مقیم ہونے کی حالت میں نمازوں کو ایک ساتھ کر کے پڑھنا
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr and Asr together, and Maghrib and Isha together, when there was no fear and he was not traveling".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 601
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شدید ضرورت کے وقت مقیم بھی جمع بین الصلاتین کرسکتا ہے لیکن یہ عادت نہ بنا لی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر ١ (٤)، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٨)، مسند احمد ١/٢٨٣، ٣٤٩ (صحیح )