جابر ؓ کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف ١ ؎ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
It was narrated that Jabir (RA) said: "The sun set when the Messenger of Allah ﷺ was in Makkah, and he joined the two prayers in Sarif: A valley about 12 km northeast of Makkah on the way to Al-Madinah.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 593
Notes · وضاحت
١ ؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ ہے سورج ڈوبنے کے بعد اتنی مسافت طے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جمع صوری نہیں حقیقی رہی ہوگی، اور نماز آپ نے شفق غائب ہونے کے بعد پڑھی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٥)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٧)، مسند احمد ٣/٣٠٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے رواة ” مومل، یحییٰ، اور عبدالعزیز “ تینوں حافظے کے کمزور رواة ہیں )
انس بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
It was narrated from Anas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the Messenger of Allah ﷺ wanted to travel quickly, he would delay Zuhr until the time of Asr and combine them, and he would delay Maghrib until he combined it with Isha when the twilight had disappeared".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 594
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین (کھیتی) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چناچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہوگئی تھی، انہوں نے ہمیں (عشاء کی) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ ﷺ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
Nafi said: "I went out with Abdullah bin Umar (RA) on a journey to some of his land. Then someone came to him and said: Safiyyah bint Abi Ubaid is sick, try to get there before it is too late. He set out quickly, accompanied by a man of the Quraish. The sun set but he did not pray, although I knew him to be very careful about praying on time. When he slowed down I said: The prayer. He turned to me but carried on until the twilight was almost gone, then he stopped and prayed Maghrib, then he said the Iqamah for Isha, at that time the twilight had totally disappeared and led us in prayer. Then he turned to us and said: If the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry to travel he would do this".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 595
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر ؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے (اور برابر چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم نے شام کرلی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چناچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہوگئی ١ ؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہوگئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Nafi said: "We came back with Ibn Umar (RA) from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer! But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed Isha. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Messenger of Allah ﷺ if he was in a hurry to travel".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 596
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ جمع صوری تھی حقیقی نہیں، لیکن صحیح مسلم کی روایت میں نافع سے جمع بین المغرب والعشاء بعدأن یغیب الشفق کے الفاظ وارد ہیں، اور صحیح بخاری میں حتیٰ کان بعد غروب الشفق نزل فصلی المغرب والعشاء جمعاًبینہما اور سنن ابوداؤد میں حتیٰ غاب الشفق وتصوبت النجوم نزل فصلی الصلاتین جمعاً اور عبدالرزاق کی روایت میں فاخرالمغرب بعد ذہاب الشفق حتیٰ ذہب ہوی من اللیل کے الفاظ ہیں، ان روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اسے تعدد واقعہ پر محمول کیا جائے، نہیں تو صحیحین کی روایت راجح ہوگی۔
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر ؓ سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ١ ؎ (اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کرلیجئے) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آگیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر (دوبارہ) اقامت کہنا، چناچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو (مؤذن نے) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہوگئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
Kathir bin Qarawanda said: "We asked Salim bin Abdullah about prayer while traveling. We said: Did Abdullah combine any of his prayer while traveling? He said: No, except at Jam. Then he paused, and said: Safiyyah was married to him, and she sent word to him that she was in her last day in this world and the first day in the Hereafter. So he ride off in a hurry, and I was with him. The time for prayer came and the Muadhdhin said to him: The prayer, O Abu Abdur-Rahman! But he kept going until it was between the time for the two prayer. Then he stopped and said to the Muadhdhin: "Say the Iqamah, and when I say the Taslim at the end of Zuhr, say the Iqamah (again) straight away". So he said the Iqamah and he prayed Zuhr, two Rakahs, then he said the Iqamah (again) straight away, and he prayed Asr, two Rakahs. Then he rode off quickly until the sun set and the Muadhdhin said to him: "The prayer, O Abu Abdur-Rahman"! He said: "Do what you did before". He rode on until the starts appeared, then he stopped and said: "Say the Iqamah, then when I say the Taslim, say the Iqamah. So he said the Iqamah and he prayed Maghrib, three Rakahs, then he said the Iqamah (again) straight away and he prayed Isha, then he said one Taslim, turning his face. Then he said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If any one of you has urgent need that he fears he may miss, let him pray like this".
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ was in a hurry to travel, or some emergency arose, he would combine Maghrib and Isha".
صحيح الإسناد لکن قوله أو حزبه أمر شاذ لعدم وروده في سائر الطرق عن نافع وغيره ويمكن أن يكون محرفا ففي مصنف عبدالرزاق / بإسناده هذا أو أجد به المسير والله أعلمصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 599
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٨٥٠٥)، مسند احمد ٢/٨٠ (صحیح الإسناد) (لیکن ” أوحز بہ أمر “ کا جملہ شاذ ہے کیونکہ نافع کے طریق سے مروی کسی بھی روایت میں یہ موجود نہیں ہے، نیز اس کے محرف ہونے کا بھی امکان ہے، اور مصنف عبدالرزاق (٢/ ٥٤٧) کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے، ” أو أجد بہ المسیر “ )
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
Sufyan said: "I heard Az-Zuhri say: Salim told me that his father said: I saw the Prophet ﷺ, if he was in a hurry to travel, joining Maghrib and Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 600
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr and Asr together, and Maghrib and Isha together, when there was no fear and he was not traveling".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 601
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شدید ضرورت کے وقت مقیم بھی جمع بین الصلاتین کرسکتا ہے لیکن یہ عادت نہ بنا لی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر ١ (٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٨)، مسند احمد ١/٢٨٣، ٣٤٩ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray in Al-Madinah combining two prayer. Joining Zuhr and Asr, and Maghrib and Isha, when there was no fear nor rain. It was said to him: "Why"? He said: "So that there would not be any hardship on his Ummah".
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 602
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دو نمازوں کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہوگیا ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لیے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہوسکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ ابن عباس ؓ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ١ ؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ٢ ؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ ﷺ نے ظہر پڑھائی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہی، تو آپ ﷺ نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔
Jafar bin Muhammad narrated from his father that Jabir bin Abdullah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ traveled until he came to Arafah, where he found that the tent had pitched for him. He stayed there until the sun had passed its zenith, then he called for Al-Qaswa which was saddled for him. When he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal (RA) called the Adhan, then the Iqamah, then he prayed Zuhr, then he called the Iqamah, then he prayed Asr, and he did not offer any other prayer in between".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 604
Notes · وضاحت
١ ؎: عرفات میں ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات کے مغربی کنارے پر ہے، آج کل یہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس کا آدھا حصہ عرفات کے اندر ہے، اور آدھا مغربی حصہ عرفات کے حدود سے باہر ہے۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کا نام قصواء تھا، قصواء کے معنی کن کٹی کے ہیں لیکن آپ کی اونٹنی کن کٹی نہیں تھی یہ اس کا لقب تھا۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٤ (١٨٩٢)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٦٥٦) (صحیح )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔
It was narrated from Abdullah bin Yazid that Abu Ayyub Al-Ansari (RA) told him, that during the Farewell Pilgrimage. He prayed with the Messenger of Allah ﷺ Maghrib and Isha prayers together at Al-Muzdalifah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 605
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب ابن عمر ؓ عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I was with Ibn Umar (RA) when he departed from Arafah. When he came to Jam (Al-Muzdalifah), he combined Maghrib and Isha, and when he finished he said: The Messenger of Allah ﷺ did similar to this in this place".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 606
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ١ ؎، آپ نے اس روز فجر (اس کے عام) وقت سے ٢ ؎ پہلے پڑھ لی۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ combine any two prayers except in Al-Muzdalifah, and on that day he prayed Subh before its time".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 608
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ ؓ اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ٢ ؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ (انہیں نبی اکرم ﷺ نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا) تو جب آپ ﷺ گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، (انہوں نے لفظ بَالَ کہا أهراق الماء نہیں کہا ١ ؎ ) تو میں نے برتن سے آپ ﷺ پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔
It was narrated from Usamah bin Zaid, whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) had seated behind him on his camel on the way from Arafah, that when he reached the mountain pass, he dismounted and urinated - and he did not say that he passed water. He (Usamah) said: "I poured water for him from a small vessel and he performed a light Wudu. I said to him: The prayer. He said: The prayer is still ahead of you. When he came to Al-Muzdalifah he prayed Maghrib, then they untied the saddles of their mounts and then he prayed Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 609
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ١ ؎۔
Al-Walid bin AlAyzar said: "I heard Abu Amr Ash-Shaibani say: The owner of this house - and he pointed to the house of Abdullah - said: I asked the Messenger of Allah ﷺ: Which deed is most beloved to Allah, may He be exalted? He said: Prayer offered on time, honoring ones parents, and Jihad in the cause of Allah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 610
Notes · وضاحت
١ ؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں مِن پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی ا فضیلت بتائی گئی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔
It was narrated that Abdullah bin Masud (RA) said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ which action is most beloved to Allah? He said: Establishing prayer on time, honoring ones parents and Jihad in the cause of Allah".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 611
محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے (جب وہ آئے تو) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، (اس لیے تاخیر ہوئی) عبداللہ بن مسعود ؓ سے لوگوں نے پوچھا: کیا (فجر کی) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی ١ ؎ اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father was in the Masjid of Amr bin Shurahbil and the Iqamah for prayer was said, so they were waiting for him. He said: "I was praying Witr, and Abdullah was asked: Is there any Witr after the Adhan? He said: "Yes, and after the Iqamah, and he narrated that the Prophet ﷺ slept and missed the prayer until the sun rose then prayed". And the wording is that of Yahya.
صحيح الإسناد إن کان محمد بن المنتشر سمع ابن مسعود وقصة النوم صحيحةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 612
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ابن مسعود ؓ کا مطلب یہ تھا کہ وقت گزر جانے سے نماز ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کی قضاء کرنی پڑتی ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ قضاء فرائض کے ساتھ خاص ہے وہ اس حدیث سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑتے ہیں، لیکن اس روایت میں فرائض کے ساتھ قضاء کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں، سنتوں کی قضاء بھی ثابت ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے۔