Sunan At-Tirmidhi 3612

مناقب کا بیان

3612Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي كَعْبٌ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَسِيلَةُ ؟ قَالَ: أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَعْبٌ لَيْسَ هُوَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پاسکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ask Allah to let me have the wasilah.” They asked, “O Messenger of Allah, and what is wasila?” He said “Highest rank in paradise which none but one man will get. I hope that I will be the one.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (5767)، وهو الآتی (3876)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3612
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ٢- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مذکورہ وسیلہ سے وہی وسیلہ مراد ہے، جس کی دعا ایک امتی نبی کریم ﷺ کے لیے ہر اذان کے بعد کرتا ہے،«اللہم آت محمد الوسیلۃ» اے اللہ! محمد ﷺ کو وسیلہ عطا فرما اس حدیث میں آپ نے جو امت کو اپنے لیے وسیلہ طلب کرنے کے لیے فرمایا خود ہی اس طلب کو اذان کی بعد والی دعا میں کردیا، اذان سے باہر بھی آدمی نہ دعا کرسکتا ہے، یہ دعا کرنے سے خود آدمی کو دعا کا ثواب ملا کرے گا، آپ کو تو وسیلہ عطا کیا جانے والا ہی ہے، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے سرفراز ہونے والا میں ہی ہوں گا تو یقیناً آپ ہی ہوں گے، اس حدیث سے آپ کی فضیلت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٢٩٥) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور کعب مدنی مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث نمبر ٣٦١٤ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)