نمازوں کو کونسی حالت میں اکھٹا پڑھے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
Sufyan said: "I heard Az-Zuhri say: Salim told me that his father said: I saw the Prophet ﷺ, if he was in a hurry to travel, joining Maghrib and Isha".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 600
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٣ (١١٠٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٥ (٧٠٣)، مسند احمد ٢/٨، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢ (١٥٥٨)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٢) (صحیح )