Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 143 of 199

2905Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کرلیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس (قرآن) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہو گی ١ ؎۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who reads the Qur’an and memorises it and observes as lawful what it declares to be lawful and as unlawful, what it declares to be unlawful (must know that) Allah will admit him to paradise and permit him to intercede for ten members of his household each of whom has become liable to go to the Fire.” [Ahmed 1267]

ضعيف جدا، ابن ماجة (216) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (38) ، المشکاة (2141) ، ضعيف الجامع الصغير (5761) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2905
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٣ - حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٦) (تحفة الأشراف : ١٠١٤٦) (ضعیف جداً ) (سند میں حفص بن سلیمان ابو عمر قاری کوفی صاحب عاصم ابن ابی النجود قراءت میں امام ہیں، اور حدیث میں متروک )
2906Sunan At-Tirmidhiضعیف

قرآن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الْأَحَادِيثِ، قَالَ: وَقَدْ فَعَلُوهَا ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَلَا إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ، وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا 1 يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ سورة الجن آية 1 ـ 2، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِثِ مَقَالٌ.

حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی (رض) کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں ؟۔ انہوں نے کہا : کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں، انہوں نے کہا : مگر میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : عنقریب کوئی فتنہ برپا ہوگا ، میں نے کہا : اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہوگی ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ (قرآن) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو (خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا (اور بےمزہ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی (و قیمتی) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے : ہم نے ایک عجیب (انوکھا) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور ! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو ۔

Harith al-A’war (RA) narrated: I passed by the mosque and found the people plunged in to chatter. I went to Ali (RA) and said to him, “O Commander of the Believers! Have you not observed that people are engaged in chatter”? He asked me if that was so and I said, “Yes.” He said, “Indeed,. I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that there would soon come a fitnah (trial) and I asked him how we could come out of it. He said that it was the Book of Allah which contains an account of those before us and news of those who will follow us and commands on what we encounter. It is an unmistakable judgement, not a jest. If any of the despotic abandons it then Allah will diride him ibto pieces. And, if anyone seeks guidance in something other than it, then Allah will leave him astray. It is Allah’s (firm) strong rope. It is the wise reminder. It is the straight path. It is whereby desires cannot divert and tongues cannot be confused. The scholars can never be satiated with it. It does not become stale by much repetition and its wonders are never exhausted. It is the Book about which the jinn were not shy to say on hearing it: “We have really heard a wonderful Recital! It gives guidance to the Right, and we have believed therein” (Al-Quran 72:1-2) He who confirms it,. speaks the truth, and he who abides by it (in action), is rewarded, and he who judges by it, is just, and he who invites to it, is guided on the straight path. Take it to yourself, O A’war!”

ضعيف، المشکاة (2138 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس کی سند مجہول ہے، ٣ - حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٠٥٧) (ضعیف) (سند میں حارث الأعور ضعیف راوی ہے، اور ابن أخی الحارث مجہول )
2907Sunan At-Tirmidhiصحیح

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا، وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ حَتَّى بَلَغَ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ، ابوعبدالرحمٰن سلمی (راوی حدیث) کہتے ہیں : یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ (مسند) پر بٹھا رکھا ہے، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی (اور دیتے رہے) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you is he who learns the Qur’an and teaches it.” Abu Abdur Rahman said, “This is what made me sit on this, my seat.” He began to learn the Qur’an during the times of Uthman till the times of Hajjaj ibn Yusuf. [Ahmed 412,Bukhari 5027,Abu Dawud 1452, Ibn e Majah 212]

صحيح، ابن ماجة (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٩ (١٤٥٢) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١١) (تحفة الأشراف : ٩٨١٣) (صحیح )
2908Sunan At-Tirmidhiصحیح

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ أَوْ أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُفْيَانُ لَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَهَكَذَا ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ غير مرة، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَصْحَابُ سُفْيَانَ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَهُوَ أَصَحُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ زَادَ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ أَصَحُّ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَا أَحَدٌ يَعْدِلُ عِنْدِي شُعْبَةَ، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ يَذْكُرُ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي، وَمَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَحَدٍ بِشَيْءٍ فَسَأَلْتُهُ إِلَّا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ.

عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you or, the most excellent of you is he who learns the Qur’an and teaches it.”

صحيح انظر ما قبله (2907) صحيح انظر ما قبله (2907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2908 محمد بن بشار کہتے ہیں : ایسا ہی یحییٰ بن سعید نے اس روایت کو سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے، ایک نہیں کئی بار ذکر کیا، اور ان دونوں نے بسند «عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی، ٦ - محمد بن بشار کہتے ہیں : اصحاب سفیان اس روایت میں «عن سفيان عن سعد بن عبيدة» کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ محمد بن بشار کہتے ہیں۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے، ٧ - شعبہ نے اس حدیث کی سند میں سعد بن عبیدہ کا اضافہ کیا ہے تو ان سفیان کی حدیث (جو شعبہ کے ہم سبق ہیں) زیادہ صحیح ہے۔ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میرے نزدیک شعبہ کے برابر کوئی (ثقہ) نہیں ہے۔ اور جب سفیان ان کی مخالفت کرتے ہیں تو میں سفیان کی بات لے لیتا ہوں، ٨ - میں نے ابوعمار کو وکیع کے واسطہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : شعبہ نے کہا : سفیان مجھ سے زیادہ قوی حافظہ والے ہیں۔ (اور اس کی دلیل یہ ہے کہ) مجھ سے سفیان نے کسی شخص سے کوئی چیز روایت کی تو میں نے اس شخص سے وہ چیز (براہ راست) پوچھی تو میں نے ویسا ہی پایا جیسا سفیان مجھ سے بیان کیا تھا، ٩ - اس باب میں علی اور سعد سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣ - سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ٤ - یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )
2909Sunan At-Tirmidhiصحیح

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق.

علی ابن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ۔

Sayyidina Ali (RA) ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you is he who learns the Qur’an and teaches it.”

صحيح بما قبله (2908)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2909
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٢٩٩) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق کوفی ضعیف راوی ہیں، اور نعمان بن سعد لین الحدیث، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2910Sunan At-Tirmidhiصحیح

قرآن میں سے ایک حرف پڑھنے کا اجر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، قَال: سَمِعْتُمُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ وَوَقَفَهُ بَعْضُهُمْ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ وُلِدَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ يُكْنَى أَبَا حَمْزَةَ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے ۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ru.’ said, “If anyone’ recites a letter from the Book of Allah then for him is a piety. And a piety is rewarded tenfold. I do not say that ‘alif-laam-meem’ is one letter. But ‘alif’ is a letter, ‘laam’ is a letter and ‘meem’ is a letter.”

صحيح تخريج الطحاوية (139) ، المشکاة (2137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ٢ - اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩٥٤٧) (صحیح )
2915Sunan At-Tirmidhiصحیح

قرآن میں سے ایک حرف پڑھنے کا اجر

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ عَبْدِالْوَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَجِيئُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ حَلِّهِ، فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ زِدْهُ؛ فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ، فَيَرْضَى عَنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ وَارْقَ، وَتُزَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن قیامت کے دن پیش ہوگا پس کہے گا : اے میرے رب ! اسے (یعنی صاحب قرآن کو) جوڑا پہنا، تو اسے کرامت (عزت و شرافت) کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا : اے میرے رب ! اسے اور دے، تو اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ پھر کہے گا : اے میرے رب اس سے راضی و خوش ہوجا، تو وہ اس سے راضی و خوش ہوجائے گا۔ اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیرے لیے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: On the Day of resurrection the man of the Qur’an (who is devoted to it deeply) will come and the Qur’an will say, “O Lord! Let him have a pair of garments.” He will be made to wear a crown of honour. It will say, “O Lord, increase it.” So he will be made to wear a robe of honour. Then it will say, “O Lord, be pleased with him.” So, He will be pleased with him. It will be said, “Recite and ascend (a rank)”, with every verse a piety will be added.

حسن، التعليق الرغيب (2 / 207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2915
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٨١١) ، و مسند احمد (٢/٤٧١) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن (٣٣٤٩) (حسن )
2911Sunan At-Tirmidhi(2912)ضعیف

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: يَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ ، يَعْنِي الْقُرْآنَ.

ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے (کسی چیز سے) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے ، ابونضر کہتے ہیں : آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔

Sayyidina AbuUmamah (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah does not listen to anything from His slave more than the two raka’at he prays. And, piety is sprinkled on the slave’s head as long as he is salah. And the slaves do not gain nearness to Allah, the Majestic, the Glorious, like they get through that which comes from Him.” Abu an-Nadr said, “It means the Qur’an.” [Ahmed 22369]

ضعيف، المشکاة (1332) ، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) // ضعيف الضعيفة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2911 جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پاسکتے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ٣ - یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٨٦٣) ، وانظر مسند احمد (٥/٢٦٨) (ضعیف) (سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں، اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں) سنن ابی داود/ المراسیل (١٠٣) (تحفة الأشراف : ١٨٤٧١) (ضعیف) (جبیر بن نفیر تابعی ہیں، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، تراجع الالبانی ١٩٣ )
2913Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has nothing of the Qur’an in his heart is like a deserted home.” [Ahmed 1947]

ضعيف، المشکاة (2135)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٤٠٤) (ضعیف )
2914Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہا جائے گا : (قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہوگی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ said: The man of the Qur’an (who has memorised it) will be told, “Recite and ascend. Recite gently with pauses as you used to recite gently in the world. Indeed your goal is at the last verse that you will read.” [Abu Dawud 1464]

حسن صحيح، المشکاة (2134) ، التعليق الرغيب حسن صحيح، المشکاة (2134) ، التعليق الرغيبصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2914 بندار نے ہم سے بطریق : «عبدالرحمٰن بن مهدي عن سفيان عن عاصم» اسی جیسی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2914
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے اور جسے قرآن جس قدر یاد ہوگا وہ اپنے پڑھنے کے مطابق جنت میں مقام حاصل کرے گا ، یعنی جتنا قرآن یاد ہوگا اسی حساب سے وہ ترتیل سے پڑھتا جائے گا اور جنت کے درجات پر فائز ہوتا چلا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٤) (تحفة الأشراف : ٨٦٢٧) ، و مسند احمد (٢/١٩٢) (حسن) انظر ماقبلہ (حسن )
2916Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِالْمُطَّلِبِ بْن حَنْطَبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَاسْتَغْرَبَهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهُ: حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: لَا نَعْرِفُ لِلْمُطَّلِبِ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَأَنْكَرَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ أَنْ يَكُونَ الْمُطَّلِبِ سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورة یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The rewards of my ummah were presented to me, so much so that a particle of dust that a man removed from the mosque. And, the sins of my ummah were presented to me and I did not see a sin greater than anyone forgetting a surah of the Qur’an or a verse that he was given (meaning, was enabled to memorise).”

ضعيف، المشکاة (720) ، الروض النضير (72) ، ضعيف أبي داود (71) // عندنا برقم (88 / 461) ، ضعيف الجامع الصغير (3700) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم ﷺ کی حاضرین میں موجود تھا، ٥ - میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے، ٦ - عبداللہ (دارمی یہ بھی) کہتے ہیں : علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٦ (٤٦١) (تحفة الأشراف : ١٥٩٢) (ضعیف) (سند میں مطلب اور ابن جریج دونوں مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز دونوں (مطلب اور انس) کے درمیان سند میں انقطاع بھی ہے، ملاحظہ ہو ضعیف أبی داود ١/١٦٤ )
2917Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ يَقْرَأُ، ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ ، وَقَالَ مَحْمُودٌ: وَهَذَا خَيْثَمَةُ الْبَصْرِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَلَيْسَ هُوَ خَيْثَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَيْثَمَةُ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ يُكْنَى أَبَا نَصْرٍ قَدْ رَوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَادِيثَ، وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ خَيْثَمَةَ هَذَا أَيْضًا أَحَادِيثَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ.

عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا (پڑھ کر) وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔

It is reported about Imran ibn Husayn (RA) that he passed by a reciter of the Qur’an. He recited and begged of men, so Imran ibn Husayn said ‘Inna lillahi wa inna alaihi ra’jioun’ and he narrated (a hadith) that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He who recites the Qur’an must petition Allah with it, for, soon such people will come who will recite the Qur’an and beg of people.” [Ahmed 19906]

حسن، الصحيحة (257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے، ٢ - محمود بن غیلان کہتے ہیں : یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٧٩٥) ، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٢، ٤٣٦، ٤٣٩) (حسن) (سند میں کلام ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم ٢٥٧ )
2918Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ خُولِفَ وَكِيعٌ فِي رِوَايَتِهِ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ: يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ لَيْسَ بِحَدِيثِهِ بَأْسٌ إِلَّا رِوَايَةَ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ فَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صُهَيْبٍ، وَلَا يُتَابَعُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَلَى رِوَايَتِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ.

صہیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ۔

Sayyidina Suhaib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He has not believed in the Qur’an who made lawful that which the Qur’an declares to be unlawful.”

ضعيف، المشکاة (2203 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4975) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ کہتے ہیں : یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں، ٣ - محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے : «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی، وہ ضعیف ہیں، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٩٧٢) (ضعیف) (سند میں ابوالمبارک مجہول راوی ہے )
2919Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ الَّذِي يُسِرُّ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَجْهَرُ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ أَفْضَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِكَيْ يَأْمَنَ الرَّجُلُ مِنَ الْعُجْبِ لِأَنَّ الَّذِي يُسِرُّ الْعَمَلَ، لَا يُخَافُ عَلَيْهِ الْعُجْبُ مَا يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْ عَلَانِيَتِهِ.

عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “One who recites the Qur’an in an audible voice is like one who gives sadaqah openely and one who recites the Qur’an inaudibly is like one who gives sadaqah in secret.” (Abu Dawud 1333,Nisai 1659,Ahmed 17373]

صحيح، المشکاة (2202 / التحقيق الثاني) ، صحيح أبي داود (1204)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب (خود نمائی) سے محفوظ رہتا ہے۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٥ (١٣٣٣) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٤) ، والزکاة ٦٨ (٢٥٦٠) (تحفة الأشراف : ٩٩٤٩) ، و مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٨) (صحیح )
2920Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ حَتَّى يَقْرَأَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَالزُّمَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو لُبَابَةَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، قَدْ رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرَ حَدِيثٍ وَيُقَالُ اسْمُهُ مَرْوَانُ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل فِي كِتَابِ التَّارِيخِ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب تک سورة بنی اسرائیل اور سورة الزمر پڑھ نہ لیتے بستر پر سوتے نہ تھے۔

Abu Lubabah reported that Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ did not go to sleep before he had recited (the surah) Bani Isra’il (a! Isra, # 17) and az-Zumar (# 39)

صحيح، الصحيحة (641)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابولبابہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، حماد بن زید نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام مروان ہے، یہ بات مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے کتاب التاریخ میں بتائی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٥ (٧١٢) ، ویأتي عند المؤلف في الدعوات (برقم ٣٤٠٥) (تحفة الأشراف : ١٧٦٠١) (صحیح )
2921Sunan At-Tirmidhiضعیف

حَدَّثَنَا عَليُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، وَيَقُولُ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عرباض بن ساریہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ١ ؎ آپ فرماتے تھے : ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Irbad ibn Sariyah (RA) reported that the Prophet ﷺ used to recite the ‘Musabihat’ (Surahs starting with ‘Sabbaha’ ‘Yussabihu’) before going to sleep. He said, “In them there is a verse that is better than a thousand verses.” [Abu Dawud 5057,Nisai 719,Ahmed 17160]

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ ، سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں ، وہ یہ ہیں : بنی اسرائیل ، الحدید ، الحشر ، الجمعہ ، الصف ، التغابن ، اور الاعلیٰ ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٥٧) (تحفة الأشراف : ٩٨٨٨) (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں )
2922Sunan At-Tirmidhiصحیح

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي، كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورة الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مرجاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہوگا ۔

Sayyidina Ma’qil ibn Yasar (RA) reported that the Prophet ﷺ said: “If anyone says on entering the morning: ‘I seek refuge in Allah the all-Hearing the All-knowing from the accursed devil’, three times and recites the last three verse of Surah al-Hashr (#59) then Allah deputes over him seventy thousand angels who pray for his forgiveness till the evening. And if he dies during the day, he dies as a martyr. And, if anyone recites it in the evening then (too) he is of the same station. [Ahmed 20328]

ضعيف، الإرواء (342) ، التعليق الرغيب (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (5732) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٤٧٨) (ضعیف جدا) (سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداود الاعمی ہے، جو متروک ہے، بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے، ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب )
2923Sunan At-Tirmidhiضعیف

نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ ، وَحَدِيثُ لَيْثٍ أَصَحُّ.

یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے نبی اکرم ﷺ کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔

Ya’la ibn Mamlak reported that someone asked Sayyidah Umm Salamah (RA), wife of the Prophet ﷺ about the recital of the Prophet ﷺ and his salah. She said, “What have you in relation to his salah? He used to pray (salah) for as long as he had slept and then he would sleep for as long as he had engaged in salah till it was morning.” She then described his recital, “When he recited, each letter was distinct.” [Abu Dawud 1466, Nisai 1021]

ضعيف، ضعيف أبي داود (260) // (316 / 1466) //، المشکاة (1210 / التحقيق الثاني) ، // ضعيف سنن النسائي برقم (46 / 1022، 100 / 1629) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2923
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک کے واسطہ سے ام سلمہ سے روایت کی، ٣ - ابن جریج نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی قرأت کا ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا، ٤ - لیث کی حدیث (ابن جریج کی حدیث سے) زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٦) (تحفة الأشراف : ١٨٢٢٦) (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک ضعیف ہیں، مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث ثابت ہے، دیکھیے آگے حدیث رقم ٢٩٢٧ )
2924Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَجُلٌ بَصْرِيٌّ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ ؟ فَقَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَصْنَعُ، رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ ؟ أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، قَدْ كَانَ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ، قَالَ: فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ ؟ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، فَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن ابی قیس بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں پوچھا کہ آپ وتر رات کے شروع حصے میں پڑھتے تھے یا آخری حصے میں ؟ انہوں نے کہا : آپ دونوں ہی طرح سے کرتے تھے۔ کبھی تو آپ شروع رات میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں وتر پڑھتے تھے۔ میں نے کہا : الحمدللہ ! تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کے معاملے میں وسعت و کشادگی رکھی، پھر میں نے پوچھا : آپ ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی ؟ کیا آپ دھیرے پڑھتے تھے یا بلند آواز سے ؟ کہا : آپ ﷺ یہ سب کرتے تھے۔ کبھی تو دھیرے پڑھتے تھے اور کبھی آپ زور سے میں نے کہا : الحمدللہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت و کشادگی رکھی۔ پھر میں نے کہا : آپ جب جنبی ہوجاتے تھے تو کیا کرتے تھے ؟ کیا سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے تھے ؟ کہا : آپ ﷺ یہ تمام ہی کرتے تھے، کبھی تو آپ غسل کرلیتے تھے پھر سوتے، اور کبھی وضو کر کے سو جاتے، میں نے کہا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دینی کام میں وسعت و کشادگی رکھی۔

Abdullah ibn Abu Qays reported that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the Witr Salah of the Prophet ﷺ . "How he offered the Witr, in the first part of the night or the last part of it? She said, "He offered at each of these hours, sometimes he prayed the witr in the beginning of the night and sometimes at the end of it." Abdullah said, "All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." He asked, "How was his recital? Did he recite softly or audibly?" She said, "He observed each of those. Sometimes he recited in a low voice and sometimes in a loud voice." He said, "All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." He then asked, "How did he act when defiled? Did he havbe a bath before he went to sleep or did he sleep before having a bath? She said, "He did each of these things. Sometimes he had a bath and then slept and sometimes he made ablution and slept." He said, All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." [Muslim 307, Abu Dawud 1435]

صحيح، صحيح أبي داود (222 - 1291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2924
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٤٤٩ (صحیح )
2925Sunan At-Tirmidhiصحیح

نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ بِالْمَوْقِفِ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلْنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ «موقف» (عرفات) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہتے تھے : ہے کوئی جو مجھے اپنی قوم میں لے چلے، کیونکہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام (قرآن) کی تبلیغ سے روک دیا ہے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated : The Prophet ﷺ presented himself (to the people) at the mawqif at Arafat, saying, “Is there any man who will take me to his people? The Quraysh disallow me to convey the words of my Lord.” [Abu Dawud 4737, Ibn e Majah 201,Ahmed 15194]

صحيح، ابن ماجة (201)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٢ (٤٧٣٤) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (٢٠١) (تحفة الأشراف : ٢٢٤١) (صحیح )