ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ و مزہ بھی اچھا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی سی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہے اور مزہ میٹھا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پودے کی ہے جس کی بو، مہک تو اچھی ہے مزہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے اندرائن (حنظل) (ایک کڑوا پھل) کی طرح ہے جس کی بو بھی اچھی نہیں اور مزہ بھی اچھا نہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa Asha’ari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The example of the believer who recites the Quran is like a citron whose fragrance is pleasant and whose taste is pleasant. And, the example of the believer who does not recite the Qur’an is like a date that has no fragrance though its taste is sweet. And, the example of the hypocribe who recites the Quran is like basil whose taste is bitter. Aned the example of the hypocrite who does not recite the Qur’an is like colocynth whose fragrance is repulsive and whose taste is bitter.” [Bukhari 5020, Muslim 797, Abu Dawud 4829, Ibn e Majah 214, Nisai 5053]
صحيح نقد الکتانی (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شعبہ نے قتادہ سے بھی روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلام کی اثر انگیزی انسان کے ظاہر و باطن دونوں میں پائی جاتی ہے اور انسان چونکہ مختلف اوصاف کے حامل ہوتے ہیں اس لیے قرآن کریم کا پورا پورا تاثیری فائدہ صرف اس بندے کو حاصل ہوتا ہے جو مومن ہونے کے ساتھ حافظ قرآن اور اس پر عمل کرنے والا ہو ، ایسا مومن اللہ کے نزدیک خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل کی طرح مقبول ہے۔ اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا باطن قرآن سے مستفید ہوتا ہے لیکن ظاہر محروم رہتا ہے ، یہ وہ مومن بندہ ہے جو قاری قرآن نہیں ہے ، ایسا مومن اللہ کے نزدیک اس مزے دار پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو نہیں ہوتی ، اور کچھ بندے ایسے ہیں جن کا ظاہر قرآن پڑھنے کے سبب اچھا ہے لیکن باطن تاریک ہے ، یہ قرآن پڑھنے والا منافق ہے ، یہ اللہ کے نزدیک اس خوشبودار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے ، اور کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اس قرآن سے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا ، یہ قرآن نہ پڑھنے والا منافق ہے ، یہ اللہ کے نزدیک حنظلہ اندرائن (حنظل) کی طرح ہے جس میں نہ تو خوشبو ہے اور نہ ہی اس کا مزہ اچھا ہے ، بلکہ کڑوا ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں (ادھر ادھر) ہلاتی رہتی ہیں۔ (ایسا ہی مومن ہے) مومن پر بلائیں برابر آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال صنوبر (اشوک) کے درخت کی ہے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں جب تک کہ کاٹ نہ دیا جائے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said. “The believer is like a field. The wind does not cease to bend him down and the believer does not cease to face trials. And, the hypocrite is like a pine tree that is motionless till it is uprooted.” [Ahmed 7195,Bukhari 544,Muslim 28089]
صحيح تخريج إيمان ابن أبى شيبة (86) ، الصحيحة (2883)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٤ (٢٨٠٩) (تحفة الأشراف : ١٣٢٧٩) (وراجع ماعند صحیح البخاری/ في المرضی ١ (٥٦٤٤) ، والتوحید ٣١ (٧٤٦٦) ، و مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٨٤، ٥٢٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتا نہیں جھڑتا، یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے ؟ عبداللہ کہتے ہیں : لوگ اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے، اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کھجور ہے ، مجھے شرم آ گئی کہ میں (چھوٹا ہو کر بڑوں کے سامنے) بولوں (جب کہ لوگ خاموش ہیں) پھر میں نے (اپنے والد) عمر (رض) کو وہ بات بتائی جو میرے دل میں آئی تھی، تو انہوں نے کہا (میرے بیٹے) اگر تم نے یہ بات بتادی ہوتی تو یہ چیز مجھے اس سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی کہ میرے پاس اس اس طرح کا مال اور یہ یہ چیزیں ہوتیں ۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is among trees, a tree whose leaves do not fall. It is like a believer. Tell me what it is”? Abdullah said the people thought of the trees of the wild while I thought of the date tree.” The Prophet ﷺ disclosed that it is the date (palm) tree. Abdullah siad, “I was shy to speak.” He said, “I narrated to Umar (RA) what had transpired with me. He said, ‘If you had spoken, that would have been dearer to me than that I had this and that.’” [Ahmed 5274,Bukhari 61,Muslim 2811]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤ (٦١) ، و ٥ (٧٢) ، و ٥٠ (١٣١) ، وتفسیر سورة ابراہیم ١ (٤٦٩٨) ، والأدب ٧٩ (٦١٢٢) ، و ٨٩ (٦١٤٤) ، صحیح مسلم/المنافقین ١٥ (٢٨١١) (تحفة الأشراف : ٧٢٣٤) ، و مسند احمد (٢/٣١، ٦١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا ؟ صحابہ نے کہا : اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا : یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Imagine if a river flows by the gate of one of you. He washes himself in it every day five times. Will there remain any dirt (on him)”? The companions said, “Nothing of dirt will remain.” He said, “That is like the five times prayer. Allah erases with them the sins.” [Ahmed 8933,Bukhari 528,Muslim 667,Nisai 461]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قتیبہ کہتے ہیں : ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ٣ - اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی سے انسان صغیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہوتا رہتا ہے ، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سنت کے مطابق نماز ادا کی جائے ، اور نماز کو نماز سمجھ کر پڑھا جائے۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کی مثال بارش کی ہے، نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The example of my ummah is like rain. It is not known whether first of it is better or the last of it.” [Ahmed 12329]
حسن صحيح، المشکاة (6277) ، الصحيحة (2286)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2869
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمار، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت ہے کہ وہ حماد بن یحییٰ الابح کی تائید و تصدیق کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔
فائدہ ١ ؎: معلوم ہوا کہ امت کا ہر فرد بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، نہیں معلوم اس میں سے کس کو کب اور کس وقت دوسرے سے خیر و برکت پہنچ جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٩١) ، و مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٣١٩) (حسن صحیح )
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے ١ ؎۔
Sayyidina Buraida (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Do you fathom what the example of this and of that is”? He cast two pebbles. They said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “This is hope. And this is the appinted time (death).”
١ ؎ : معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے ، اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے ، گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کرلے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٩٥٠) (ضعیف) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں۔ آدمی ان میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہیں پاتا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Men are only like a hundred camels (with anyone), yet a man does not find among them any worth riding.” [Ahmed 5623,Muslim 2547]
صحيح، ابن ماجة (3990)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2872
سفیان بن عیینہ زہری سے اسی سند سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور انہوں نے کہا : تم ان میں ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ گے، یا یہ کہا : تم ان میں سے صرف ایک سواری کے قابل پا سکو گے۔
We know it from Sa’eed reported it from Sufyan, from Zuhri through the same sanad, the like of it. Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People are just like a hundred camels. You do not find among them even one on which you may ride or you do not find among them any save one on which you may ride.”
صحيح انظر ما قبله (2872)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2873
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکھیاں اور پتنگے اس میں پڑنے لگے (یہی حال تمہارا اور ہمارا ہے) میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں (جہنم کی آگ میں) بلا سوچے سمجھے گھسے چلے جا رہے ہو ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “My example and of my ummah is like a man who kindles a fire. Insects and butterflies come over and fall into it, and I hold you back by your hems while you advance forward into it.” [Ahmed 8123, Bukhari 3426,Muslim 2284]
صحيح الضعيفة تحت الحديث (3082)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری مدت گزری ہوئی امتوں کے مقابل میں عصر سے مغرب تک کی درمیانی مدت کی طرح ہے (یعنی بہت مختصر تھوڑی) تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مزدور رکھے۔ اس نے کہا : میرے یہاں کون فی کس ایک قیراط پر دوپہر تک کام کرتا ہے ؟ تو یہود نے ایک ایک قیراط پر کام کیا، پھر اس نے کہا : میرے یہاں کون مزدوری کرتا ہے دوپہر سے عصر تک فی کس ایک ایک قیراط پر ؟ تو نصاریٰ نے ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم (مسلمان) کام کرتے ہو عصر سے سورج ڈوبنے تک فی کس دو دو قیراط پر۔ (یہ دیکھ کر) یہود و نصاریٰ غصہ ہوگئے، انہوں نے کہا : ہمارا کام زیادہ ہے اور مزدوری تھوڑی ہے ؟ ، اللہ نے فرمایا : کیا تمہارا حق کچھ کم کر کے میں نے تم پر ظلم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ تو اس نے کہا : یہ میرا فضل و انعام ہے میں جسے چاہوں دوں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: ‘Indeed, your appointed time relative to the people who have passed away is like between the salah of asr and the setting of the sun. And, your example relative to the Jews and Christians is like a man who hired many labourers asking, “Who will work for me till afternoon against a qirat.” The Jews worked against one qirat. Then he asked, “Who will work for me from afternoon on against a qirat”? The Christians worked against one qirat. Then you work from the salah of Asr to the setting of the sun against two qirats. So, the Jews and the Christians became angry and said, “We work more but are paid less.” He asked “Have I wornged you and denied anything of your right”? They said, “No.” He said, “This is my favour. I grant it to whom I will.” [Ahmed 5909,Bukhari 557]
صحيح مختصر البخاری (312)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ٩ (٢٢٦٦٩) ، وأحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٩) ، وفضائل القرآن ١٧ (٥٠٢١) (تحفة الأشراف : ٧٢٣٥) ، و مسند احمد (٢/٦، ١١١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب (رض) کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا : اے ابی (سنو) وہ (آواز سن کر) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا : السلام علیک یا رسول اللہ ! (اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو) ، رسول اللہ ﷺ نے کہا : وعلیک السلام (تم پر بھی سلامتی ہو) ابی ! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : (اب تک) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاکم لما يحييكم» اے ایمان والو ! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں (انفال ٢٤ ) ، انہوں نے کہا : جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہوگی۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! (ضرور سکھائیے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز میں تم (قرآن) کیسے پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں (حتیٰ کہ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ٢ ؎ (سات آیتیں) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ went to Ubayy ibn Ka’b. He called out. “O Ubbay!” He was engaged in salah and turned but did not answer. He shortened his salah and then went to Allahs Messenger ﷺ and said, “As-salammu alikum, O Messenger of Allah ﷺ ”! He said, “Wa alika salaam! What prevented you, O Ubayy, from answering me when I called you”? He said, “O Messenger of Allah ﷺ , I was engaged in salah.” He said, “Have you not observed that which Allah has revealed to me: “Respond to Allah and to His Messenger ﷺ when he (the Messenger) calls you.” (Al-Quran 8:24). He said, “Yes indeed. I will not do it again, Insha Allah.” He asked, “Would you love that I teach you a surah that has not been revealed in the Torah, not in the Injil, not in the Zabur and not in the Qur’an, the like of it.” He answered, “Yes, O Messenger of Allah ﷺ . So, he asked, “How do you recite in salah”? He said, “We recite the ummul Qar’an.” So, Allah’s Messeneger said, “By Him in Whose hand is my soul, nothing has been revealed like it in the Turah, the Injil, the Zabur and the Qur’an. It is the sab’am minal mathani and the mighty Qur’an that is given to me.”
صحيح، صحيح أبي داود (1310) ، المشکاة (2142 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (2 / 216)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2875
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حکم ربانی کی بنا پر صحابہ پر واجب تھا کہ آپ ﷺ کی پکار کا جواب دیں خواہ نماز ہی میں کیوں نہ ہو ، لیکن ان صحابی نے یہ سمجھا تھا کہ یہ حکم نماز سے باہر کے لیے ہے ، اس لیے جواب نہیں دیا تھا۔ ٢ ؎ : چونکہ اس میں سات آیتیں ہیں اس لیے اسے سبع کہا گیا ، اور ہر نماز میں یہ سورت دہرائی جاتی ہے ، اس لیے اسے مثانی کہا گیا ، یا مثانی اس لیے کہا گیا کہ اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ایک مکہ میں دوسرا مدینہ میں۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورة البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not turn you homes into graves. The devil does not enter the house in which al-Baqarah is recited.” [Muslim 780,Ahmed 7826]
صحيح أحكام الجنائز (212)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2877
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ١ ؎ اور قرآن کی چوٹی سورة البقرہ ہے، اس سورة میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Everything has a hump and the hump of the Quran is surah al-Baqarah. There is a verse in it that is the chief of all verses of the Qur’an, the ayat ul-Kursi.” (2:255)
ضعيف، الضعيفة (1348) ، التعليق الرغيب (2 / 218) // ضعيف الجامع الصغير (4725) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی اس میں کوئی چیز نمایاں ہوتی ہے جو کوہان کی حیثیت رکھتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٣١٣) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے سورة مومن کی (ابتدائی تین آیات) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح (بیدار ہونے کے بعد ہی) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites in the morning (Al-Quran 40:1-3) and ayat al-kursi (2:255) then he is protected thereby until evening. And, if anyone recites these verses in the evening then he is protected thereby till it is morning.”
ضعيف، المشکاة (2144 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5769) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ٣ - زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤٩٥) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن ملی کی ضعیف راوی ہیں )
ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو : بسم اللہ (اللہ کے نام سے) رسول اللہ ﷺ کی بات مان ، ابوذر (رض) نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو ، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چناچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ ! انہوں نے کہا : اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا : وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو ، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے (دوبارہ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا : تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے ۔ (پھر جب وہ آیا) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا : اب تمہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتارہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا ، پھر ابوذر (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا ۔
Abu Ayyub Ansari (RA) reported that he had a niche that contained dates. A female jinn would come and take away dates from it. He complained about it to the Prophet ﷺ who said, “Go. When you see her, say, ‘In the name of Allah, obey Allah’s Messenger ﷺ . So, he nabbed her and she swore that she would not return. He let her go and went to the Prophet ﷺ who asked, “What has your prisoner done?” He said, “She has promissed not to come again.” He said, “She has lied. She will come again.” He nabbed her again and she promised that she would not come again, so he let her go. He went to the Prophet ﷺ who asked, “What has your prisoner done?” He said that she had promised not to return. The Prophet ﷺ said, “She has lied and will come back.” So, he nabbed her, (the third time) and said, “I am not going to free you till I take you to the Prophet ﷺ . She said, “I mention to you something the ayat ul-Kursi. Recite it in your house. The devil or any other than him will not approach you. “He went to the Prophet ﷺ , who asked him what his prisoner had done and he informed him of what she had said. The Prophet ﷺ said, “She has spoken truth though she is a liar.”
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے (بھیجتے وقت) ان سے (قرآن) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا : اے فلاں ! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں ؟ اس نے کہا : مجھے فلاں فلاں اور سورة البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا : کیا تمہیں سورة البقرہ یاد ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : جاؤ تم ان سب کے امیر ہو ۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں نے سورة البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (نماز تہجد میں) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا : قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کردی گئی ہو ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent a small army and they were a countable number. He got them to recite the Qur’an and each man of them recited whatever he had of the Qur’an (in memory). He came to a man among them, the youngest of them in years and asked him, ‘What do you have of the Qur’an with you, O so-and-so?” He said, “I have this and that and surah al-Baqarah.” He asked him “Oh, do you have surah al-Baqarah?” He said, ‘Yes.’ The Prophet ﷺ said, “Go. You are their amir.” Then a man of the nobles among them remaked, “By Allah, nothing prevented me from learning al-Baqarah but that I was apprehensive that I might not be able to recite it in salah (in tahajjud).” Allah’s Messenger ﷺ said, “Learn the Qur’an and recite it. The example of the Qur’an for one who learns it, recites it and stands in salah with it is like a bag full of musk, its fragrance spreading in every corner. And the example of one who learns it but goes to sleep while it is in his heart is like a bag of musk tied close (at its mouth).”
ضعيف، ابن ماجة (217) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (39) ، المشکاة (2143) ، ضعيف الجامع الصغير (2452) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٧) (تحفة الأشراف : ١٤٢٤٢) (ضعیف) (سند میں عطاء مولی ابی احمد لین الحدیث راوی ہیں )
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے رات میں سورة البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوگئیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Mas’ud Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone recites the two verses at the conclusion of surah al-Baqarah in the night then that enough for him.” [Bukhari 4008,Muslim 808,Ahmed 17067]
صحيح، صحيح أبي داود (1263 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی یہ دونوں آیتیں ہر برائی اور شیطان کے شر سے اس کی حفاظت کریں گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٠ (٥٠٠٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤٣ (٨٠٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢٦ (١٣٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٣ (١٣٦٩) (تحفة الأشراف : ٩٩٩٩) ، و مسند احمد (٤/١١٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٠ (١٥٢٨) (صحیح )
نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورة البقرہ کو ختم کیا، جس گھر میں یہ دونوں آیتیں (مسلسل) تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آسکے ۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that the Prophet ﷺ said. “Allah wrote a Book before He created the heavens and earth by two thousand years. In it are revealed two verses with which surah al-Baqarah is concluded. And they are not read three nights in house, but the devil does not approach it.”
نواس بن سمعان (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورة البقرہ اور آل عمران کریں گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا : گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں ۔
Sayyidina Nawwas ibn Sam’an (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The Qur’an and its people who had abided by it in the world will come, led by surah al-Baqarah and Aali Imran. Allah’s Messenger ﷺ then coined for them three examples that Nawwas said he never fogot after that. He said, “They will come as though they were two canopies with light between them, or as though they were two black clouds, or as though they were flock of birds in rows, pleading for their companion (who had recited them).” [Muslim 804,Ahmed 22208] Muhammad ibn Isma’il reported from Humaydi, from Sufyan ibn Uyaynah in explaiation of the hadith of Adbullah Ibn Mas’ud (RA) Allah has not created in the heavens or the earth anything mightier than ayat ul-kursi (2:255) that Sufyan said,” ayat ui-kursi is Allah’s words and the words of Allah, are mightier than Allah’s creation of heaven and earth.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ٣ - اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس (رض) کی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٢ (٨٠٥) (تحفة الأشراف : ١١٧١٣) ، و مسند احمد (٤/١٨٣) (صحیح )
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود (رض) کی اس حدیث «ما خلق اللہ من سماء ولا أرض أعظم من آية الکرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں : آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔