ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسان (رض) کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اللہ حسان کی مدد روح القدس (جبرائیل) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ (اپنے اشعار کے ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں ۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated: The Prophet ﷺ had placed a pulpit for Hassan in the mosque. He would stand on it and present proud poetry eulogising Allah’s Messenger ﷺ or, she said: He would respond to the charges against Allah’s Messenger ﷺ . And, Allah’s Messenger ﷺ would say, “Allah helps Hassan through Jibril when he boasts or responds.” [Ahmed 2491, Abu Dawud 501]
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرۃ القضاء کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ «خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم علی تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» اے کفار کی اولاد ! اس کے (یعنی محمد ﷺ کے) راستے سے ہٹ جاؤ، آج کے دن ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو گردنوں سے جدا کر دے گی، ایسی مار ماریں گے جو دوست کو دوست سے غافل کر دے گی عمر (رض) نے ان سے کہا : ابن رواحہ ! تم رسول اللہ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھتے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : انہیں کہنے دو ، عمر ! یہ اشعار ان (کفار و مشرکین) پر تیر برسانے سے بھی زیادہ زود اثر ہیں (یہ انہیں بوکھلا کر رکھ دیں گے) ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: The Prophet ﷺ entered Makkah to perform the redeeming umrah and Abdullah ibn Rawahah led ahead reciting this poetry: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِه وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
صحيح مختصر الشمائل (210)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر سے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے انس سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - اس حدیث کے علاوہ دوسری حدیث میں مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے (اس وقت) کعب بن مالک آپ کے ساتھ آپ کے سامنے موجود تھے۔
بعض محدثین کے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ عبداللہ بن رواحہ جنگ موتہ میں مارے گئے ہیں۔ اور عمرۃ القضاء اس کے بعد ہوا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : حافظ ابن حجر نے امام ترمذی کے اس قول پر نقد کیا ہے ، کہتے ہیں : امام ترمذی کا یہ کہنا کہ عمرۃ القضاء جنگ موتہ کے بعد ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے : «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ١ ؎
Sayyidah Aisha (RA) was asked if the Prophet ﷺ ever recited poetry. She said, “He used to recite this verse of lbn Rawahah: Trans-“They will bring news to you whom you gave no provision.” [Ahmed 21060, Abu Dawud 1294, Nisai 1357]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پورا شعر اس طرح ہے : «ستبدی لک الأيام ماکنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے ، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہوگا ۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عرب کا بہترین شعری کلام لبید کا یہ شعر ہے : «ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل» سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The best poetic words an Arab has uttered are the words of Labid : Trans-‘Everything apart from Allah is void’.” [Ahmed 97431
صحيح بلفظ : أصدق ... مختصر الشمائل (207) ، فقه السيرة (27)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسے ثوری اور ان کے علاوہ نے بھی عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے۔
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے (سنتے و سناتے) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated: I had the Prophet’s ﷺ company more than a hundred times. His sahabah (RA) used to recite poetry and recall affairs of the jahiliyah while he kept quiet except for an occasional smile with them.
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں ۔
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت ، اخلاق حمیدہ ، وعظ و نصیحت ، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا ، پڑھنا سب جائز ہے ، اور اگر کفریہ ، شرکیہ ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥) ، صحیح مسلم/الشعر ٧ (٢٢٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٥٩) (تحفة الأشراف : ١٢٤٧٨) ، و مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٩١) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ١ ؎۔
Sayyidina Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That the belly of one of you is full of pus is better than being full of poetry.” [Muslim 2258, Ibn e Majah 3760,Ahmed 1506]
صحيح، ابن ماجة (3759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پیپ مواد سے تو صرف تکلیف ہوگی لیکن (گندے) اشعار سے تو انسان کی عاقبت ہی خراب ہو کر رہ جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الشعر ٨ (٢٢٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٦٠) (تحفة الأشراف : ٣٩١٩) ، و مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٧، ١٨١) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That one of you fills his belly with pus that corrodes is better for him than to fill it with poetry.” [Ahmed 997, Bukhari 6155, Muslim 2257, Ibn e Majah 3759]
صحيح مختصر الشمائل (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، اور ابو الدرداء (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت ، اخلاق حمیدہ ، وعظ و نصیحت ، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا ، پڑھنا سب جائز ہے ، اور اگر کفریہ ، شرکیہ ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥) ، صحیح مسلم/الشعر ٧ (٢٢٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٢ (٣٧٥٩) (تحفة الأشراف : ١٢٤٧٨) ، و مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٩١) (صحیح)
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان ایسے چلاتا ہے جیسے گائے چلاتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, Allah hates the eloquent one among men who twists his tongue just as the cow (wags its tail).”
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جیسے گائے چارے کو اپنی زبان سے لپیٹ لپیٹ کر اپنی خوراک بناتی ہے اسی طرح چرب زبان آدمی بات کو لپیٹ لپیٹ کر بیان کرتا چلا جاتا ہے ، یہ صورت خاص کر غلط باتوں کے سلسلے ہی میں ہوتی ہے ، ایسی فصاحت و بلاغت ناپسندیدہ ہے۔
جابر (رض) سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رات میں) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کردیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔
صحيح ومضی (1813) // هذا رقم الدع اس، وهو عندنا برقم (1479 - 1888) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو (یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو اس کی قوت سے فائدہ اٹھا لینے میں کرو تو جلدی ١ ؎ اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ (راستے) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you travel during days of productivity, give the camel its share from the earth. And when you travel during the dry season, hurry through your journey while it still has stamina in it. When you halt for rest, leave aside the road, for, it is passage for animals and adobe of worms and insects.” [Muslim 1926, Ahmed 8450]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی کوشش کر کے جلد منزل پر پہنچ جاؤ ، کیونکہ اگر منزل پر پہنچنے سے پہلے چارے کی کمی کے باعث اونٹ کمزور پڑگیا تو تم پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو صرف محمد بن منکدر کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ جابر سے روایت کرتے ہیں، ٣ - عبدالجبار بن عمر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہاں سے اخیر تک چند احادیث متفرق ابواب کی ہیں ، ان کا فصاحت و بیان سے کوئی تعلق نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٠٥٣) (صحیح) (سند میں عبد الجبار بن عمر الأیلي ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو وعظ و نصیحت کا سلسلے میں اوقات کا خیال کیا کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ہم پر اکتاہٹ طاری نہ ہوجائے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ used to specify for us days of sermons to keep away boredom over us. [Ahmed 4060, Bukhari 68, Muslim 2821]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2855
اس سند سے بھی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : معلوم ہوا کہ وعظ و نصیحت کے لیے وقفے وقفے کے ساتھ کچھ وقت مقرر کرنا چاہیئے ، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے لوگوں پر اکتاہٹ طاری ہونے کا خطرہ ہے جس سے وعظ و نصیحت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١١ (٦٨) ، و ١٢ (٧٠) ، والدعوات ٦٩ (٦٤١١) ، صحیح مسلم/المنافقین ١٩ (٢٨٢١) (تحفة الأشراف : ٩٢٥٤) ، و مسند احمد (١/٣٧٧، ٤٢٥، ٤٤٠، ٤٤٣، ٤٦٢) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
ابوصالح سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ (رض) سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ پسند تھا ؟ ، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔
Abu Salih reported that Sayyidah Aisha (RA) and Sayyidah Umm Salamah were asked, “Which deed was dearest to Allah’s Messenger ﷺ . They said, “That which is done constantly even if it is little.” [Ahmed 25494, Bukhari 43, Muslim 785, Nisai 5050, Ibn e Majah 4238]
صحيح، صحيح أبي داود (1238)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2856
نواس بن سمعان کلابی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال دی ہے، اس صراط مستقیم کے دونوں جانب دو گھر ہیں، ان گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں، ایک پکارنے والا اس راستے کے سرے پر کھڑا پکار رہا ہے، اور دوسرا پکارنے والا اوپر سے پکار رہا ہے، (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) «والله يدعوا إلى دار السلام ويهدي من يشاء إلى صراط مستقيم» اللہ تعالیٰ دارالسلام (جنت کی طرف) بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے ، تو وہ دروازے جو صراط مستقیم کے دونوں جانب ہیں وہ حدود اللہ ہیں ١ ؎ تو کوئی شخص جب تک پردہ کھول نہ دیا جائے، حدود اللہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور اوپر سے پکارنے والا اس کے رب کا واعظ ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Nawwas ibn Sam’an Kilabi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah drew the parable of the straight path as having walls on either side with several open doors over which curtains hang down. At the head of the path is one who invites and another above it invites, the Prophet ﷺ recited: ‘And Allah invites (you) to the abode of peace, and guides whomsoever He will to the straight way.’ (Al-Quran 10:25) The doors on either side of the path are hudud (limits) of Allah. None will fall into the limits of Allah till he raises the curtain, meaning commit minor sins. The crier at the top of the path is e admonisher from his Lord. [Ahmed 17651]
صحيح، المشکاة (191 و 192)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے زکریا بن عدی کو سنا وہ کہتے تھے کہ ابواسحاق فزاری نے کہا : بقیہ (راوی) تم سے جو ثقہ راویوں کے ذریعہ روایت کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی روایت نہ لو خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی محرمات مثلاً زنا اور شراب وغیرہ ، ان محرمات میں کوئی شخص اس وقت تک نہیں پڑ سکتا جب تک خود سے بڑھ کر ان کا ارتکاب نہ کرنے لگے ، اور ارتکاب کرنے کے بعد اللہ کے عذاب و عقاب کا مستحق ہوجائے گا۔ ٢ ؎ : اس حدیث میں صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے ، اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کے محارم ہیں اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں ، اور راستے کے سرے پر بلانے والا داعی قرآن ہے ، اور اس کے اوپر سے پکار نے والا داعی مومن کا دل ہے۔
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا : میں نے خواب دیکھا ہے کہ جبرائیل میرے سر کے پاس ہیں اور میکائیل میرے پیروں کے پاس، ان دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا : ان کی کوئی مثال پیش کرو، تو اس نے آپ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : آپ سنیں، آپ کے کان ہمیشہ سنتے رہیں، آپ سمجھیں، آپ کا دل عقل (سمجھ، علم و حکمت) سے بھرا رہے۔ آپ کی مثال اور آپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی ہے جس نے ایک شہر آباد کیا، اس شہر میں ایک گھر بنایا پھر ایک دستر خوان بچھایا، پھر قاصد کو بھیج کر لوگوں کو کھانے پر بلایا، تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کرلی اور کچھ لوگوں نے بلانے والے کی دعوت ٹھکرا دی (کچھ پرواہ ہی نہ کی) اس مثال میں یہ سمجھو کہ اللہ بادشاہ ہے، اور دار سے مراد اسلام ہے اور بیت سے مراد جنت ہے اور آپ اے محمد ! رسول و قاصد ہیں۔ جس نے آپ کی دعوت قبول کرلی وہ اسلام میں داخل ہوگیا اور جو اسلام میں داخل ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا تو اس نے وہ سب کچھ کھایا جو جنت میں ہے ۔
SayyidinaJabir ibn Abdullah Ansari (RA) narrated: One day Allah’s Messenger ﷺ came our way. He said: I saw in my dream that Jibril stood at the side of my head and Mikail by my feet. One of them said to the other, “Coin for him a parable.” The other said, “Listen (O Prophet). May your ears listen always. Comprehend. May your heart grasp always. The parable of you and of your ummah is like a king who takes a house and builds a home. He places there a dining mat and sends a man to invite people to food. There are some who accept his invitation and some who reject him. So, Allah is the King. The house is Islam and the home is paradise, and you, O Muhammad ﷺ , are the Messenger. He who answers you, joins Islam and he who joins Islam, enters Paradise and he who enters Paradise, eats that which is in it.” [Ahmed 7281]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اور وہ سندیں اس حدیث کی سند سے زیادہ صحیح ہیں، ٢ - یہ مرسل حدیث ہے (یعنی منقطع ہے) ٣ - سعید بن ابی ہلال نے جابر بن عبداللہ (رض) کو نہیں پایا ہے، ٤ - اس باب میں ابن مسعود (رض) سے بھی روایت ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (تعلیقا عقب حدیث رقم ٧٢٨١) (تحفة الأشراف : ٢٢٦٧) (صحیح) (سند میں سعید بن أبی ہلال، اور جابر کے درمیان انقطاع ہے، مگر دیگر سندوں سے یہ حدیث صحیح ہے، جیسے بخاری کی مذکورہ روایت )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء پڑھی۔ پھر پلٹے تو عبداللہ بن مسعود کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انہیں ساتھ لیے ہوئے مکہ کی پتھریلی زمین کی طرف نکل گئے (وہاں) انہیں (ایک جگہ) بٹھا دیا۔ پھر ان کے چاروں طرف لکیریں کھینچ دیں، اور ان سے کہا : ان لکیروں سے باہر نکل کر ہرگز نہ جانا۔ تمہارے قریب بہت سے لوگ آ کر رکیں گے لیکن تم ان سے بات نہ کرنا، اور وہ خود بھی تم سے بات نہ کریں گے ۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : پھر رسول اللہ ﷺ جہاں جانا چاہتے تھے وہاں چلے گئے، اسی دوران کہ میں اپنے دائرہ کے اندر بیٹھا ہوا تھا کچھ لوگ میرے پاس آئے وہ جاٹ لگ رہے تھے ١ ؎، ان کے بال اور جسم نہ مجھے ننگے دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی (ان کے جسموں پر مجھے) لباس نظر آ رہا تھا، وہ میرے پاس آ کر رک جاتے اور لکیر کو پار نہ کرتے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف نکل جاتے، یہاں تک کہ جب رات ختم ہونے کو آئی تو آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا : رات ہی سے اپنے آپ کو دیکھتا ہوں (یعنی میں سو نہ سکا) پھر آپ دائرے کے اندر داخل ہو کر میرے پاس آئے۔ اور میری ران کا تکیہ بنا کر سو گئے، آپ سونے میں خراٹے لینے لگتے تھے، تو اسی دوران کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور آپ میری ران کا تکیہ بنائے ہوئے سو رہے تھے۔ یکایک میں نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پایا جن کے کپڑے سفید تھے، اللہ خوب جانتا ہے کہ انہیں کس قدر خوبصورتی حاصل تھی۔ وہ لوگ میرے پاس آ کر رک گئے، ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سرہانے بیٹھ گئے اور کچھ لوگ آپ کے پائتانے، پھر ان لوگوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا : ہم نے کسی بندے کو کبھی نہیں دیکھا جسے اتنا ملا ہو جتنا اس نبی کو ملا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور ان کا دل بیدار رہتا ہے۔ ان کے لیے کوئی مثال پیش کرو (پھر انہوں نے کہا ان کی مثال) ایک سردار کی مثال ہے جس نے ایک محل بنایا، پھر ایک دستر خوان بچھایا اور لوگوں کو اپنے دستر خوان پر کھانے پینے کے لیے بلایا، تو جس نے ان کی دعوت قبول کرلی وہ ان کے کھانے پینے سے فیض یاب ہوا۔ اور جس نے ان کی دعوت قبول نہ کی وہ (سردار) اسے سزا دے گا پھر وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ اور ان کے جاتے ہی رسول اللہ ﷺ بیدار ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : سنا، کیا کہا انہوں نے ؟ اور یہ کون لوگ تھے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : وہ فرشتے تھے۔ تم سمجھتے ہو انہوں نے کیا مثال دی ہے ؟ میں نے (پھر) کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : انہوں نے جو مثال دی ہے وہ ہے رحمن (اللہ) تبارک و تعالیٰ کی، رحمن نے جنت بنائی، اور اپنے بندوں کو جنت کی دعوت دی۔ تو جس نے دعوت قبول کرلی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو اس کی دعوت نہ قبول کرے گا وہ اسے عذاب و عقاب سے دوچار کرے گا ۔
Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ offered the isha salah. When it was over, he held me by the hand till he took me to Batha of Makkah and made me sit. He drew a line around me, saying, ‘Do not come out of this line. People will come to you but do not talk to them and they too will not talk to you.” Then he went away to where he had intented to go. I sat within the lines when some men came to me as though they were of a rough nature. Their hair and their bodies seemed to me neither naked nor covered. They set towards me but did not trespass the line and then went towards Allah’s Messenger. This till it was the concluding hour of the night. Allah’s Messenger ﷺ came to me and I was sitting. He said, “I could not sleep all night.” Then he came within the lines and took my thigh as a pillow and went to sleep. When he slept, he would snore. While I was sitting and he was resting on my thigh, some men dressed in white came. Only Allah knows how beautiful they were. They came up to me. A party of them sat down by the head of Allah’s Messenger ﷺ and a party of them by his feet. Then they spoke to each other, saying, “We have not seen a man given the like of what is given to this Prophet. His eyes sleep but his heart is awake. Coin for him a parable. Like a chief who built a castle and placed a dining table and invited the people to his meal and his drink. So, those who responded ate of his food and drank of his drinks. And, he who did not respond was punished.” Then they got up (and went away). Allah’s Messenger ﷺ woke up at that and asked, “Did you hear what they said? And do you know who they were”? I said that Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “They were angels. Do you understand the example they presented”? I said, “Allah and His Messenger ﷺ know best.” He said, “The example that they coined was of Ar-Rahman (the Compassionate) Who built Paradise and invited His slaves to it. So those who responded, entered Paradise and those who did not respond, He punished them.”
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2861
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابو تمیمہ : ہجیمی ہیں اور ان کا نام طریف بن مجالد ہے، ٣ - ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ٤ - سلیمان تیمی جن سے یہ حدیث معتمر نے روایت کی ہے وہ سلیمان بن طرخان ہیں، وہ اصلاً تیمی نہ تھے، لیکن وہ بنی تیم میں آیا جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ تیمی مشہور ہوگئے۔ علی ابن المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کہتے تھے : میں نے سلیمان تیمی سے زیادہ کسی کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ١ ؎۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے : کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ (بھی) خالی نہ ہوتی ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, my example with the Prophets is that a man builds a house. He completes it and makes it beautiful except for a space of a brick. The people enter it and admire it, but remark: ‘Were it not for the space of a brick’.” [Bukhari 3534, Muslim 2287]
صحيح فقه السيرة (141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی بن کعب اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی گھر کو خوبصورت اور مکمل بنانے کے باوجود ایک اینٹ کی جگہ باقی رکھ چھوڑی ، لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے : کاش یہ خالی جگہ پر ہوجاتی تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ، اس حدیث کی ایک روایت میں آگے الفاظ ہیں : تو میں وہی (آخری) اینٹ ہوں جیسے خالی جگہ میں لگا کر نبوت کے محل کو مکمل کیا گیا ہے۔ خوبصورت گھر سے مراد نبوت و رسالت والا دین حنیف ہے۔
حارث اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ قریب تھا کہ وہ اس حکم کی تعمیل میں سستی و تاخیر کریں عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ تم خود ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دو کہ وہ بھی اس پر عمل کریں، یا تو تم ان کو حکم دو یا پھر میں ان کو حکم دیتا ہوں۔ یحییٰ نے کہا : میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپ نے ان امور پر مجھ سے سبقت کی تو میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا عذاب میں مبتلا نہ کردیا جاؤں، پھر انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا، مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ لوگ کنگوروں پر بھی جا بیٹھے، پھر انہوں نے کہا : اللہ نے ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں حکم دوں کہ تم بھی ان پر عمل کرو۔ پہلی چیز یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی کی ہے جس نے ایک غلام خالص اپنے مال سے سونا یا چاندی دے کر خریدا، اور (اس سے) کہا : یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا پیشہ (روز گار) ہے تو تم کام کرو اور منافع مجھے دو ، سو وہ کام کرتا ہے اور نفع اپنے مالک کے سوا کسی اور کو دیتا ہے، تو بھلا کون شخص یہ پسند کرسکتا ہے کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، ٢ - اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے تو جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر نہ دیکھو۔ کیونکہ اللہ اپنا چہرہ نماز پڑھتے ہوئے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، ٣ - اور تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلی ہے جس میں مشک ہے اور ہر ایک کو اس کی خوشبو بھاتی ہے۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے، ٤ - اور تمہیں صدقہ و زکاۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں، اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس (قیدی) نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں، پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا ١ ؎، ٥ - اور اس نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرو۔ اس کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنی جان کو ان (دشمنوں) سے بچا لے۔ ایسے ہی بندہ (انسان) اپنے کو شیطان (کے شر) سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے ( ١ ) بات سننا ( ٢ ) (سننے کے بعد) اطاعت کرنا ( ٣ ) جہاد کرنا ( ٤ ) ہجرت کرنا ( ٥ ) جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو ! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو ٢ ؎ جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا ۔
Sayyidina Harith Ashari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: ‘Allah commanded Yahya ibn Zakariya with five things that he may abide by them and command the Banu Isra’il to abide by them. But he was delayed in coveying them. Eesa said to him, “Allah commanded you with five commands that you may abide by them and command the Banu Isra’il to abide by them. So, either you give them the command, or I will do that.” So Yahya said, “If you take precedence over me in conveying them, I fear that I will be swallowed up (in earth) or punished.” So, he assembled the people in Bayt al-Maqdis and it was filled up, and people sat down on elevated places. He said to them, “Allah has commanded me with five commands that I should abide by them and comañd you to abide by them. (1) The first of them is that you worship Allah and associate not anything with Him. And the example of one who associates wit Allah is like a man who bought a slave with his pure earnings of gold or silver and said to him, ‘This is my house and this is my business. So take up this occupation and pay me what you earn) He works but pays another than his master. So, which of you will be pleased to have a slave like that? (2) And Allah commands you to offer salah. When you offer salah, do not turn elsewhere, for, Allah has His face towards His slave who offers salah as long as he does not turn elsewhere. (3) And I command you to keep fast. Its similitude is of a man who is with a party. He has a bagful of mausk. Alla of them are pleased with it or he is pleased with its odour. And the odour of oe who is fasting is more pleasant to Allah than the odour of musk. (4) And I command you to give sadaqah. Its similtude is like that of a man who is imprisoned by his enye my. They tie his hand to his neck and take him to be executed. He offers, ‘I pay ransom to you the little or much, and he ransoms himself from them, (5) And, I command you that you remember Allah. The similitude for that is like a man whose enye my pursue him in haste while he comes to a strong fort and protects himself from them. So is the man whom nothing protects from the devil but dhikr (remembrance) of Allah.” The Prophet ﷺ said. “And I command you with firve commands with which Allah has commanded me. They are: to hear, to obey, to wage jihad, to make hijrah (migration) and to a attach to the main body of Muslim s, for, he who separates from the main body even by a span takes out the rope of Islam from his neck unless he returns to it. And, he who invites people to the evils of jahiliyah is fuel of Hell.” Someone asked, “O Messenger of Allah ﷺ , even if he offered salah and kept fast”? He said, “Even if he offered salah and fasted. So invite to Allah Who named you Muslim s. Believers and slaves of Allah.” [Ahmed 1717]
صحيح، المشکاة (3694) ، التعليق الرغيب (1 / 189 - 190) ، صحيح الجامع (1724)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : حارث اشعری صحابی ہیں اور اس حدیث کے علاوہ بھی ان سے حدیثیں مروی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اسی طرح صدقہ و خیرات کرنے والا صدقہ و خیرات کی بدولت اللہ کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے ، اور اس کے عذاب سے نجات پا لیتا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی جاہلیت کا نعرہ اور اس کی پکار جو خانہ جنگی کی پکار ہے اس سے بچو اور اللہ کی توحید اور اس کی تعلیمات کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (التحفة : ٣٢٧٤) ، و مسند احمد (٤/٢٠٢) (صحیح )
اس سند سے بھی حارث اشعری (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح اسی کی ہم معنی حدیث روایت کرتے ہیں۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Abu Dawud Tiyalsi, from Aban ibn Yazid, from Yahya ibn Abu Kathir, from Zayd ibn Sallam, from Abu Sallam, from Harith Ash’ari (RA) from the Prophet ﷺ a hadith like it.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ٢ - ابوسلام حبشی کا نام ممطور ہے، ٣ - اس حدیث کو علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔