Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 177 of 199

3596Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ ، قَالُوا: وَمَا الْمُفْرِدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْمُسْتَهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ، يَضَعُ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The mufarridun have taken the lead.” They asked, “O Messenger of Allah, who are the mufarridun? He said, “They are addicted to dhkr (remembrance) of Allah. Dhikr casts off from them their burden (of sin). So they will come on the Day of Resurection, light.”

ضعيف، الضعيفة (3690) // ضعيف الجامع الصغير (3240) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3596
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٤١١) (ضعیف) (سند میں ” عمر بن راشد “ ضعیف ہیں)
3597Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں : «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر» اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، کہوں۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said : That I say “Glory be to Allah and all praise belongs to Allah and there is no God but Allah and Allah is the Greatest. “ is dearer to me than everything on which the sun rises. [Muslim 2695, Nisai 841]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3597
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٥) (تحفة الأشراف : ١٢٥١١) (صحیح)
3598Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدَانَ الْقُبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَسَعْدَانُ الْقبِّيُّ هُوَ سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَأَبُو مُجَاهِدٍ هُوَ سَعْدٌ الطَّائِيُّ، وَأَبُو مُدِلَّةَ هُوَ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی : ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، (دوسرے) امام عادل، (تیسرے) مظلوم، اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور رب کہتا ہے : میری عزت (قدرت) کی قسم ! میں تیری مدد کروں گا، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘Three people will not be rejected their prayer: the one who fasts, at the time he takes iftar, the imam who is just and the oppressed, when he prays, Allah raises his prayer above the clouds and gates of heaven are opened for him and the Lord says, “By My Honour, I will surely help you though after somtime.” [Ibn e Majah 1752, Ahmed 9749)

ضعيف، لكن، الصحيحة منه الشطر الأول بلفظ : .... المسافر مکان الإمام العادل ، وفي رواية الوالد ، ابن ماجة (1752)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3598
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- سعدان قمی یہ سعدان بن بشر ہیں، ان سے عیسیٰ بن یونس، ابوعاصم اور کئی بڑے محدثین نے روایت کی ہے ٣- اور ابومجاہد سے مراد سعد طائی ہیں ٤- اور ابومدلہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں ہم انہیں صرف اسی حدیث کے ذریعہ سے جانتے ہیں اور یہی حدیث ان سے اس حدیث سے زیادہ مکمل اور لمبی روایت کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٨ (١٧٥٢) (تحفة الأشراف : ١٥٤٥٧) ، و مسند احمد (٢/٣٠ ¤ ٤- ٣٠٥، ٤٤٥، ٤٧٧) (ضعیف) (” الإمام العادل “ کے لفظ سے ضعیف ہے، اور ” المسافر “ کے لفظ سے صحیح ہے، سند میں ابو مدلہ مولی عائشہ “ مجہول راوی ہے، نیز یہ حدیث ابوہریرہ ہی کی صحیح حدیث جس میں ” المسافر “ کا لفظ ہے کے خلاف ہے، ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم ١٣٥٨، والصحیحة رقم : ٥٩٦)
3599Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا پڑھی : «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله علی كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» اے اللہ ! مجھے اس علم سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے فائدہ دے اور میرا علم زیادہ کر، ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تعریف ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed: O Allah, give me benefit from that which You have taught me, and teach me that which will benefit me, and increase me in knowledge, Praise belongs to Allah in every condition and I seek refuge in Allah from the condition of the dwellers of hell. [Ibn e Majah 251]

صحيح دون قوله : والحمد لله ... ، ابن ماجة (251 و 3833 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3599
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥١) ، والدعاء (٣٨٣٣) (تحفة الأشراف : ١٤٣٥٦) (صحیح) ” الحمد للہ۔۔۔ الخ) کا لفظ صحیح نہیں ہے، سند میں محمد بن ثابت مجہول راوی ہے، مگر پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی ٤٦٢)
3600Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ، فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ ؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، وَيَذْكُرُونَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا، وَأَشَدَّ تَمْجِيدًا، وَأَشَدَّ لَكَ ذِكْرًا، قَالَ: فَيَقُولُ: وَأَيُّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا لَهَا أَشَدَّ طَلَبًا، وَأَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ ؟ قَالُوا: يَتَعَوَّذُونَ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ هَرَبًا، وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا، وَأَشَدَّ مِنْهَا تَعَوُّذًا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُونَ: إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَهُمْ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُ: هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى لَهُمْ جَلِيسٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ (رض) یا ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں : آؤ آؤ یہاں ہے تمہارے مطلب و مقصد کی بات، تو وہ لوگ آ جاتے ہیں، اور انہیں قریبی آسمان تک گھیر لیتے ہیں، اللہ ان سے پوچھتا ہے : میرے بندوں کو کیا کام کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہو ؟ وہ کہتے ہیں : ہم انہیں تیری تعریف کرتے ہوئے تیری بزرگی بیان کرتے ہوئے اور تیرا ذکر کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں، وہ کہتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے (یا بن دیکھے ہوئے ہی میری عبادت و ذکر کئے جا رہے ہیں) وہ جواب دیتے ہیں : نہیں، اللہ کہتا ہے : اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو کیا صورت و کیفیت ہوگی ؟ وہ جواب دیتے ہیں، وہ لوگ اگر تجھے دیکھ لیں تو وہ لوگ اور بھی تیری تعریف کرنے لگیں، تیری بزرگی بیان کریں گے اور تیرا ذکر بڑھا دیں گے، وہ پوچھتا ہے : وہ لوگ کیا چاہتے اور مانگتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں : وہ لوگ جنت مانگتے ہیں، اللہ پوچھتا ہے کیا ان لوگوں نے جنت دیکھی ہے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : نہیں، وہ پوچھتا ہے : اگر یہ دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی ؟ وہ کہتے ہیں : ان کی طلب اور ان کی حرص اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی، وہ پھر پوچھتا ہے : وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : جہنم سے، وہ پوچھتا ہے : کیا ان لوگوں نے جہنم دیکھ رکھی ہے ؟ وہ کہتے ہیں : نہیں، وہ پوچھتا ہے : اگر یہ لوگ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی ؟ وہ کہتے ہیں : اگر یہ جہنم دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ دور بھاگیں گے، زیادہ خوف کھائیں گے اور بہت زیادہ اس سے پناہ مانگیں گے، پھر اللہ کہے گا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کی مغفرت کردی ہے ، وہ کہتے ہیں : ان میں فلاں خطاکار شخص بھی ہے، ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے نہیں بلکہ کسی ضرورت سے آیا تھا، (اور بیٹھ گیا تھا) اللہ فرماتا ہے، یہ ایسے (معزز و مکرم) لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشیں بھی محروم نہیں رہ سکتا (ہم نے اسے بھی بخش دیا) ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah has travelling angels on earth quite apart from the recorders of men’s deeds. When they come across people remembering Allah, they call each other to their goal They come to them and cover them up to the heaven above earth. Allah asks them “In what deed did you leave My slaves?” They say, “We left them praising You, extolling You and remembering You,” He asks, “Have they seen Me?” They say, “They have not seen You.” He asks, “Then how will they act if They see Me?” They say, ‘.If they see You then they will exert themselves more in prasing You, more in extolling You and more in remembering You.” He asks. “What were they wishing for?” They say, “They wished for paradise.” He asks, “Have they seen it?” They answer,”No,” He asks, “How will it be if they see it?” They say, “Were they to see it, they would be more desirous of it and more eager for it.” Allah asks, “From what do they seek refuge?” They say, “They seek refuge from hell.” He asks, “Have they seen it?” They say “No!” He asks “How would they behave if they see it?” They say, “Were they to see it, they would flee from it with greater force, aid fear it more and seek refinge from it more severely.” He says, “I make you witnesses that I kave forgiven them.” They say, “Among them was a certain man who came incidentally, with no intention to join them. He had come to them for a need.” He says, “They are a people, none who sits with them will be miserable.” [Ahmed 7428, 8713]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3600
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٠١٥، و ١٢٥٤٠) ، و مسند احمد (٢/٢٥١) (صحیح)
3601Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ مَكْحُولٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهُنَّ الْفَقْرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَة.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ مکحول کہتے ہیں : جس نے کہا : «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من اللہ إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کردیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “Recite frequently: There is no power and no might except with Allah. It is a treasure of paradise. Makhul said that if anyone says: There is no power and no might except with Allah and no refuge from Him except in Him, then seventy doors of harm are removed from him, the humblest of them being poverty. [Ahmed 8414]

صحيح دون قول مکحول فمن قال ... فإنه مقطوع، الصحيحة (105 و 1528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3601
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے ابوہریرہ (رض) سے نہیں سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٦٢١) (صحیح) (سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لیے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة ١٠٥، ١٥٢٨)
3602Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاء اللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہوگا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every Prophet ﷺ has a supplication that is granted. I have held in abeyance my supplication for intercession for my ummah and it will be available to everyone of them who dies without having associated anything with Allah.” [Ahmed 10315, Bukhari 6304, Muslim 198, Ibn e Majah 4307]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3602
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ہر اس شخص کو اللہ کے رسول ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی جس نے کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا مشرک خواہ غیر مسلموں کا ہو ، یا نام نہاد مسلمانوں کا شرک کے مرتکب کو یہ شفاعت نصیب نہیں ہوگی ، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حق مذہب وہی ہے جس کے قائل سلف صالحین ہیں ، یعنی موحد گناہوں کے سبب ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا ، گناہوں کی سزا بھگت کر آخری میں جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی ، الا یہ کہ توبہ کرچکا ہو تو شروع ہی میں جنت میں چلا جائے گا ، ان شاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٦ (١٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣٠٧) (تحفة الأشراف : ١٢٥١٢) ، و مسند احمد (٢/٢٧٥، ٣١٣، ٣٨١، ٣٩٦، ٤٠٩، ٤٢٦، ٤٣٠، ٤٨٦، ٤٨٧) ، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٥ (٢٨٤٧، ٢٨٤٨) (صحیح)
3603Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنِ الْأَعْمَشِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ: مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا يَعْنِي بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَهَكَذَا فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالُوا: إِنَّمَا مَعْنَاهُ يَقُولُ: إِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ الْعَبْدُ بِطَاعَتِي وَمَا أَمَرْتُ أُسْرِعُ إِلَيْهِ بِمَغْفِرَتِي وَرَحْمَتِي.وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ سورة البقرة آية 152 قَالَ: اذْكُرُونِي بِطَاعَتِي أَذْكُرْكُمْ بِمَغْفِرَتِي. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَعَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الرَّمْلِيُّ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کہتا ہے : میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ١ ؎، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت (لوگوں) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں (یعنی فرشتوں میں) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں، اگر کوئی میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah says, “I am as My slave expects Me. I am with him when he remembers Me. If he mentions Me, in his mind, I remember him to Myself. If he remembers Me in a company, I remember him in company better than them. If he comes towards Me by a span, I approach him by a cubit. If he comes nearer Me by a cubit, I come near to him by two cubits. If he comes to Me walking, I come to him running.” [Ahmed 7426, Muslim 2675, Ibn e Majah 3822]

صحيح، ابن ماجة (3822) صحيح، ابن ماجة (3822)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3603 سعید بن جبیر اس آیت : «فاذکروني أذكركم» کے بارے میں فرماتے ہیں : «اذکروني» سے مراد یہ ہے کہ میری اطاعت کے ساتھ مجھے یاد کرو میں تمہاری مغفرت میں تجھے یاد کروں گا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3603
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کی تفسیر میں اعمش سے مروی ہے کہ اللہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں ، اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہوں، ٣- اور اسی طرح بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد جب بندہ میری اطاعت اور میرے مامورات پر عمل کر کے میری قربت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اپنی رحمت و مغفرت لے کر اس کی طرف تیزی سے لپکتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی : اگر مومن بندہ اپنے تئیں اللہ سے یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے گا ، میرے اوپر رحمت کرے ، مجھے دین و دنیا میں بھلائی سے بہرہ ور کے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس حسن ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہے ، بعض شارحین کہتے ہیں : یہاں ظن گمان نہیں یقین کے معنی میں ہے ، یعنی : بندہ جیسا اللہ سے یقین رکھتا ہے اللہ ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥) ، و ٣٥ (٧٥٠٥) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٦ (٢٦٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٨ (٣٨٢٢) (تحفة الأشراف : ١٢٥٠٥) (وراجع ماتقدم عند المؤلف في الزہد (برقم ٢٣٨٨) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3604Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «استعيذوا بالله من عذاب جهنم واستعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال واستعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات» اللہ سے پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو مسیح دجال کے فتنے سے اور اللہ سے پناہ مانگو زندگی اور موت کے فتنے سے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Seek refuge in Allah from punishment in hell. Seek refuge in Allah from punishment in the grave. Seek refuge in Allah from the mischief of the dajjal and seek refuge in Allah from the trial through life and death.

صحيح الإسناد، صفة الصلاة (163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3604
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٩٢ (٥٩٠) ، و مسند احمد (٢/٢٩٠) (تحفة الأشراف : ١٢٧٥٣) (صحیح)
3605Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل، وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل بَنِي كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اسماعیل (علیہ السلام) کا انتخاب فرمایا ١ ؎ اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ۔

Sayyidina Wathilah ibn Asqa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Allah chose ismail from the offspring of Ibrahim, and from the progeny of Isma’il, He chose Hanu Kinariab. From Banu Kinanah, He chose the Quraysh, and from the Quraysh, He chose Banu Hashim, and He chose me from Banu Hashim.’ [Ahmed 16984, Muslim 2276]

صحيح دون الاصطفاء الأول، الصحيحة (302) ، ويأتى برقم (3869) ، (3687) // أي في صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - برقم (2855 / 1 - 3869) ، ضعيف الجامع الصغير (1553) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3605
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : صحیح مسلم میں اگلی حدیث کی طرح یہ ٹکڑا نہیں ہے ، یہ محم بن مصعب کی روایت سے ہے جو کثیر الغلط ہیں ، اس لیے یہ ضعیف ہے ، معنی کے لحاظ سے بھی یہ ٹکڑا صحیح نہیں ہے ، اس سے دوسرے ان انبیاء کی نسب کی تنقیص لازم آتی ہے ، جو اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ، اس کے بعد والے اجزاء میں اس طرح کی کوئی بات نہیں اس حدیث سے نبی کریم محمد بن عبداللہ عبدالمطلب کے سلسلہ نسب کے شروع سے اخیر تک اشرف نسب ہونے پر روشنی پڑتی ہے ، نبی قوم کے اشرف نسب ہی میں مبعوث ہوتا ہے ، تاکہ کسی کے لیے کسی بھی مرحلے میں اس کی اعلیٰ نسبی اس نبی پر ایمان لانے میں رکاوٹ نہ بن سکے ، یہ بھی اللہ کی اپنے بندوں پر ایک طرح کی مہربانی ہی ہے کہ اس کے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لانے میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ سی بات رکاوٹ نہ بن سکے ، «فالحمدللہ الرحمن الرحیم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ١ (٢٢٧٦) (تحفة الأشراف : ١١٧٤١) ، مسند احمد (٤/١٠٧) (صحیح) (پہلا فقرہ إن اللہ اصطفی من ولد إبراهيم إسماعيل کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، اس سند میں محمد بن مصعب صدوق کثیر الغلط راوی ہیں، اور آگے آنے والی حدیث میں یہ پہلا فقرہ نہیں ہے، اس لیے یہ ضعیف ہے، الصحیحة ٣٠٢)
3607Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ قُرَيْشًا جَلَسُوا فَتَذَاكَرُوا أَحْسَابَهُمْ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا مَثَلَكَ مَثَلَ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ، فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ مِنْ خَيْرِ فِرَقِهِمْ، وَخَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ قَبِيلَةٍ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْبُيُوتَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ بُيُوتِهِمْ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ نَوْفَلٍ.

عباس بن عبدالمطلب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قریش کے لوگ بیٹھے اور انہوں نے قریش میں اپنے حسب کا ذکر کیا تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی کوڑے خانہ پر (اگا) ہو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ (یعنی اولاد اسماعیل) میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں ۔

Sayyidina Abbas ibn Muttalib narrated that he said, ‘O Messenger of Allah, the Quraysh gathered together and recalled their ancestry among each other and gave your example as a palm tree on a rising on land.” The Prophet ﷺ said, Allah created the universe and made me from the best of them in the best of their group and the best of their two sections. Then He chose the tribes and made me of the best tribe. Then He chose the families and made me of the best of the families. So I am the best of them as an individual and familywise too.”

ضعيف نقد الکتاني (31 - 32) ، الضعيفة (3073) // ضعيف الجامع الصغير (1605) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3607
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي ( تحفة الأشراف : ٥١٣٠) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں)
3608Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِالْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: مَنْ أَنَا ؟ فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، وَخَيْرِهِمْ نَفْسًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَرُوِي عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.

مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، گویا انہوں نے کوئی چیز سنی تھی، تو نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا ۔

Muttalib ibn Abu Wada’ah reported that Sayyidina Abbas (RA) came to Allah’s Messenger as though he had heard something from the Quraysh. The Prophet ﷺ stood up on the pulpit and asked, “Who am I’ They said, ‘You are Allah’s Messenger may peace be on you.’ He said, “1 am Muhammad ibn Ahdullah ibn Abdul Muttalib. Allah created everything and made the best of them. Then He made them into two groups and placed me in the best of them. Then He made them tribes and placed mc in the best of tribes. Then He made them families and placed me in the best of them familywise and as an individual.” [Tirmidhi 3543, Ahmed 1788]

ضعيف، الضعيفة (3073)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3608
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے (وہ یہی روایت ہے) ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٥٣٢ (ضعیف)
3606Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ۔

Sayyidina Wathilah ibn Asqa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Surely Allah chose Kinanah from the progemy of Isma’il, and He chose Quraysh from the Kinanah, and He chose Hashim from Quraysh, and He chose me from Banu Hashim. [Tirmidhi 3625]

صحيح، الصحيحة (302)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3606
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) (الصحیحة ٣٠٢)
3609Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ ؟ قَالَ: وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی ؟ تو آپ نے فرمایا : جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے ١ ؎۔ (یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that people asked, “O Messenger of Allah, when was prophethood bestowed on you?’ He said, ‘When Aadam was between soul and body.”

صحيح، الصحيحة (1856) ، المشکاة (5758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3609
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ (رض) کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہی وہ مشہور حدیث ہے جس کی تشریح میں اہل بدعت حد سے زیادہ غلو کا شکار ہوئے ہیں حتیٰ کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تنقیص تک بات جا پہنچی ہے ، حالانکہ اس میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے میرے لیے نبوت کا فیصلہ ( بطور تقدیر ) کردیا گیا تھا ، ظاہر بات ہے کہ کسی کے لیے کسی بات کا فیصلہ روز ازل میں اللہ نے لکھ دیا تھا ، اور روز ازل آدم (علیہ السلام) پیدائش سے پہلے ، اس حدیث کے ثابت الفاظ یہی ہیں باقی دوسرے الفاظ ثابت نہیں ہیں جیسے «کنت نبیا وآدم بین الماء والطین» میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی اور مٹی کے درمیان تھے اسی طرح «کنت نبیا ولاماء ولا طین» میں اس وقت نبی تھا جب نہ پانی تھا نہ مٹی ، یعنی تخلیق کائنات سے پہلے ہی میں نبی تھا ان الفاظ کے بارے میں علماء محدثین نے «لا اصل لہ» فرمایا ہے ، یعنی ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کی کوئی صحیح کیا غلط سند تک نہیں اللہ غلو سے بچائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٥٣٩٧) (صحیح)
3610Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا، وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا، لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي، وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلَا فَخْرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہوجائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہوگا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I will be the first of the people to come out (of the grave) when they are resurrected. I will be their spokesman when they go before Allah. And I will be the giver of glad tidings to them when they are disappointed. On that day, the standard of Hamd (praise) will be in my hand. And I am the noblest of the childeren of Aadam in the sight of my Lord and there is no boast (about it).”

ضعيف، المشکاة (5765) // ضعيف الجامع الصغير (1309) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3610
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٣١) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
3612Sunan At-Tirmidhi(3611)ضعیف

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، فَأُكْسَى الْحُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I will he the first one for whom the earth will be split (at the grave). I will be made to wear garments of paradise. Then I will stand by the right of the throne. There is no one of the creatures other than me who will stand at that place.”

ضعيف، المشکاة (5766) // ضعيف الجامع الصغير (1311) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3611
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٥٥٦) (ضعیف) (سند میں حسین بن یزید کوفی، لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
3612Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ ؟ قَالَ: أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پاسکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ask Allah to let me have the wasilah.” They asked, “O Messenger of Allah, and what is wasila?” He said “Highest rank in paradise which none but one man will get. I hope that I will be the one.”

صحيح، المشکاة (5767) ، وهو الآتی (3876)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3612
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ٢- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں مذکورہ وسیلہ سے وہی وسیلہ مراد ہے ، جس کی دعا ایک امتی نبی کریم ﷺ کے لیے ہر اذان کے بعد کرتا ہے ،«اللہم آت محمد الوسیلۃ» اے اللہ ! محمد ﷺ کو وسیلہ عطا فرما اس حدیث میں آپ نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کردیا ، اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کرسکتا ہے ، یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا ، آپ کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے ، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ ہی ہوں گے ، اس حدیث سے آپ کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٤٢٩٥) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث نمبر ٣٦١٤ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
3613Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْالطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي فِي النَّبِيِّينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا وَتَرَكَ مِنْهَا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِالْبِنَاءِ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُونَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ، وَأَنَا فِي النَّبِيِّينَ مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ .وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہوجاتی، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے ۔

Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: My example among the Prophets is like a man who built a house. He made it beautiful and completed it and adorned it, but left in it space for a brick. People came and looked round it and were delighted with it and commented, “Would that this space of brick was filled up!” And, I among the Prophets am the space for that brick.” And with the same sanad from the Prophet, he said, “When it is the Day of Resurrection, I will he the Imam of the Prophets and the owner of the intercession-without boast. [Ahmed 21301]

صحيح تخريج فقه السيرة (141) صحيح تخريج فقه السيرة (141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3613 اور اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور (اور اس پر مجھے) کوئی گھمنڈ نہیں ١ ؎۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3613
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث منجملہ ان احادیث کے ہے جن سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے ، تو فرمایا کہ میں وہ آخری اینٹ ہوں اب اس اینٹ کے جگہ پر جانے کے بعد کسی اور اینٹ کی ضرورت ہی کیا رہ گئے شاعر نے اس حدیث کی کیا خوب ترجمانی کی ہے : قصر ہدیٰ کے آخری پتھر ہیں مصطفی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٢) ، و مسند احمد (٥/١٣٧) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3615Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہوگا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہوگی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eedKhudri (RA) reported that Allah’s Messenger ‘ said, “I will be the chief of the children of Aadam on the Day of Resurrection-no boast. In my hand will be the standard of praiseh-and, no boast. There will be no Prophet ﷺ on that day-Aadam included-but will be under my banner. And, I will be the firstfor whom the earth will be split open-and, no boast.” [Ahmed 10987]

صحيح، ابن ماجة (4308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3615
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے، ٢- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے، وہ اسے ابن عباس (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ تمام باتیں نبی اکرم ﷺ کی دیگر انبیاء پر فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ گھمنڈ اس لیے نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ عزوجل کے خاص فضل و انعام سے ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣١٤٨ (صحیح)
3614Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، وَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ هَذَا قُرَشِيٌّ مِصْرِيٌّ مَدَنِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ شَامِيٌّ.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ١ ؎ پھر میرے اوپر صلاۃ (درود) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک (ایسا بلند) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے (اللہ سے) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “When you hear the mu ‘ahdhin, say the like of what he says. Then invoke blessing on me, for, if anyone invokes blessing on me once, Allah sends on him ten blessings. Then ask (Allah) for the wasilah for me. It is a station in paradise, not available to anyone but only one of Allah’s slaves, and I hope that I will be the one. And, as for him who asks the wasilah for me, my intercession will become lawful for him.” [Muslim 384, Abu Dawud 523, Nisai 671, Ahmed 6579]

صحيح، الإرواء (242) ، التعليق علی بداية السول (20 / 52)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3614
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : سوائے «حي علی الصلاة ، حي علی الفلاح» کے اس جواب میں کہا جائے گا ، «لا حول ولا قوة إلا بالله» مطلب یہ ہے کہ مؤذن جو صلاۃ و فلاح کے لیے پکار رہا ہے ، تو اس پکار کا جواب ہم بندے بغیر اللہ کے عطا کردہ طاقت و توفیق کے نہیں دے سکتے ، یعنی صلاۃ میں نہیں حاضر ہوسکتے جب تک کہ اللہ کی مدد اور توفیق نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٤٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (٥٢٣) ، سنن النسائی/الأذان ٣٧ (٦٧٩) (تحفة الأشراف : ٨٨٧١) ، و مسند احمد (٢/١٦٨) (صحیح)