Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 179 of 199

3636Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ: أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ، قَالَ: لَا مِثْلَ الْقَمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔

Abu Ishaq (RA) reported that someone asked Sayyidina Bara (RA) if the face of Allah’s Messenger ﷺ was like a sword. He said, “No. (But,) like the moon.

صحيح مختصر الشمائل (9)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3636
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٢) (تحفة الأشراف : ١٨٣٩) (صحیح)
3637Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ضَخْمَ الرَّأْسِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا انْحَطَّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، (یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔

Sayyidina Ali (RA) narrated : The Prophet ﷺ was neither tall nor short. His palms and feet were hard and thick and he had a large head and large joints. The hair on his breast was a fine, long line (to his navel). When he walked, he bent forward as though he descended down a slope. I did not see anyone like him before him or afterwards . [Ahmed 1122]

صحيح مختصر الشمائل (40) صحيح مختصر الشمائل (40)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3637 ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے میرے باپ وکیع نے بیان کیا اور انہوں نے مسعودی سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3637
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٨٩) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3638Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الْأَحْنَفِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ، وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ، جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، أَجْوَدُ النَّاسِ كَفَّا، وَأَشْرَحُهُمْ صَدْرًا، وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً، وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً، وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً، مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ، يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْأَصْمَعِيَّ يَقُولُ فِي تَفْسِيرِهِ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُمَّغِطُ الذَّاهِبُ طُولًا، وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: تَمَغَّطَ فِي نُشَّابَةٍ أَيْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا، وَأَمَّا الْمُتَرَدِّدُ: فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا، وَأَمَّا الْقَطَطُ فَالشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ، وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعْرِهِ حُجُونَةٌ أَيْ يَنْحَنِي قَلِيلًا، وَأَمَّا الْمُطَهَّمُ فَالْبَادِنُ الْكَثِيرُ اللَّحْمِ، وَأَمَّا الْمُكَلْثَمُ فَالْمُدَوَّرُ الْوَجْهِ، وَأَمَّا الْمُشْرَبُ فَهُوَ الَّذِي فِي نَاصِيَتِهِ حُمْرَةٌ، وَالْأَدْعَجُ الشَّدِيدُ سَوَادِ الْعَيْنِ، وَالْأَهْدَبُ الطَّوِيلُ الْأَشْفَارِ، وَالْكَتَدُ مُجْتَمَعُ الْكَتِفَيْنِ وَهُوَ الْكَاهِلُ، وَالْمَسْرُبَةُ هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ، وَالشَّثْنُ الْغَلِيظُ الْأَصَابِعِ مِنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَالتَّقَلُّعُ أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ، وَالصَّبَبُ الْحُدُورُ، يَقُولُ: انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ وَقَوْلُهُ: جَلِيلُ الْمُشَاشِ يُرِيدُ رُءُوسَ الْمَنَاكِبِ، وَالْعِشْرَةُ الصُّحْبَةُ، وَالْعَشِيرُ الصَّاحِبُ، وَالْبَدِيهَةُ الْمُفَاجَأَةُ يُقَالُ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ أَيْ فَجَأْتُهُ.

ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب (رض) کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی (رض) جب نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے : نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا : نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ ﷺ ۔

Sayyidina Ali (RA) described the Prophet ﷺ saying: He was neither very tall nor very short, but was of average height. His hair were neither very curly nor very straight, but slightly curly. He was not very fat. His face was not very round but had a roundish appearance. He was reddish-white with wide black eyes, long eye lashes. He had large joints and broad shoulders, fleshy between shoulders. He was not hairy except for a fine line of hair from his chest to navel. His palms and feet were hard and thick. When he walked, he put his feet down firmly on the ground raising them as though he walked down a slope. If he looked at anyone, he turned completely (not with a side glance). Between his shoulders was the seal of prophet hood, He was the seal of the Prophets and the best of men at heart (free from jealousy), truer speaker than all men, of mildest nature and noblest company. If, anyone saw him suddenly, he would be overcome with awe and he who chose his company, loved him. One who describes him admits, “I have never seen anyone like him before or [Ahmed 944]

ضعيف مختصر الشمائل (5) ، المشکاة (5791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3638
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ٢- ( نسائی کے شیخ) ابو جعفر کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٢٤) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن محمد اور علی (رض) کے درمیان انقطاع ہے، ابراہیم کی ملاقات علی (رض) سے نہیں ہوئی)
3639Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کرلیتا۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ did not speak rapidly like this, but he spoke with pauses so that those who sat with him could retain what he said. [Ahmed 24919, Bukhari 3568, Muslim 2493, Abu Dawud 3655]

حسن المختصر (191) ، المشکاة (5828)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3639
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٢١ (٤٨٣٩) (نحوہ) سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٩ (٤١٢) (تحفة الأشراف : ١٦٤٠٦) ، و مسند احمد (٦/١١٨، ١٣٨) (حسن)
3640Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعِيدُ الْكَلِمَةَ ثَلَاثًا لِتُعْقَلَ عَنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (بسا اوقات) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے (اچھی طرح) سمجھ لیا جائے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA)reported that Allah’s Messenger Th repeated his words three times that they may be understood.

حسن صحيح وقد مضی نحوه (2879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3640
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٢٣ (حسن صحیح)
3641Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن حارث بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

Sayyidina Abdullah ibn Harith ibn Jazz narrated. I did not see anyone smiling more than Allah’s Messenger ﷺ [Ahmed 17720]

صحيح مختصر الشمائل (194) ، المشکاة (5829 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3641
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٣٤) (صحیح) (تراجع الألبانی ٦٠٢)
3642Sunan At-Tirmidhiصحیح

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، مِثْلُ هَذَا. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَبَسُّمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن حارث بن جزء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Harith ibn Jazz narrated: Allah’s Messenger’s ﷺ laugh was only a smile.

صحيح مختصر الشمائل (195) ، المشکاة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3642
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس لیے کہ قہقہہ معزز آدمی کے وقار کے خلاف ہے ، اور آپ سے بڑھ کر معزز کون ہوگا ؟۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3643Sunan At-Tirmidhiصحیح

مہر نبوت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بِرَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: الزِّرُّ يُقَالُ بَيْضٌ لَهَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَعَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ (کے پردے) کی گھنڈی کی طرح تھی ١ ؎۔

Sayyidina Sa’ib ibn Yazid (RA) narrated : My aunt took me to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, this the son of my sister is sick.” He stroked my head and prayed for me for blessing. He performed ab’ Lion and I drank the residue water. Then I stood behind him and saw the seal between his shoulders. It was like Zirril hajalah. [Bukhari 190, Muslim 2345]

صحيح مختصر الشمائل (14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3643
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ٢ ؎۔ ١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پردوں اور جھالروں کے کنارے گول مٹول گھنڈی ہوا کرتے ہیں ، ان کو دوسرے کپڑے کے کناروں میں جوڑتے ہیں ، یہی یہاں مراد ہے۔ ٢ ؎ : بعض علماء لغت نے «زر الحجلۃ» کی تفسیر ایک معروف پرندہ چکور کے انڈہ سے کیا ہے ، وہی مؤلف بھی کہہ رہے ہیں ، مگر جمہور اہل لغت نے اس کا انکار کیا ہے اس لفظ کہ «زر الحجلۃ» سے حجلہ عروسی کی چاروں کی گھنڈی ہی مراد ہے ، ویسے مہر نبوت کے بارے میں اگلی حدیث میں کبوتری کے انڈے کی مثال بھی آئی ہے ، دونوں تشبیہات میں کوئی تضاد نہیں ہے ، ایک چیز کئی چیزوں کے مثل ہوسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٠ (١٩٠) ، والمناقب ٢٢ (٣٥٤٠، ٣٥٤١) ، والمرضی ١٨ (٥٦٧٠) ، والدعوات ٣١ (٦٣٥٢) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٠ (٢٣٤٥) (تحفة الأشراف : ٣٧٩٤) (صحیح)
3644Sunan At-Tirmidhiصحیح

مہر نبوت کے متعلق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that the seal of Allah’s Messenger ﷺ between his shoulders was a red mole like a pigeon’s egg. [Ahmed 20879]

صحيح مختصر الشمائل (15)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3644
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢١٤٢) (صحیح)
3645Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ١ ؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated : The legs of Allah’s Messenger ﷺ were slender. He did not laugh beyond a smile. When I looked at him I thought that there was collyrium in his eyes, but he had not applied collyrium. [Ahmed 20971]

ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل (193) ، ضعيف الجامع الصغير (4474) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3645
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی آپ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بےجوڑ ہوگئی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢١٤٤) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں)
3646Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔

Sayyidina Jabir ibn Samurth (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had a large face, big eyes and skinny ankles. [Ahmed 20838, Muslim 2339]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٧ (٢٣٣٩) (تحفة الأشراف : ٢١٨٣) (صحیح)
3647Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ: وَاسِعُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ: قَلِيلُ اللَّحْمِ ؟. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : کم گوشت کے ہیں۔

Abu Musa reported from Muhammad ibn Muthanna, from Muhammad ibn Ja’far, from Shu’bah, from Simak ibn Harb, from Jabir ibn Samurah that he said, “Allah’s Messenger ﷺ had “(as the foregoing: 3666). Shu’bah reported that he asked Simak what the words meant. He said, “(Respectively) a large face, big eyes, little flesh.” [Ahmed 20966]

صحيح مختصر الشمائل (7)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3647
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3648Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said: I have not seen anything more beautiful than Allah’s Messenger ﷺ as though the sun sailed in his face. And, I have not seen anyone walk faster than Allah’s Messenger iii as though the land is rolled up for him; while we have to exert ourselves (walking with him), he (walks) effortlessly. [Ahmed 8952]

ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3648
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٤٧١) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ ضعیف راوی ہیں)
3649Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود (رض) ہیں اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ١ ؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں ۔

Sayyidina Jahir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: (On the night of miraj) the Prophets were presented to me. Musa was a young man as though one of Shami’ah. And I saw Eesa ibn Maryam, to whom the nearest in appearance that I have seen is Urwah ibn Masud. And I saw Ibrahim the nearest to him in looks that I have seen is your companion (meaning, myself). And I saw Jabril, and the nearest in appearance to him that I have seen is Dihyah. (He was ibn Khalifah Kalbi). [Ahmed 14595, Muslim 167]

صحيح، الصحيحة (1100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3649
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی خود نبی اکرم ﷺ ، اس میں آپ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ شکل و صورت سے ابراہیم (علیہ السلام) سے مشابہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٧) (تحفة الأشراف : ٢٩٢٠) (صحیح)
3650Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ died when he was sixty-five years old. [Muslim 2353, Ahmed 1945]

شاذ ومضی (3701) // (746 / 3883) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3650
Notes · وضاحت
١ ؎ : دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم : ٣٦٣١۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف : ٦٢٩٤) (شاذ) (سند صحیح ہے، لیکن ابن عباس (رض) کو اس بابت وہم ہوگیا تھا، وفات کے وقت صحیح عمر ٦٣ سال ہے، دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم ٣٦٥٢ میں)
3651Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَاابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے۔

Nasr ibn Ali al-Jahdami reported from Bishr ibn Mufaddal from Khalid al-Hazza, from Ammar, the freedman of Banu Hashim that Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ died when he was sixty-five years old.

شاذ انظر ما قبله (3650)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3651
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (شاذ)
3652Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رُؤْيَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تیرہ ( ١٣) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ٦٣) سال کی عمر میں ہوئی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ stayed in Makkah for thirteen years during which he received revelation and he died at the age of sixty-three. [Ahmed 2242, Bukhari 3851, Muslim 2351]

صحيح ومضی (3882)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3652
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس (رض) کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور دغفل کا نبی اکرم ﷺ سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٠٣) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٣٣٥١) (تحفة الأشراف : ٦٣٠٠) (صحیح)
3653Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ (رض) کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر (رض) بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی (اس وقت) ترسٹھ سال کا ہوں۔

Sayyidina Jarir ibn Abdullah reported that he heard Muawivah ibn Abu Sufvan deliver a sermon and say, “Allah’s Messenger ﷺ died when he was sixty-three years old, and Abu Bakr (RA) and Umar And, I am sixty three years old.’ [Muslim 2353]

صحيح مختصر الشمائل (318)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3653
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف : ١١٤٠٢) (صحیح)
3654Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا.

ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔

Sayyidah Ayshah said: The Prophet ﷺ died at the age of sixty three. [Ahmed 24672, Bukhari 3536. Muslim 2349]

صحيح مختصر الشمائل (319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3654
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسے زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٩ (٣٥٣٦) ، والمغازي ٨٥ (٤٤٦٦) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٠) (تحفة الأشراف : ١٦٥٣٢) (صحیح)
3655Sunan At-Tirmidhiصحیح

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ہر خلیل کی «خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر (رض) کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے ۔

Sayyidina Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I am absolved of the friendship of every friend. Were I to choose a friend, I would take lbn Abu Quhafah as a friend. And your companion (meaning myself) is the friend of Allah.” [Ibn e Majah 2383, Ahmed 3878]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3655
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : «خُلّت» دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا ، یہ محبت سے اعلی و ارفع حالت ہے ، اسی لیے آپ ﷺ یا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے ، رہی محبت کی بات تو آپ کو سارے صحابہ ، صدیقین و صالحین سے محبت ہے ، اور صحابہ میں ابوبکر صدیق (رض) کا مقام سب سے افضل ہے ، حتیٰ کہ ممکن ہوتا تو آپ ابوبکر کو خلیل بنا لیتے ، یہ بات ابوبکر (رض) کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٣) (تحفة الأشراف : ٩٥١٣) ، و مسند احمد (١/٣٧٧، ٣٨٩، ٣٩٥) (صحیح)