تفرد بہ المؤلف بهذا الاختصار وهو في سياق طويل في حديث ثقيفة بني ساعدة وبيعة أبي بکر في البخاري (فضائل الصحابة ٥ برقم : 3667، 3668) ( تحفة الأشراف : ١٠٦٧٨) (صحیح)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا : صحابہ میں سے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ انہوں نے کہا : عمر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ تو وہ خاموش رہیں ١ ؎۔
Abdullah ibn Shaqiq reported that he asked Sayyidah Ayshah (RA) “Which of the sahabah i was dearest to the Prophets?” She said, “Abu Bakr.” He asked, “Who next?’ she said, “Umar.’ He asked, “Who next?” She said, “After him Abu Ubaydh ibn Jarrah.” He asked, “Who next?” She kept quiet. [Bukhari 3662, Ibn e Majah 102]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3657
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحابہ کے فضائل و مناقب کے مختلف اسباب ہیں ، منجملہ سبب تو سب کا صحابی رسول ہونا ہے ، اور الگ سبب یہ ہے کہ کسی کی فضیلت اسلام میں تقدم کی وجہ سے ہے ، کسی کی اللہ و رسول سے ازحد فدائیت کی وجہ سے ہے ، اور کسی سے کسی بات میں بڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ، اور کسی کی فضیلت دوسرے کی فضیلت کے منافی نہیں ہے ، اور اس حدیث میں جو عثمان و علی (رض) کا تذکرہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمر (رض) کے بعد ان دونوں کا مقام نہیں بلکہ ابوعبیدہ (رض) کا ہے ، مگر احادیث میں یہ ترتیب ثابت ہے ، کہ ابوبکر کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی ، پھر ان کے بعد عشرہ مبشرہ ، پھر عام صحابہ کا مقام ہے (رض) اجمعین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠٢) (تحفة الأشراف : ١٦٢١٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٥٨، نیز ٣٦٦٧)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلند درجات والوں کو (جنت میں) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر (رض) دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for those having higher ranks (in paradise), those having a lower rank will look at them as you look at the stars shining in the horizon of the heaven. Abu Bakr (RA) and Umar are of them-and how excellent!’ [Ibn e Majah 9, Ahmed 11213]
صحيح، ابن ماجة (96)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3658
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٦) (تحفة الأشراف : ٤٢٠٢، و ٤٢٠٦، و ٤٢١٢، و ٤٢٣٣، ٤٢٣٧) (صحیح)
ابومعلی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا : ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھالے یا اپنے رب سے ملنے کو (ترجیح دے) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں : یہ سن کر ابوبکر (رض) رو پڑے، تو صحابہ نے کہا : کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ ﷺ نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر (رض) ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر) ابوبکر (رض) نے کہا : بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کردیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن (ہمارے اور ان کے درمیان) ایمان کی دوستی موجود ہے ۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا : تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل (دوست) ہے ۔
Sayyidina Abu Mu’alla (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ delivered a sermon one day, saying, “Indeed, to a man, Allah has given choice between living in the world as long as he wills, eating in the world whatever he likes to eat and meeting his Lord, He has chosen to meet his Lord.” Abu Bakr (RA) wept. The companions of the Prophet ﷺ said, “Is not this shaykh surprising? Allah’s Messenger ﷺ mentions a man whom his Lord has given a choice between this world and meeting his Lord, and he has chosen the meeting with his Lord.” But, Abu Bakr (RA) . knew better than them what Allah’s Messenger r.L meant. So, he said, “May our forefathers and our properties be ransomed to you!” Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none of the people who has favoured us with companionship and spending more than Ibn Abu Quhafah. Were Ito choose a friend, I would choose Ibn Abu Quhafah a friend. But, friendship and brotherood is faith.” He said that twice or thrice. “And, know that your companion (meaning himself) is Allah’s friend.” [Ahmed 15922]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3659
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى» ، «علی» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢١٧٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی المعلی انصاری کے بارے میں حافظ ابن حجر کہتے ہیں : لا يعرف یعنی غیر معروف اور مجہول راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، امام ترمذی نے اس کی تحسین ابو سعید خدری کی حدیث کی وجہ سے کی ہے)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا : ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں ، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ١ ؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا : اس بوڑھے کو دیکھو ! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر (رض) اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر (رض) کی بات سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں (یعنی مسجد کی طرف) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger ﷺ sat down on the pulpit and said, “Allah has given choice to a slave between receiving the pleasures of the world whatever he wishes and what is with Allah.” Abu Bakr (RA) said, “May we ransom to you, O Messenger of Allah, our fathers and our mothers!” The narrator said, “We were surprised and people said: Look at this shaykh Allah’s Messenger r.L informs us of a man whom Allah has given choice between the pleasures of this world as much as he wishes and what is with Allah, and he says may our parents be ransomed to you.” But, AlIah,s Messenger ﷺ was the one given the choice and Abu Bakr (RA) knew better than the others, The Prophet ﷺ said, “Surely, the most favouring one to me with his companionship and his wealth is Abu Bakr. And, if I were to pick a friend, I would take Abd Bakr as a friend, but Islamic fraternity (is enough). Let not there remain any window in the mosque, but the window of Abu Bakr.” [Bukhari 3904, Muslim 2382]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3660
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : ہمارے ماں باپ کی عمریں آپ کو مل جائیں تاکہ آپ کا سایہ ہم پر تادیر اور مزید قائم رہے۔ ٢ ؎ : یہ ابوبکر (رض) کی تمام صحابہ پر فضیلت کی دلیل ہے۔ مسجد نبوی میں یہ دروازہ آج بھی موجود ہے ، محراب کی دائیں جانب پہلا دروازہ باب السلام ہے اور اور دوسرا خوخۃ ابی بکر (رض) ۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none with us whom we have not repaid (his favours) except Abu Bakr. Indeed, he has helped us and Allah will make up to him on the Day of Resurrection. And no one’s property has benefitted me as the property of Abu Bakr. And, were I to take a friend, I would take Abu Bakr (RA) as a friend, but indeed, your companion is Allah’s friend.” [Ibn e Majah 94, Ahmed 7450]
صحيح، ابن ماجة (94)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3661
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٨٤٩) (ضعیف) (سند میں ” داود الأودی “ اور ” محبوب “ ضعیف ہیں، اس لیے پہلا فقرہ يوم القيامة تک ضعیف ہے، مگر حدیث کا دوسرا اور تیسرا فقرہ شواہد و متابعات کی بنا پر صحیح ہے)
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی ١ ؎۔
Sayyidina Hudhayfah r reported that Allah’s Messenger said, “Follow those who succeed me- Abu Bakr (RA) and Umar.” [Ibn e Majah 97, Ahmed 23305]
صحيح، ابن ماجة (97)
صحيح، ابن ماجة (97)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3662
ہم سے احمد بن منیع اور کئی دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے، وہ سب کہتے ہیں : ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ہے اور سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3662
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ٣- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
١- سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے، کبھی تو انہوں نے اسے «عن زائدة عن عبد الملک بن عمير» ذکر کیا اور کبھی انہوں نے اس میں «عن زائدة» ذکر نہیں کیا، ٢- ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث سفیان ثوری سے، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے، ہلال نے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ربعی سے آئی ہے، جسے انہوں نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٤- سالم انعمی کوفی نے یہ حدیث ربعی بن حراش کے واسطہ سے حذیفہ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے یکے بعد دیگرے ابوبکر اور عمر (رض) دونوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں کے لیے فضیلت کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٧) (تحفة الأشراف : ٣٣١٧) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح)
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر (رض) کی جانب اشارہ کیا ۔
Sayyidina Hudhayfah i narrated: We were sitting with the Prophet ﷺ He said, “I cannot say how long more I will be, among you. So, follow those who are after me, and he pointed out to Abu Bakr (RA) and Umar.” [Ahmed 23336, Ibn e Majah 97]
صحيح انظر ما قبله (3662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3663
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر (رض) نمودار ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا ۔
Sayyidina reported that Allah’s Messenger ﷺ said about Abu Bakr (RA) and Umar(RA), “These two are chiefs of the middle-aged dwellers of paradise of the earliest and the last, except the Prophets and Messengers. Do not inform them, Ali.’
صحيح، ابن ماجة (95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3665
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ٣- علی (رض) سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٤- اس باب میں انس اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٤٦) (صحیح) (سند میں ” علی بن الحسین زین العابدین “ کی اپنے دادا ” علی “ (رض) سے ملاقات و سماع نہیں ہے، مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر (رض) کے سلسلہ میں فرمایا : یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، (آپ نے فرمایا :) علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when Abu Bakr (RA) and Umar came, and he said, ‘These two are chiefs of the middle-aged inhabitants of paradise of the first and the last, except the Prophets and Messengers. “O Ali, do not inform them.”
علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی ! تم انہیں نہ بتانا ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated: The Prophet ﷺ said, “ Abu Bakr (RA) and Umar are chiefs of the middle-aged people of paradise whether the foremost or the last with the exception of the Prophets and the Messengers. Do not inform them, O Ali.”
صحيح انظر ما قبله (3665)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3666
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٥) (تحفة الأشراف : ١٠٠٣٥) (صحیح) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے کہا : کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا ؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں ؟۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Abu Bakr (RA) said, “Am I not the most deserving of all people. Am I not the first of those who embraced Islam. Am I not the companion of so-and-so? Am I not the com panion of so-and-so?”
صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20)
صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3667 ہم سے اسے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اور شعبہ نے جریری کے واسطہ سے ابونضرہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں : ابوبکر (رض) نے کہا : پھر انہوں نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی جیسی روایت ذکر کی لیکن اس میں ابو سعید خدری کا واسطہ ذکر نہیں کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3667
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر (رض) بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر (رض) کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔
Sayyidna Anas narrated: When Allah’s Messenger ﷺ would come towards his sahabah (RA) both the Muhajir and the Ansar, while they were sitting, and Abu Bakr (RA) and Umar were among them, none would dare look at him in the eye. But, Abu Bakr (RA) and Umar would look at him and smile to him and he would smile to them.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر (رض) میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: One day, Allah’s Messenger ﷺ came forth and entered the mosque with Abu Bakr (RA) and Umar one of them on his right and the other on his left and he held their hands. He said, “This is how we will be raised on the Day of Resurrection.” [Ibn e Majah 99]
ضعيف، ابن ماجة (99) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (18) وهنا أتم، المشکاة (6054) ، ضعيف الجامع الصغير (6089) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3669
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر (رض) سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٩) (تحفة الأشراف : ٧٤٩٩) (ضعیف) (سند میں سعید بن مسلمہ ضعیف راوی ہیں)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، اس پر عائشہ (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ١ ؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں : تو میں نے حفصہ سے کہا : تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے (ایسا ہی) کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے (بطور شکایت) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔
Sayyidah Ayshah narrated, that the Prophet ﷺ commanded that Abu Bakr (RA) should lead the people in salah.” She pleaded, ‘O Messenger of Allah, if Abu Bakr (RA) stands in your place, people will not hear him because of his weeping. So, do instruct Umar that he may lead people in Salah.” But, he repeated, “Ask Abu Bakr (RA) that he may lead them in salah.’ She said to Hafsah (RA), “Do tell him that when Abu Bakr (RA) will stand in his place, people will be unable to hear him because of his weeping, so command Umar to lead them in salah.” So Sayyidah Hafsah said that to him and he said, “You are the women of Yusuf (who sent him to prison). Ask Abu Bakr (RA) to lead men in salah.” So, Sayyidah Hafsah (RA) said to Sayyidah Ayshah “I have never had good from you.” [Bukhari 664, Muslim 418, Ibn e Majah 1232, Ahmed 25819]
صحيح، ابن ماجة (1232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3672
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ ابوبکر پر رقت طاری ہوجائے گی اور وہ رونے لگیں گے پھر رونے کی وجہ سے اپنی قرأت لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے ، اور بعض روایات کے مطابق اس کا سبب عائشہ نے یہ بیان کیا ، اور بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ پر کھڑے ہونے پر ابوبکر اپنے غم ضبط نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا پائیں گے ، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٤) ، و ٤٦ (٦٧٩) ، و ٦٧ (٧١٢) ، و ٧٠ (٧١٦) ، والاعتصام (٧٣٠٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨) ، سنن النسائی/الإمامة ٤٠ (٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٢ (١٢٣٢) (تحفة الأشراف : ١٧١٥٣) ، و مسند احمد (٦/٣٤، ٩٦، ٩٧، ٢١٠، ٢٢٤) ، وسنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٣) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر (رض) کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “It does not behove a people, among whom is Abu Bakr (RA) that anyone else should act as their imam.”
ضعيف جدا، الضعيفة (4820) // ضعيف الجامع الصغير (6371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3673
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٧٥٤٨) (ضعیف جداً ) (بعض نسخوں میں ” حسن غریب “ ہے، اور بعض نسخوں اور تحفة الأشراف میں صرف ” غریب “ ہے، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف راوی ہے، عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے کہا : بسند قاسم تم عائشہ سے یہ کس طرح کی احادیث روایت کرتے ہو، تو کہا کہ دو بارہ نہیں بیان کروں گا اور امام بخاری نے فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے، الضعیفة : ٤٨٢٠)
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہ وہ خیر ہے (جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہوگا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہوگا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر (رض) نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے (اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہوجانا کافی ہے) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger (RA) said, “If anyone spends a pair (of dirham, rupees, etc) in the path of Allh then he will be called, ‘O Allah’s slave, this is good.’ And one who had been an observer of salah will be called from the gate of salah; one who had participated in jihad will be called from the gate of jihad; one who had been charitable will be called from the gate of charity; one who had been observing fasts will be called from the gate of Rayyan.” O Abu Bakr (RA) submitted, “May my parents be ransomed to you! Though it is not necessary that anyone should be called from all the gates, will anyone be called from these doors, all of them?” He said, “Yes! I hope that you are one of them.” [Ahmed 8637, Bukhari 1897, Muslim 2027, Nisai 3132]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3674
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا : اگر میں ابوبکر (رض) سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں) اور ابوبکر (رض) وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا : ابوبکر ! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا : ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا : اللہ کی قسم ! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ commanded us to give sadaqah (charity). That coincided with my possession of some wealth at that time, so I thought, “Today I will outdo Abu Bakr, if I do.” So, I brought half of my wealth. Allah’s Messenger ﷺ asked me, “What have you retained for your family?” I said, “The like of it.” Abu Bakr (RA) came with all that he had. He asked him, “O Abu Bakr, what have you retained for your family?” He said, “I have kept a side for them Allah and His Messenger.” I said, “Never will I overtake him in anything.” [Abu Dawud 1678]