Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 178 of 199

3616Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْهُمْ سَمِعَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ فَسَمِعَ حَدِيثَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَجَبًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِهِ خَلِيلًا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَقَالَ آخَرُ: مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ كَلَامِ مُوسَى كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، وَقَالَ آخَرُ: فَعِيسَى كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ، وَقَالَ آخَرُ: آدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ كَلَامَكُمْ وَعَجَبَكُمْ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَمُوسَى نَجِيُّ اللَّهِ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَعِيسَى رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، وَآدَمُ اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، أَلَا وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللَّهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَلَا فَخْرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں : پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا : موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے، اور ایک نے کہا : عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا : آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو ! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہوگا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت (سفارش) کرے گا اور جس کی شفاعت (سفارش) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں ۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) narrated: Some of the sahabah of Allah’s Messenger ﷺ sat together awaiting him. He came forth till he was near them and heard them discussing. He heard their conversation. Someone among them said, Wonderful that Allah, the Majestic, the Glorious, took a friend from His creatures! He took Ibrahim for a friend.’ Another put in, “What could he more wonderful than the conversation of Musa-he spoke directly to Allah!” Yet another exclaimed. “As for Eesa, he was the word of Allah and His spirit.” Someone else wondered, ‘As for Aadam, Allah chose him.’ Then, he came to them, offered them salaam and said, “Indeed, I heard your conversation and your surprise. Surely, Ibrahim was Allah’s friend. That is so! And Musa was confidant of Allah, and that is exactly so! And, Eesa was the spirit of Allah and His word, and that is exactly so! Aadam was Allah’s chosen one, and that is exactly so’O And know, I am, the dear friend of Allah, and no pride about it. And, I will be the holder of the standard of praise (Hamd) on the day of Resurrection, no boast. And, I will be the tirst to intercede and the first whose intercession will be accepted, no boast. And, I will be the first to knock the chain ot (the gate of) paradise. Allah will open it for me and I will enter it, and with me the poor of the Believers no boast. And I am the noblest of the first and the last-no boast!”

ضعيف، المشکاة (5762) // ضعيف الجامع الصغير (4077) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3616
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٠٩٥) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں )
3617Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ، وَصِفَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ ، فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ: وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، هَكَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ.

عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت ہے کہ تورات میں محمد ﷺ کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا : حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) narrated: There is written in the Torah, the description of Muhammad ﷺ (and of) Eesa (RA) Maryam that he would be buried with him. Abu Mawdud reported that there is space for a grave in the house (shrine).

ضعيف، المشکاة (5772)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3617
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس معنی کی کئی احادیث وارد ہیں ، مگر سب پر کلام ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں جب عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے ، تو پینتالیس زندہ رہ کر جب وفات پائیں گے تو قبر نبوی کے پاس دفن ہوں گے ، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣٣٦) (ضعیف) (سند میں عثمان بن ضحاک ضعیف راوی ہیں)
3618Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَلَمَّا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ ﷺ (پہلے پہل) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہوگئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: The day when Allah’s Messenger entered Madinah, everything in it was illuminated. Then, the day when he died everything in it became dark. And we had barely dusted off our hands after burying him when our hearts changed. [Ahmed 13311, Ibn e Majah 1631]

صحيح، ابن ماجة (1631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3618
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ان میں وہ نور ایمان باقی نہیں رہا جو آپ کی زندگی میں تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٥ (١٦٣١) (تحفة الأشراف : ٢٦٨) (صحیح)
3619Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کی پیدائش کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق يُحَدِّثُ، عَنِالْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، وَسَأَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قُبَاثَ بْنَ أَشْيَمَ أَخَا بَنِي يَعْمَرَ بْنِ لَيْثٍ: أَأَنْتَ أَكْبَرُ أَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَأَنَا أَقْدَمُ مِنْهُ فِي الْمِيلَادِ، وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، وَرَفَعَتْ بِي أُمِّي عَلَى الْمَوْضِعِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ خَذْقَ الْفِيلِ أَخْضَرَ مُحِيلًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.

قیس بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں واقعہ فیل ١ ؎ کے سال پیدا ہوئے، وہ کہتے ہیں : عثمان بن عفان نے قباث بن اشیم (جو قبیلہ بنی یعمر بن لیث کے ایک فرد ہیں) سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ ﷺ ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ مجھ سے بڑے ہیں اور پیدائش میں، میں آپ سے پہلے ہوں ٢ ؎، رسول اللہ ﷺ ہاتھی والے سال میں پیدا ہوئے، میری ماں مجھے اس جگہ پر لے گئیں (جہاں ابرہہ کے ہاتھیوں پر پرندوں نے کنکریاں برسائی تھیں) تو میں نے دیکھا کہ ہاتھیوں کی لید بدلی ہوئی ہے اور سبز رنگ کی ہوگئی ہے۔

Sayyidina Qays ibn Makhramah narrated: I was born, as was Allah’s Messenger, ‘ in the year of the Elephant. Uthrnan ibn Affan asked Qubath ibn Ashyam of Banu Yamar ibn Layth, “Are you senior or Allah’s Messenger ﷺ . He said, Allah’s Messenger is senior to me (in rank) though I preceded him in birth.” He added, ‘And I did observe the droppings of the green birds having faded.” In Arabic, there is a play upon words, the word ‘Akbar’ meaning, ‘older’, ‘greater’ The green birds were the ones that crushed Abrahas arms with small pebbles when it invaded Makkah

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3619
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جس سال ابرہہ اپنے ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ ڈھانے آیا تھا۔ ٢ ؎ : کیا ہی مہذب انداز ہے کہ بےادبی کا لفظ بھی استعمال نہ ہو اور مدعا بھی بیان ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١١٠٦٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں مطلب لین الحدیث راوی ہیں)
3620Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبوت کی ابتداء کے متعلق

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّامِ، وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا، فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّونَ بِهِ، فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَلَا يَلْتَفِتُ، قَالَ: فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ، هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ: مَا عِلْمُكَ ؟ فَقَالَ: إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا، وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ، وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ، قَالَ: أَرْسِلُوا إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوهُ إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يُنَاشِدُهُمْ أَنْ لَا يَذْهَبُوا بِهِ إِلَى الرُّومِ، فَإِنَّ الرُّومَ إِذَا رَأَوْهُ عَرَفُوهُ بِالصِّفَةِ فَيَقْتُلُونَهُ، فَالْتَفَتَ، فَإِذَا بِسَبْعَةٍ قَدْ أَقْبَلُوا مِنَ الرُّومِ فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا: جِئْنَا إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ خَارِجٌ فِي هَذَا الشَّهْرِ، فَلَمْ يَبْقَ طَرِيقٌ إِلَّا بُعِثَ إِلَيْهِ بِأُنَاسٍ، وَإِنَّا قَدْ أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بُعِثْنَا إِلَى طَرِيقِكَ هَذَا، فَقَالَ: هَلْ خَلْفَكُمْ أَحَدٌ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ ؟ قَالُوا: إِنَّمَا أُخْبِرْنَا خَبَرَهُ بِطَرِيقِكَ هَذَا، قَالَ: أَفَرَأَيْتُمْ أَمْرًا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَهُ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ رَدَّهُ ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَأَقَامُوا مَعَهُ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ، قَالُوا: أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف (تجارت کی غرض سے) نکلے، نبی اکرم ﷺ بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں : تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا : یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا : تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا ؟ تو اس نے کہا : جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گرپڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ ﷺ اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا : کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چناچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا : دیکھو ! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا : کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا : اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : نہیں، اس نے کہا : پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا : میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر (رض) نے آپ کے ساتھ بلال (رض) کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔

Sayyidina Abu Musa Ash’ary (RA) narrated: Abu Talib set forth for Syria and the Prophet ﷺ travelled with him, elders of the Quraysh wene part of the caravan. When they reached the monk, he came down (his hermitage). They unfastened the saddles of their animals and he came to them though before that they used to pass by him, he never came out and never paid attention to them. As they were unpacking their saddles, he mingled amomg them till he came to Allah’s Messenger ﷺ and held his hand, saying, “He is the chief of the universe. He is the Messenger of the Lord of the worlds. Allah has sent him as mercy to the worlds.” The elders among the Quraysh asked him how he could say that and he answered, “While you were coming down the hillock, none of the stones and trees missed prostrating before him, and these two (objects) do not prostrate but to a Prophet. And I recognise him by the seal of prophethood on the upper bone on his shoulder, firm like an apple.’ Then he went away and prepared a meal for them. When he brought it to them, the Prophet ﷺ had taken the camels to graze. He said, “Send for him.” He came while a small cloud cast its shadow over him. When he came to the people, he found that they had preceded him to the shade of the trees. When he sat down, the tree bowed towards him and cast its shade over him. The monk pointed out, “Observe the tree bowing to him.” The narrator reported that while he was standing among them, he entreated them that they should not take him to Rome, “for, when the Romans see him, they will recognise him from the descriptions and will kill him.” Then he turned and suddenly seven Romans came whom he received and asked, “What has brought you here?” They said, “We have come, that this Prophet ﷺ will emerge this month. We have left no road but sent people there. When we received news of him, we were sent on your path, this one.” He asked, “Is there anyone behind you and better than you?” They repeated that they were informed that he was on his path-that one. The monk asked them, ‘Think if God decides to do something, can one of mankind avert it?” They said, “No.” So, he said, “Pledge allegiance to him and support him.” Then he asked (the Quraysh) I adjure you by Allah, who is his guardian? They said, “Abu Talib.” So he did not cease to adjure him till he sent him back and Abu Bakr (RA) sent with him Bilal (RA) and the monk provided him biscuits and olives.

صحيح فقه السيرة، دفاع عن الحديث النبوی (62 - 72) ، المشکاة (5918) ، لکن ذکر بلال فيه منکر كما قيلصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3620
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩١٤١) (صحیح) (لیکن اس واقعہ میں بلال کا تذکرہ صحیح نہیں ہے)
3621Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور عمر مبارک کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کی گئی تو آپ چالیس سال کے تھے، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ ( ٦٣) سال کے تھے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Revelation began to descend to Allah’s Messenger ﷺ when he was forty years old. Thereaffter, he stayed at Makkah for thirteen years and at Madinah for ten years and he died when he was sixty- three years old. [Bukhari 3851, Ahmed 2017]

صحيح مختصر الشمائل (317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3621
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٨ (٣٨٥١) ، ٤٥ (٣٩٠٢، ٣٩٠٣) (تحفة الأشراف : ٦٢٢٧) (صحیح)
3622Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور عمر مبارک کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِثْلَ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ ‘ died at the age of sixty-five.

شاذ المصدر نفسه // مختصر الشمائل (320) ، وسيأتي (751 / 3912) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3622
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہی بات شاذ ہے ، محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ترسٹھ سال کے تھے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے ، ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو ، اور اس طرح پینسٹھ بتادیا ہو ؟
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٢٢٧) (شاذ)
3623Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور عمر مبارک کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. ح وَحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أنَسًا يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید، نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ١ ؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was neither very tall nor short statured, neither very white nor wheat-complexioned. Neither did he have curly hair nor very straight. Allah sent him when he was forty years old. He stayed in Makkah for ten yeis thereafter, and ten years in Madinah, Allah took him away when he was sixty years old, and there were not on his head and beard twenty white hair. [Ahmed 13159, Bukhari 3547, Muslim 2374]

صحيح مختصر الشمائل رقم (1) ، وقد مضی شطره الأول (1823)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3623
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ ساٹھ ( ٦٠) برس کے تھے ان لوگوں نے کسور عدد کو چھوڑ کر صرف دہائیوں کے شمار پر اکتفا کیا ہے ، اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ پینسٹھ سال کے تھے تو ان لوگوں نے سن وفات اور سن پیدائش کو بھی شمار کرلیا ہے ، لیکن سب سے صحیح قول ان لوگوں کا ہے جو ترسٹھ ( ٦٣) برس کے قائل ہیں ، کیونکہ ترسٹھ برس والی روایت زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٤٧، و ٣٥٤٨) ، واللباس ٦٨ (٥٩٠٠) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣١ (٢٣٤٧) (تحفة الأشراف : ٨٣٣) (صحیح)
3624Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘There is a stone in Makkah that used to greet me in the nights when I was commissioned. I know it even now.’ [Ahmed 20867, Muslim 2277]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3624
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ١ (٢٢٧٧) (تحفة الأشراف : ٢١٦٥) ، و مسند احمد (٥/٥٩، ٩٥) ، وسنن الدارمی/المقدمة ٤ (٢٠) (صحیح)
3625Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ، وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، قُلْنَا: فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.

سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے (سمرہ سے) کہا : تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا ؟ انہوں نے کہا : تمہیں تعجب کس بات پر ہے ؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ١ ؎۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub narrated: We were with the Prophet ﷺ once. We ate from a bowl from morning to night, ten would get up and ten would take the seat. The narrator said that they asked Samurah, “Was not the bowl replenished?” He said, “With what are you surprised? It was not replenished but from here,” and he pointed to the heaven. [Ahmed 201551]

صحيح، المشکاة (5958)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3625
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اللہ کی طرف سے معجزانہ طور پر کھانا بڑھایا جاتا رہا ، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٤٦٣٩) (صحیح)
3626Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا، فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَقَالُوا: عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ، مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی السلام علیک یا رسول اللہ کہتے۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: I came forth with the Prophet ﷺ through the suroundings of Makkah. Every rock and tree welcomed him, saying, “Peace be on you, O Messenger of Allah.”

ضعيف، المشکاة (5919 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3626
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : فروہ بن ابی المغراء معدی کرب ، کندی ، کوفی استاذ امام بخاری ، امام ابوحاتم رازی ، امام ابوزرعہ رازی ، متوفی ٢٢٥ ھ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١٥٩) (ضعیف) (سند میں عباد بن یزید مجہول، اور ولید بن ابی ثور ضعیف اور سدی متکلم فیہ راوی ہیں)
3627Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کردیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم ﷺ نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ used to deliver sermon reclining on the trunk of a palm tree. The sahabah (RA) chose a pulpit for him and he delivered a sermon from it, but the trunk wept like the weeping of a she-camel. So, he descended and stroked it and it ceased to weep.

صحيح، ابن ماجة (1415)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3627
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ آپ کے نبی ہونے کی دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٩٤) ، و مسند احمد (٣/٢٢٦، ٢٩٣) (صحیح)
3628Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ: إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ ، فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے ؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ (ٹہنی) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا : لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a villager came to Allah’s Messenger ﷺ and asked, “How do I know that you are a Prophet?” He said, “If I summon this bunch from this date tree, asking if it testifies that I am Allah’s Messenger?” So, he summaned it. It come down from the tree, dropped before the Prophet ﷺ . Then he commonded it, “Return.” So it returned and the villager submitted in Islam. [Ahmed 1954]

صحيح، المشکاة (5926 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3628
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٤٠٧) (صحیح) (لیکن ” فأسلم الأعرابي “ کا لفظ ثابت نہیں ہے، سند میں محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاری ہیں، اور محمد بن سعید بن سلیمان الکوفی ابو جعفر ثقہ ہیں، لیکن شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، فأسلم الأعرابي یعنی اعرابی مسلمان ہوگیا، کا جملہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، الصحیحة ٣٣١٥)
3629Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بُنُ بَشَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي ، قَالَ عَزْرَةُ: إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ بِيضٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ.

ابوزید بن اخطب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں : وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Zayd ibn Akhtab (RA) narated: Allah’s Messenger ﷺ stroked my face with his hand and prayed for me. Azrah reported that he went on to live for a hundred and twenty years and there were not on his head but a few white hair. [Ahmed 22953]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3629
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایسا آپ ﷺ کے ابوزید کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرنے اور دعا کی برکت سے ہوا ، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٦٩٧) (صحیح)
3630Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، قَالَ: فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِطَعَامٍ ؟ ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: قُومُوا ، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ؟ ، فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِعُكَّةٍ لَهَا فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ابوطلحہ (رض) نے ام سلیم (رض) سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، آپ نے پوچھا : کھانا لے کر ؟ میں نے کہا : جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا : اٹھو چلو ، چناچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ (رض) کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ (رض) نے کہا : ام سلیم ! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ (رض) چلے اور آ کر رسول اللہ ﷺ سے ملے، تو رسول اللہ ﷺ آئے اور ابوطلحہ (رض) آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ام سلیم ! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ، چناچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چناچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کردیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا : دس آدمیوں کو اندر آنے دو ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہوگئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا : دس کو اندر آنے دو ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہوگئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported: Abu Talhah (RA) said to Umm Sulaym , “I heard the voice of Allah’s Messenger and it was weak. I know that it is from hunger, So, do you have anything (to eat)?” She said, “Yes,” and she brought some loaves of barley bread. Then she took out her scarf and wrapped the bread in some of it and put it in my hand and covered my head with the rest of it (the searf). She sent me to Allah’s Messenger ﷺ went to him with it and found him sitting in the mosque with some men. I stood by them. He said, “Did Abu Talhah send you?” I said, “Yes,” He asked, “With food?” I answered, “Yes.” Allah’s Messenger ﷺ said to those with him, “Stand up!” They walked along and I walked ahead of them till I came to Abu Talhah . and informed him. He exclaimed, “O Umm Sulaym, Allah’s Messenger ﷺ has come with some men and we do not have anything to serve them.” She said, “Allah and His Messenger know best.” So, Abu Talhah went forward and met Allah’s Messenger Li and they entered the house. Allah’s Messenger ﷺ said, “Bring here whatever you have.” O Umm Sulaym So she brought that bread, Allah’s Messenger ﷺ instructed her that the bread should be crushed and Umm Sulaym poured butter oil over it. Then Allah’s Messenger ﷺ prayed on the mixture what Allah willed that he pray. Then he said “Call ten men.” They came in and ate to their full and went out. Then he said, “Call ten.” They came and ate and went out. Then he said, “Call ten.” They came in, ate, and went out. So, all of them ate till they were satiated. They numbered seventy or eigthty men. [Ahmed 13427, Bukhari 422, Muslim 2040, Ibn e Majah 3342]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3630
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ کی دعا کی برکت سے کھانا معجزانہ طور پر اتنا زیادہ ہوا کہ ستر اسی لوگوں نے اس سے شکم سیر ہو کر کھایا ، یہ معجزا تھا جو آپ ﷺ کے نبی ہونے کی ایک اہل دلیل ہے ، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کو بھی بھوک لگتی تھی ، کیونکہ آپ بھی فطرتاً انسان تھے ، بعض علماء کا یہ کہنا بالکل یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا پلاتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی ، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا ، اور کبھی بھوک بھی لگتی تھی ، ورنہ پیٹ پر پتھر کیوں باندھتے ، آواز کیوں نحیف ہوجاتی ؟
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٣ (٤٢٢) ، والمناقب ٢٥ (٣٥٧٨) ، والأطعمة ٦ (٥٣٨١) ، والأیمان والنذور ٢٢ (٦٦٨٨) ، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢٠ (٢٠٤٠) (تحفة الأشراف : ٢٠٠) ، وط/صفة النبی ﷺ ١٠ (١٩) (صحیح)
3631Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، عصر کا وقت ہوگیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں : تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کرلیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I saw Allah’s Messenger ﷺ while the time of the salah of asr had approached. People searched for water to perform ablution but could not find it. They brought (some) water to Allah’s Messenger ﷺ for ablution. He put his hand on the vessel and instructed the men to perform ablution. I saw water springing out from under the fingers of the Prophet ﷺ ‘ And, the men performed ablution with it till the last of them. [Ahmed 1235, Bukhari 169, Muslim 2279, Nisai 76]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3631
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٢ (١٦٩) ، و ٤٥ (١٩٥) ، و ٤٦ (٢٠٠) ، والمناقب ٢٥ (٣٥٧ ¤ ٢- ٣٥٧٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣ (٢٢٧٩) ، سنن النسائی/الطھارة ٦١ (٧٦) (تحفة الأشراف : ٢٠١) ، وط/الطھارة ٦ (٣٢) ، و مسند احمد (٣/١٤٧، ١٧٠، ٢١٥) (صحیح)
3632Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا ابْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ الْعِبَادِ بِهِ أَنْ لَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا جَاءَتْ، مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَمَكَثَ عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلْوَةُ، فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہوجاتی تھی ١ ؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated. In the beginning of prophethood when Allah intended to make clear to the people his wonders and mercies, he saw dreams that came true like the bright gleam of dawn. This contimed as long as Allah willed. Solitude was dear to him and nothing was dearer to him than being alone.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3632
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی جو خواب بھی آپ دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہوجاتا تھا ، یہ آپ ﷺ کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی ، پھر کلامی وحی کا سلسلہ «اقراء باسم ربک» سے شروع ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٦١٢) (حسن صحیح)
3633Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً، لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ، قَالَ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کرلیا ۔

Sayyidina Abdullah (RA) said, “You people reckon the signs (of nature) as punishment, while in the times of Allah’s Messenger ﷺ we took them as blessings. We would eat food with the Prophet ﷺ and hear the tasbih of the food (that is, its glorifying Allah). The Prophet ﷺ was given a utensil in which he put his hand water poured forth through his fingers. He said, “Come to perform the blessed ablution,” the blessing was from the heaven and we all performed ablution. [Ahmed 4393, Bukhari 3579]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3633
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٥٧٩) (تحفة الأشراف : ٩٤٥٤) ، وسنن الدارمی/المقدمة ٥ (٣٠) ، و مسند احمد (١/٤٦٠) (صحیح)
3634Sunan At-Tirmidhiصحیح

نزول وحی کی کیفیت کے متعلق

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا، فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ ذِي الْبَرْدِ الشَّدِيدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

آتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ١ ؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ٢ ؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کرلیتا ہوں، عائشہ (رض) کہتی ہیں : چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔

Sayyidah Ayshah reported that Harith ibn Hisham asked the Prophet ﷺ how he received the revelatjoin. He said, “Sometimes, I hear the sound of bells and this is hard for me. And sometimes the angel comes to me in human form and speaks to me and I remember what he says.” Sayyidah Ayshah (RA) said, “Even on a day of sever cold, I saw that when revelation came down on him and ended, perspiration poured on his forehead.” [Ahmed 35307, Bukhari 2, Muslim 2333, Nisai 932]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3634
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کہتے ہیں : یہ آواز جبرائیل (علیہ السلام) کی آواز ہوتی تھی جو ابتداء میں غیر مفہوم ہوتی تھی ، پھر سمجھ میں آ جاتی مگر بہت مشکل سے ، اسی لیے یہ شکل آپ پر وحی کی تمام قسموں سے سخت ہوتی تھی کہ آپ پسینہ پسینہ ہوجایا کرتے تھے ، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کے پروں کی آواز ہوتی تھی ، جو اس لیے ہوتی کہ آپ ﷺ وحی کے لیے چوکنا ہوجائیں۔ ٢ ؎ : سب سے سخت ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحی ٢ (٢) ، وبدء الخلق ٦ (٣٢١٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٣ (٢٣٣٣) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٤، ٩٣٥) (تحفة الأشراف : ١٧١٥٢) ، وط/القرآن ٤ (٧) ، و مسند احمد (٦/١٥٨، ١٦٣، ٢٥٧) (صحیح)
3635Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی صفات کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ١ ؎ میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ٢ ؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ٣ ؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ٤ ؎۔

Sayyidina Bara (RA) narrated: I have never seen anyone with long hair wearing a red robe looking more beautiful than Allah’s Messenger ﷺ . His hair touched his shoulders. He was broad-shouldered, neither short nor tall. [Ahmed 18582]

صحيح ومضی (1794)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3635
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی ، کبھی آدھے کانوں تک ، کبھی کانوں کے لؤوں تک ، کبھی آدھی گردن تک ، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔ ٢ ؎ : مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے ، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا ، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا ، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے ، ( دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب ) ۔ ٣ ؎ : یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔ ٤ ؎ : ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں ، آپ درمیانی قد کے تھے ، عیب سے مبرا ، ماشاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٧٢٤ (صحیح)