Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 142 of 199

2885Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت آل عمران کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ إِذْ رَأَى دَابَّتَهُ تَرْكُضُ، فَنَظَرَ فَإِذَا مِثْلُ الْغَمَامَةِ أَوِ السَّحَابَةِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ مَعَ الْقُرْآنِ أَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقُرْآنِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورة الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے (سواری) کو دیکھا کہ وہ (اپنے کھونٹے پر) ناچنے اور اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر (ادھر ادھر) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس (واقعہ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ سکینت (طمانینت) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی ۔

Sayyidina Bara (RA) reported that while a man was reciting surah al-Kahf, he observed his animal jump. He looked and indeed, something like a cloud was near. He went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him. He said, “This is sakinah (tranquility) that descends with the Qur’an or descends on the Qur’an.” [Bukhari 3614,Muslim 895,Ahmed 18534]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١٤) ، وتفسیر سورة الفتح ٤ (٤٨٣٩) ، وفضائل القرآن ١١ (٥٠١١) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٦ (٧٩٥) (تحفة الأشراف : ١٨٧٢) (صحیح )
2886Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت آل عمران کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے سورة الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone recites the first three verses of surah al-Kahf then he is protected from the fitnah of the dajjal.” [Muslim 809,Abu Dawud 4323,Ahmed 21771]

صحيح بلفظ : من حفظ عشر آيات ...... ، وهو بلفظ الکتاب شاذ، الصحيحة (582) ، الضعيفة (1336) // صحيح الجامع الصغير (6201) ، ضعيف الجامع الصغير (5765) // صحيح بلفظ : من حفظ عشر آيات ...... ، وهو بلفظ الکتاب شاذ، الصحيحة (582) ، الضعيفة (1336) // صحيح الجامع الصغير (6201) ، ضعيف الجامع الصغير (5765) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2886 اس سند سے بھی اسے ابوالدرداء (رض) نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2886
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اس کی موجودگی میں دجال کا ظہور ہو بھی جائے تو بھی وہ اللہ کی رحمت اور ان آیات کی برکت سے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٤ (٨٠٩) ، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣٢٣) (تحفة الأشراف : ١٠٩٦٣) (صحیح) (مؤلف کے الفاظ ” ثلاث آیات “ کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے، مؤلف کے سوا سب کے یہاں ” عشر آیات “ ہی کے الفاظ ہیں) انظر ماقبلہ (صحیح )
2887Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت یسین کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس، وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَبِالْبَصْرَةِ لَا يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورة یاسین ہے۔ اور جس نے سورة یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا ۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is a heart for everything and the heart of the Quran is Yasin. And, if anyone recites Yasin, Allah records for him against his recital of it a recital of the Quran ten times.”

موضوع، الضعيفة (169) ، // ضعيف الجامع الصغير (1935) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ٣ - اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ٤ - اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٥٠) (موضوع) (سند میں ہارون العبدی اور مقاتل بن سلیمان کذاب ہیں، یہاں مقاتل بن سلیمان ہی صحیح ہے، مقاتل بن حیان سہو ہے، دیکھیے : الضعیفة رقم : ١٦٩ )
2888Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت دخان کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ يُضَعَّفُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سورة «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites surah Haa Meem ad-Dukhan in the night he will see the morning while seventy thousand angels seek forgiveness for him.”

موضوع، المشکاة (2149) // ضعيف الجامع الصغير (5766) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2888
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٤١٣) (موضوع) (مولف نے سبب بیان کردیا ہے )
2889Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت دخان کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ غُفِرَ لَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ يُضَعَّفُ، وَلَمْ يَسْمَعْ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites Haa Meem ad-Dukhan (#44) one the night of Friday then he is forgiven.”

ضعيف، الضعيفة (4632) ، المشکاة (2150 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5767) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ٣ - حسن بصری نے ابوہریرہ (رض) سے نہیں سنا ہے، ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٢٥٢) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے )
2890Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت ملک کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَرَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ، وَهُوَ لَا يَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ، فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ضَرَبْتُ خِبَائِي عَلَى قَبْرٍ، وَأَنَا لَا أَحْسِبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَانٌ يَقْرَأُ سُورَةَ تَبَارَكَ الْمُلْكُ حَتَّى خَتَمَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کردیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورة «تبارک الذي بيده الملک» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورة ختم کردی۔ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کردیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورة «تبارک الملک» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورة ختم کردی۔ آپ نے فرمایا : «هي المانعة» یہ سورة مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that one of the companions of the Prophet ﷺ pitched a tent on a grave. He did not know that there was grave. It was the grave of human beings, who recited surah al-Mulk (#67) to the end of it. He came to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah ﷺ , I pitched my tent over a grave without knowing that it was a grave. The man inside recited surah al-Mulk to its end.” The Prophet ﷺ said, “It is the rescuer. It rescues from punisment of the grave.”

ضعيف، وإنما يصح منه قوله : هي المانعة ..... ، الصحيحة (1140) // ضعيف الجامع الصغير (6101) ، المشکاة (2154) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٣٦٧) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن عمرو ضعیف راوی ہیں، لیکن ” ھي المانعة “ کا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیے : الصحیحة رقم ١١٤٠ )
2891Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت ملک کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورة نے ایک آدمی کی شفاعت (سفارش) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورة «تبارک الذي بيده الملک» ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “A surah of the Qur’an has thirty verses. It intercedes for a man till he is forgiven. It is (Surah al-Mulk).” [Abu Dawud 1400, Ibn e Majah 3786,Ahmed 7980]

حسن، التعليق الرغيب (2 / 223) ، المشکاة (2153)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٧ (١٤٠٠) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٧ (٧١٠) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٦) (تحفة الأشراف : ١٣٥٥٠) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٥٢) (حسن) (سند میں عباس الجشمی لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
2892Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت ملک کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ تِرْمِذِيٌّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، مِثْلَ هَذَا، وَرَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى زُهَيْرٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعْتَ مِنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ صَفْوَانُ، أَوِ ابْنُ صَفْوَانَ، وَكَأَنَّ زُهَيْرًا أَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب تک «الم تنزيل» اور «تبارک الذي بيده الملک» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ would not go to sleep till he had recited (Surah as-Sajdah (#62) and (al-Mulk #66). [Nisai 711]

(حديث جابر) صحيح، (قول طاو وس) ضعيف مقطوع (حديث جابر) ، الصحيحة (585) ، الروض النضير (227) ، المشکاة (2155 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں : میں نے ابوزبیر سے کہا : آپ نے جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی ؟ ابوالزبیر نے کہا : مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٦ (٧٠٨) (تحفة الأشراف : ٢٩٣١) ، و مسند احمد (٣/٣٤٠) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” لیث بن ابی سلیم “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحہ رقم ٥٨٥ )
2893Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ زلزال کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلْمِ بْنِ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ إِذَا زُلْزِلَتْ عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ الْقُرْآنِ، وَمَنْ قَرَأَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ عُدِلَتْ لَهُ بِرُبُعِ الْقُرْآنِ، وَمَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ عُدِلَتْ لَهُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے سورة «إذا زلزلت الأرض» سورة پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورة «قل يا أيها الکافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites (az-Zilzal, surah # 99), it represents for him half the Qur’an. If anyone recites (al-Kafirun, surah # 109), it represents for him one-fourth of the Quran and if anyone recites (al-Ikhlas, surah # 112) then it represents for him one-third of the Qur’an.”

حسن دون فضل (زلزلت) ، الضعيفة (1142) // كذا أصل الشيخ ناصر والصواب (1342) ، ضعيف الجامع الصغير (5757) ، وسيأتي برقم (550 / 3071) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2893
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٢٨٤) (حسن) (سند میں حسن بن سلم مجہول راوی ہے، مگر ” { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } اور { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} کی فضیلت شواہد کی بنا پر حسن ہے، اور اول حدیث سورة زلزال سے متعلق ضعیف ہے )
2895Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورہ زلزال کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: ثُلُثُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے شادی کرلی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، قسم اللہ کی ! اللہ کے رسول ! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کرسکوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «قل هو اللہ أحد» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا : سورة «قل هو اللہ أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «إذا جاء نصر اللہ والفتح» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «قل يا أيها الکافرون» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا : (یہ) چوتھائی قرآن ہے ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں (ہے) آپ نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا : تم شادی کرو ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ asked one of his sahabah, “Have you married, O’ so-and-so”? He said, “No, By Allah, O Messenger of Allah ﷺ . And I have not enough to (be able to) marry.” He asked, “Do you not have surah (al-Ikhlas)”? He said, “Certainly, I have.” He said, “That is one-third of the Qur’an”, and he asked, “Do you not have surah (an-Nasr).” The man answered, “Of course, I have.” The Prophet ﷺ said, “That is one-fourth of thern Qur’an. And do you not have surah (al-Kafirun)”? He said, “Indeed I do have it.” He said “That is one-fourth of the Qur’an, and do you not have He said, “Of coure.” The Prophet ﷺ said “That is one-fourth of the Qur’an.” And added, “Go marry. Go marry”!

ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 224)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٧٠) (ضعیف) (سند میں سلم بن وردان ضعیف راوی ہیں، لیکن قل ھو اللہ سے متعلق فقرہ اوپر (٢٨٩٣) سے تقویت پا کر حسن ہے )
2894Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص اور سورت زلزال کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا زُلْزِلَتْ تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يأَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَمَانِ بْنِ الْمُغِيرَةِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «إذا زلزلت» (ثواب میں) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الکافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: The surah (az-Zilzal) represents half of the Qur’an and surah (al-Ikhlas) one third of the Qur’an and surah (Al-Kafirun) represents one-fourth of the Quran.”

صحيح دون فضل زلزلت انظر الحديث (3070)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٩٧٠) (صحیح) (سند میں یمان بن مغیرہ ضعیف راوی ہیں، مگر { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } اور { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} “ کی فضیلت شواہد کی بنا پر صحیح ہے )
2896Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنٍ امْرَأَةِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ مَنْ قَرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْسَنَ مِنْ رِوَايَةِ زَائِدَةَ، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ إِسْرَائِيلُ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنً الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَاضْطَرَبُوا فِيهِ.

ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے ؟ (آپ نے فرمایا) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا (یعنی سورة الاخلاص پڑھی) اس نے تہائی قرآن پڑھی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Ayyub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Is any of you unable to recite one-third of the Qur’an in a night? He who recites Surah al-Ikhlas has recited indeed one-third of the Qur’an.” [Nisai 992]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ٣ - اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (تحفة الأشراف : ٣٥٠٢) ، و مسند احمد (٥/٤١٩) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٨٠) (صحیح) (سند میں ” امرأة “ ایک مبہم راویہ ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
2897Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍمَوْلًى لِآلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، قُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ: الْجَنَّةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنُ حُنَيْنٍ هُوَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آیا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو اللہ أحد اللہ الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : واجب ہوگئی ۔ میں نے کہا : کیا چیز واجب ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا : جنت (واجب ہوگئی) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: I was with the Prophet ﷺ . He heard a man recite Surah al-Ikhlas, so he said, “It has become obligatory.” I asked, “What has become obligatory”? He said, “Paradaise.”

صحيح، التعليق الرغيب أيضا (2 / 224)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (٩٩٥) (تحفة الأشراف : ١٤١٢٧) ، وط/القرآن ٦ (١٨) ، و مسند احمد (٢/٥٣٦) (صحیح )
2898Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَهْلٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَيْ مَرَّةٍ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا عَبْدِيَ ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الْجَنَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو اللہ أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone recites Surah al-Ikhlas every day two hundred times then his sins over fifty years will be effaced unless he has a debt payable.” It is reported from the Prophet ﷺ through the same sanad that he said, “If anyone intends to sleep on his bed and lies down on his right side and recites Surah al-Ikhlas a hundred times then, on the Day of Resurrection, the Blessed and Exalted Lord will say to him, “O My slave, enter Paradise by your right side.”

(حديث : من قرأ كل ... ) ضعيف، (حديث : من أراد أن ينام .... ) ضعيف (حديث : من قرأ كل ... ) ، الضعيفة (300) ، المشکاة (2158) // ضعيف الجامع الصغير (5783) //، (حديث : من أراد أن ينام .... ) ، المشکاة (2159) // ضعيف الجامع الصغير (5389) // (حديث : من قرأ كل ... ) ضعيف، (حديث : من أراد أن ينام .... ) ضعيف (حديث : من قرأ كل ... ) ، الضعيفة (300) ، المشکاة (2158) // ضعيف الجامع الصغير (5783) //، (حديث : من أراد أن ينام .... ) ، المشکاة (2159) // ضعيف الجامع الصغير (5389) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2898 انس (رض) اسی سند سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور دائیں کروٹ پر لیٹ جائے پھر سو مرتبہ «قل هو اللہ أحد» پڑھے تو جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہے گا تو اپنی داہنی جانب سے جنت میں داخل ہوجا ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ثابت کی روایت سے جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے ثابت سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٢٨١) (ضعیف) (سند میں حاتم بن میمون سخت ضعیف راوی ہے ) انظر ماقبلہ (ضعیف )
2900Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ إِنِّي لَأَرَى هَذَا خَبَرًا جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ: سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سب اکٹھے ہوجاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں ، چناچہ آپ ﷺ کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہوگیا، پھر نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے، سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی اور (حجرہ شریفہ میں) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر (کوئی اطلاع) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم ﷺ کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا : میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورة «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Assemble! I am going to recite to you one-third of the Qur’an.” Hence, those who could, assembled (in the mosque). Allah’s Messenger ﷺ came out and recited Surah al-Ikhlas and then returned (to his home). So, some of the people said to some others, “Allah’s Messenger ﷺ had said that he would recite to us one-third of the Qur’an. I perceive that there is some news from the heaven (so he has gone home). Then, the Prophet ﷺ came out and said, “I had told you that I would recite to you one-third of the Qur’an. Know! This represents one-third of the Qur’an.” [Muslim 812,Ahmed 9540]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٥ (٨١٢) (تحفة الأشراف : ١٣٤٤١) ، و مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
2899Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «قل هو اللہ أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The surah al-Ikllas represents one-third of the Qur’an.”

صحيح، ابن ماجة (3783)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٣) (تحفة الأشراف : ١٢٦٧١) (صحیح )
2901Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ لَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقَرَأَ بِهَا افْتَتَحَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَقْرَأُ بِهَذِهِ السُّورَةِ ثُمَّ لَا تَرَى أَنَّهَا تُجْزِيكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، قَالَ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِهَا فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ، وَكَانُوا يَرَوْنَهُ أَفْضَلَهُمْ وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: يَا فُلَانُ، مَا يَمْنَعُكَ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ أَنْ تَقْرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ حُبَّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ. وَرَوَى مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، بِهَذَا.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ مسجد قباء میں ایک انصاری شخص ان کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو اللہ أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں (نمازیوں) نے اس سے (اس موضوع پر) بات کی، انہوں نے کہا : آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت (بھی) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا : میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں (کی امامت) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چناچہ نبی اکرم ﷺ جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا : اے فلاں ! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو ؟ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that a man of the ansar used to lead them in salah at the mosque Quba. When he was about to recite to them any surah in salah (after al-Fatihah), he would begin with Surah al-Ikhlas, and when he had finished with it, he would recite some other surah to them. This, he did in every rakaah. His friends said to him, ‘You recite this surah but do not feel that it is enough till you recite another surah So either recite it or omit it and recite another surah (but not both) He said, “I will not omit it If you like that I be your imam with that I will do that. But if you dislike it tben I will leave you “ They found him to be the best of them and disliked that anyone else should, lead them in salah. So, when the Prophet ﷺ came to them, they informed him of it. He said, “O man! what prevents you from observing what your friends ask you to do? And what brings you to recite this surah in every raka’ah”? He submitted, “O Messenger of Allah ﷺ ! I love it.” Allah’s Messenger ﷺ IiI said, “Your love for it wil indeed admit you to Paradaise.” [Bukhari 3775,Ahmed 12435]

حسن صحيح، التعليق الرغيب (2 / 224) ، صفة الصلاة (85) حسن صحيح، التعليق الرغيب (2 / 224) ، صفة الصلاة (85)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2901 انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس سورت کو پسند کرتا ہوں یعنی «قل هو اللہ أحد» کو آپ نے فرمایا : تمہاری اس کی یہی محبت و چاہت ہی تو تمہیں جنت میں پہنچائے گی ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2901
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٤/م) (تعلیقاً بقولہ : قال عبید اللہ بن عمر، عن ثابت، عن أنس) (تحفة الأشراف : ٤٥٧) (حسن صحیح ) تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٦٤/الف) (صحیح) (سند میں مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کیا کرتے تھے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2902Sunan At-Tirmidhiصحیح

معوذتین کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ آيَاتٍ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَازِمٍ أَبُو قَيْسٍ بْنِ حَازِمٍ يُسَمَّى عَبْدُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيِّ وَرَوَى عَنْهُ.

عقبہ بن عامر جہنی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل کی ہیں جیسی (کبھی) نہیں دیکھی گئی ہیں، وہ یہ ہیں : «قل أعوذ برب الناس» آخر سورة تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورة تک ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed, Allah has revealed to me verses, the like of which no one has seen (an-Naas) to the end of the surah and (al-Falaq) to the end of the surah.” [Ahmed 17305,Muslim 814,Abu Dawud 1462,Nisa i 953]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٦ (٨١٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٦ (٩٥٥) (تحفة الأشراف : ٩٩٤٨) ، و مسند احمد (٤/١٤٤، ١٥٠، ١٥١، ١٥٢) (صحیح )
2903Sunan At-Tirmidhiصحیح

معوذتین کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ commanded me to recite the Muawwidhatyn (surah al-Falaq and an-Naas) after every salah.” [Abu Dawud 1523,Nisai 1135]

صحيح، الصحيحة (1514) ، صحيح أبي داود (1363) ، التعليق علی ابن خزيمة (755)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2903
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٢٣) ، سنن النسائی/السھو ٨٠ (١٣٣٧) ، سنن ابی داود/ الاستعاذة ١ (٥٤٤١) (تحفة الأشراف : ٩٩٤٠) ، و مسند احمد (٤/٢٠١) (صحیح )
2904Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْسَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ قَالَ هِشَامٌ: وَهُوَ شَدِيدٌ عَلَيْهِ ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنے میں مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور بڑی مشکل سے پڑھ پاتا ہے، پڑھنا اسے بہت شاق گزرتا ہے تو اسے دہرا اجر ملے گا ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) is reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who recites the Qur’an and is adept at it will be with the honourable obedient recording (angels in heaven). And he who recites it while (Hisham’s version) it is difficult for him or (Shu’bah’s version) it is exacting on him, will get a double reward.” [Bukhari 4937,Nisai 244)

صحيح، صحيح أبي داود (1307)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : قرآن پڑھنے میں مہارت رکھنے والا ہو یعنی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ قرآن کو تجوید اور اچھی آواز سے پڑھنے والا ہو ، ایسا شخص نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہوگا ، اور جو مشقت کے ساتھ اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے قرآن پڑھنے کا ذوق و شوق ہے تو اسے اس مشقت کی وجہ سے دگنا اجر ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر ٧٩ (٤٩٣٧) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٨ (٧٩٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٩ (١٤٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٧٩) (تحفة الأشراف : ١٦١٠٢) ، و مسند احمد (٦/٤٨، ٩٤، ١١٠، ١٩٢) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ١١ (٣٤١١) (صحیح )