا دشمن دشمن اسلام اور خارج از اسلام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٣٠٢) (صحیح الإسناد)
3686Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.

عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ١ ؎۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there were to be a Prophet ﷺ after me then he would be Umar ibn Al-Khattab.” [Ahmed 17410]

حسن، الصحيحة (327)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3686
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر (رض) نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٩٦٦) ، و مسند احمد (٤/١٥٤) (حسن)
3687Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْعِلْمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا ، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ آپ نے فرمایا : اس کی تعبیر علم ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, I saw in my dream that I am given a bowl of milk I drank from it and gave the remainder to Umar ibn al-Khattab.” They asked, “How do you interpret it, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, ‘(It is) knowledge.”

صحيح ومضی (2400)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3687
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : میرے بعد دین کا علم عمر کو ہے ( (رض) ) اس میں ابوبکر (رض) کی من جملہ فضیلت کی نفی نہیں ہے صرف علم کے سلسلے میں ان کا علم بڑھا ہوا ثابت ہوتا ہے ، بقیہ فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل امتی ( بعد از نبی اکرم ﷺ ) ابوبکر ہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٢٨٤ (صحیح)
3688Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چناچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ عمر بن خطاب ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said: I went into paradise and was by a castle of gold and I asked, ‘To whom does it belong?’ They said, ‘To a young man of the Quraysh.’ I supposed that I was the one and asked, ‘Who is he?’ They answered, ‘Umar ibn aI-Khattab.”

صحيح، الصحيحة (1405 - 1423)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3688
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر (رض) کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جاسکتی ، ( برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٩٠) ، و مسند احمد (٣/١٠٧، ١٧٩) (صحیح)
3689Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةَ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَمُعَاذٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ يَعْنِي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ.

بریدہ (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) صبح کی تو بلال (رض) کو بلایا اور پوچھا : بلال ! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے ؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو (آج بھی) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا : میں (بھی) عرب ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا : میں (بھی) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ محمد ﷺ کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا : میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب کا ہے ، بلال (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کرلیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں (واجب) ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انہیں دونوں رکعتوں (یا خصلتوں) کی سے (یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے ١ ؎ ) ۔

Sayyidina Abu Buraydah (RA) narrated: One morning, Allah’s Messenger called Bilal (RA) and said, “O Bilal (RA) , with what did you overtake me to Paradise? Indeed, I did not enter paradise but heard the rusutle of your footsteps ahead of me. I entered paradise last night and heard your steps ahead of me till I came to a castle square and lofty made of gold. I asked, “To whom does this castle belong?” They said, ‘A man of the Arabs,’ and I said, “I am an Arab. for whom is this castle?’ They said, ‘For a man of the Quraysh,’ so I said, ‘I am a Quraysh, for whom is it?” They said, ‘For a man of Muhammad’s Ummah.’ I said, ‘lam Muhammad’s and for whom is the castle?’ They said, ‘For Umar ibn al-Khattab.” Bilal (RA) said, “O Messenger of Allah! ﷺ I never call the adhan but offer two raka’at prayer (before that) and whenever I relieve myself or break wind, I make a fresh ablution. I am convinced that to offer two raka’at is Allah’s right on me.” Allah’s Messenger said, “Because of both these things (you preceded me to paradise).” [Ahmed 23102]

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3689
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا : یہ کس کا ہے ؟ کہا گیا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ، ٣- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ٤- ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : انبیاء کے خواب وحی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : وضو کے بعد دو رکعت نفل کی پابندی سے ادائیگی کی برکت سے بلال کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ، یا ایک خصلت وضو ٹوٹتے وضو کرلینا یعنی ہمیشہ باوضو رہنا ، دوسری خصلت : ہر وضو کے بعد دو رکعت بطور تحیۃ الوضو کے پڑھنا ، ان دونوں خصلتوں کی برکت سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ، اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ہمیشہ باوضو رہنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے ، وہیں اس سے بلال (رض) کی فضیلت اور دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری کا پتا چلا اور عمر (رض) کے لیے سونے کے محل سے ان کی فضیلت ثابت ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٦٦) ، و مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٦٠) (صحیح)
3690Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُبُرَيْدَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا ، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا، ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَائِشَةَ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں نکلے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی (حبشی) لونڈی نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں ١ ؎، چناچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران ابوبکر (رض) اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر علی (رض) داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان (رض) داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عمر (رض) داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمر ! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ٢ ؎، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر ! تو اس نے دف پھینک ڈالی ٣ ؎۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger set out for one of his battles. When he returned from it, a black female slave came and submitted, “O Messenger of Allah, I had made a vow that if Allah brought you back safely, I would beat the daff in your presence and sing.” So, Allah’s Messenger ﷺ said to her, “If you have made a vow then beat the daff, otherwise no.” So she began to beat it. Abu Bakr (RA) came in and she was beating it. Then Ali came in and she persisted in beating it. Then Uthman came in and she continued to beat the daff Then as Umar came in, she placed the daff down under her and at down on it. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the devil is afraid of you, O Umar, I was sitting down and she played the daff. Abu Bakr (RA) came in and she played it. Then Ali came in and she played it and Uthman came in and she played it. When you came in, O Umar, she placed the daff down.” (Ahmed 23050, Abu Dawud 3312]

صحيح نقد الکتانی (47 - 48)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3690
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اگر منکر ( حرام ) کی نذر نہ مانی ہو تو نذر پوری کرنی واجب ہے ، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کو اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ اس کام میں کوئی ممنوع بات نہیں تھی۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے عمر فاروق (رض) کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے عصمت ( شیطان اور گناہوں سے بچاؤ ) بھی ثابت ہو رہی ہے ، حالانکہ عصمت انبیاء کی خصوصیت ہے ، اس سلسلے میں بقول حافظ ابن حجر : عصمت انبیاء کے لیے واجب ہے ، جبکہ کسی امتی کے لیے بطور امکان کے ہے جو عمر (رض) کو حاصل ہوئی۔ ٣ ؎ : مطلب یہ ہے کہ ایک گانے والی لونڈی تو کیا ، شیطان بھی عمر (رض) سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے ، حتیٰ کہ اس راستے سے شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ، جس راستے سے عمر (رض) گزرے رہے ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٦٧) ، و مسند احمد (٥/٣٥٣) (صحیح)
3691Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ: فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چناچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! آؤ، تم بھی دیکھ لو ، تو میں آئی اور رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا : کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی ؟ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے ؟ اتنے میں عمر (رض) آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: While Allah’s Messenger ﷺ was sitting (with us), we heard a noise and voices of children. He got up and found an Ethiopian woman dancing and the children had gathered around her. He said, ‘O Ayshah, come here! And look at it.” So, I went and placed my chin on the shoulder of Allah’s Messenger ﷺ and observed the woman from between his shoulder and head. He said to me, “Are you not satisfied? Are you not satisfied?” I said, “No,” that I may know my station in his esteem, But Umar came upon us, and the people dispersed from her. Allah’s Messenger said, “I saw, indeed, that the devils both of jinn and mankind fled from Umar,” Then, I returned.

صحيح، المشکاة (6039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3691
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٧٣٥٥) ، و مسند احمد (٦/٥٧، ٢٣٣) (صحیح)
3692Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی، پھر ابوبکر، پھر عمر (رض)، (سے زمین شق ہوگی) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہوگا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “I will be the first person for whom the earth will be split (over the grave), then for Abu Bakr, then for Umar, then I will come to the inhabitants of Baqi’ and they will assemble with me. Then I will wait for the Makkans till I am assembled between the two Harmayn-Makkah and Madinah.”

ضعيف، الضعيفة (2949) // ضعيف الجامع الصغير (1310) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3692
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عاصم العمری ضعیف راوی ہیں)
3693Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ١ ؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There had been muhaddithun in the previous Ummah. If there is to be one in my ummah then he is Umar ibn al-Khattab.” [Muslim 2398, Ahmed 24339]

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا : «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : «محدث» اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا ، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے ، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر (رض) کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی ( نیز دیکھئیے حدیث رقم : ٣٦٩١) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩٨) (تحفة الأشراف : ١٧٧١٧) ، و مسند احمد (٦/٥٥) (حسن صحیح)
3694Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے تو ابوبکر (رض) آئے، پھر آپ نے فرمایا : تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے ، تو عمر (رض) آئے۔

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA)reported that the Prophet ﷺ said, “A man of paradise will come to you.” So Abu Bakr (RA) i came (to them). Then he said, “A man of paradise will come to you,” and Umar (RA) emerged.

ضعيف، المشکاة (6058)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3694
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود (رض) کی یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٤٠٦) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف راوی ہیں)
3695Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً، فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کرلے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا : درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہوگا تو کیسے کرے گا ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: While a man was grazing the sheep, a wolf came and grabbed a sheep. Its owner came and got it released. The wolf remarked, What will you do on the day of beasts of prey-they day when there will be no shepherd for it except me.” Allah’s Messenger ﷺ said: I have believed in that as also Abu Bakr (RA) and Umar. Abu Salamah i said, “And both of them were not among the people that day.” [Bukhari 3690, Muslim 2388, Ahmed 355]

صحيح وهو تمام الحديث (3944) صحيح وهو تمام الحديث (3944)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3695 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3695
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٦٧٧ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)