مقیم ہونے کی حالت میں نمازوں کو ایک ساتھ کر کے پڑھنا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ وَاسْمُهُ غَزْوَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُصَلِّي بِالْمَدِينَةِ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، قِيلَ لَهُ: لِمَ ؟ قَالَ: لِئَلَّا يَكُونَ عَلَى أُمَّتِهِ حَرَجٌ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray in Al-Madinah combining two prayer. Joining Zuhr and Asr, and Maghrib and Isha, when there was no fear nor rain. It was said to him: "Why"? He said: "So that there would not be any hardship on his Ummah".