نمازوں کے اوقات کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 6 · 133 hadiths · Page 7 of 7

614Sunan An Nasai

جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے اس کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آجائے تو اسے پڑھ لے ۔

It was narrated that Anas (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 613
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١١ (٤٤٢) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة ١٧ (١٧٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٠)، مسند احمد ٣/١٠٠، ٢٤٣، ٢٦٧، ٢٦٩، ٢٨٢ (صحیح )
615Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص نماز کے وقت سوتا رہ جائے تو کیا کرے

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا، قَالَ: كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہوجاتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آجائے تو اسے پڑھ لے ۔

It was narrated that Anas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who slept and missed the prayer, or forgot it. He said: The expiation for that is to pray it when he remembers it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 614
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٥)، مسند احمد ٣/٢٦٧، (تحفة الأشراف: ١١٥١) (صحیح )
616Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص نماز کے وقت سوتا رہ جائے تو کیا کرے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے ، تقصیر (کمی) تو جاگنے میں ہے (کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے) ، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔

It was narrated that Abu Qatadah (RA) said: "They told the Prophet ﷺ that they had slept and missed the prayer. He said: There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one is awake. If any one of you forgets a prayer or sleeps and misses it, let him pray it when he remembers it".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 615
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١ (٤٤١) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٥)، مسند احمد ٥/٢٩٨، ٣٠٢، ٣٠٥ (صحیح )
617Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص نماز کے وقت سوتا رہ جائے تو کیا کرے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِيمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر (کمی) نہیں ہے، تقصیر (کمی) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہوجائے ۔

It was narrated that Abu Qatadah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one does not offer one prayer until the time of the next prayer comes and he realizes that he has missed a prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 616
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
618Sunan An Nasai

جو نماز نیند کی حالت میں قضاہو جائے تو اس کو اگلے دن وقت پر پڑھ لے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلْيُصَلِّهَا أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ جب لوگ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اسے دوسرے روز اس کے وقت پر پڑھنا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Qatadah (RA) that when they missed the prayer because they slept until the sun rose, the Messenger of Allah ﷺ said: "Let any one of you pray it during its time tomorrow".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 617
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آج نیند کی وجہ سے تقصیر ہوگئی تو ہوگئی، اس کی ابھی قضاء پڑھ لی ہے، لیکن کل سے اسے اپنے وقت پر پڑھنا، کیونکہ صحیح مسلم میں اس روایت کے الفاظ یوں ہیں فلیصلھاحین ینتبہ لھا، فإذا کان الغد فلیصلھاعند وقتھا یعنی: اس نماز کو جب اٹھے تب پڑھ لے (یعنی قضاء کر کے)، اور کل سے اس کو اپنے وقت پر پڑھا کرے) مؤلف سے ذہول ہوا ہے، اسی ذہول کی بنا پر انہوں نے مذکورہ باب باندھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠٩٣) (صحیح )
619Sunan An Nasai

جو نماز نیند کی حالت میں قضاہو جائے تو اس کو اگلے دن وقت پر پڑھ لے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14. قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: أقم الصلاة لذكري ١ ؎ نماز قائم کرو جب میری یاد آئے ۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: If you forget a prayer, pray it when you remember it, for Allah says: "and perform the Salah for My remembrance." [1] [1] Ta-Ha 20:14.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 618
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور قرأت یاء متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ ہے لیکن یہ قرأت مقصود کے مناسب نہیں اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ مضاف مقدر ہے اصل عبارت یوں ہے وقت ذکر صلاتی اور ایک شاذ قرأت للذکریٰ اسم مقصور کے ساتھ ہے جو أوفق بالمقصود ہے، (جو رقم: ٦٢١ کے تحت آرہی ہے)۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٢٤٣) (صحیح )
620Sunan An Nasai

جو نماز نیند کی حالت میں قضاہو جائے تو اس کو اگلے دن وقت پر پڑھ لے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it, for Allah says: and perform the Salah for My remembrance." [1] [1] Ta-Ha 20:14.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 619
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٣٧٣) (صحیح )
621Sunan An Nasai

جو نماز نیند کی حالت میں قضاہو جائے تو اس کو اگلے دن وقت پر پڑھ لے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يَقُولُ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0. قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: هَكَذَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر ، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں (یعنی: للذکریٰ ) ۔

It was narrated from Mamar, from Az-Zuhri, from Saeed bin Al-Musayyab, that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it, for Allah says: "and perform prayer when you remember (li dhikra)." I said to Az-Zuhri: "Is that how the Messenger of Allah ﷺ recited it"? He said: "Yes".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 620
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٢٠ (صحیح )
622Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.

ابومریم (مالک بن ربیعہ) ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ ﷺ اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔

It was narrated from Buraid bin Abi Mariam that his father said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and we kept going one night, then when it was nearly morning the Messenger of Allah ﷺ dismounted and slept, and the people slept too. We did not wake up until the sun had risen. The Messenger of Allah ﷺ asked the Muadhdhin to call the Adhan, then he prayed the two Rakahs before Fajr, then he asked him to say the Iqamah, then he led the people in prayer. Then he told us about everything that will happen until the Hour begins".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 621
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٢٠١) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” عطائ “ آخری عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور ابوالا حوص نے ان سے اختلاط کی حالت میں روایت لی ہے )
623Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہمیں (کافروں کی طرف سے) ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے روک لیا گیا، تو یہ میرے اوپر بہت گراں گزرا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں، اور اللہ کے راستے میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں ظہر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عصر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں مغرب پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی، پھر آپ ﷺ ہم پر گھومے اور فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے، جو اللہ کو یاد کر رہی ہو ۔

It was narrated that Abdullah bin Masud (RA) said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ and we were prevented from praying Zuhr, Asr, Maghrib and Isha. I felt very upset about that and I said to myself: We are with the Messenger of Allah ﷺ and (fighting) for the sake of Allah. Then the Messenger of Allah ﷺ commanded Bilal (RA) to say the Iqamah and he led us in praying Zuhr. Then he said the Iqamah and he led us in praying Asr. Then he said the Iqamah and he led us in praying Maghrib. Then he said the Iqamah and he led us in praying Isha. Then he went around among us and told us: There is no group on Earth who is remembering Allah, the Mighty and Sublime, except you".

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 622
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨ (١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٣)، مسند احمد ١/٣٧٥، ٤٢٣، ویأتي عند المؤلف برقم: ٦٦٣، ٦٦٤ (صحیح) (اس کی سند میں ” ابو عبیدة “ اور ان کے والد ” ابن مسعود ؓ “ کے درمیان انقطاع ہے، نیز ” ابوالزبیر “ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، مگر ابو سعید کی حدیث (رقم: ٦٦٢) اور ام المومنین عائشہ ؓ کی حدیث (رقم: ٤٨٣، ٥٣٦) سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
624Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ، قَالَ: فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو ہم (سوتے رہے) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے (یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا ، ہم نے ایسا ہی کیا، پھر آپ ﷺ نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "We stopped to camp at the end of the night with the Messenger of Allah ﷺ, and we did not wake up until the sun had risen. The Messenger of Allah ﷺ said: Let each man take hold of his camels head (and leave), for the Shaitan was here in this place with us. We did that, then he called for water and performed Wudu, then he prayed two Rakahs, then the Iqamah was said and he prayed Al-Ghadah (Fajr)".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 623
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٤٤)، مسند احمد ٢/٤٢٨، ٤٢٩ (صحیح )
625Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي سَفَرٍ لَهُ: مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ حَتَّى أَيْقَظَهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ، فَقَامُوا، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ.

جبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک سفر میں فرمایا: آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا تاکہ ہم فجر میں سوئے نہ رہ جائیں؟ بلال ؓ نے کہا: میں، پھر انہوں نے سورج نکلنے کی جانب رخ کیا، تو ان پر ایسی نیند طاری کردی گئی کہ کوئی آواز ان کے کان تک پہنچ ہی نہیں سکی یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں بیدار کیا، تو وہ اٹھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ وضو کرو ، پھر بلال ؓ نے اذان دی، تو آپ ﷺ نے دو رکعت فجر کی سنت پڑھی، اور لوگوں نے بھی فجر کی دو رکعت سنت پڑھی، پھر لوگوں نے فجر پڑھی۔

It was narrated from Nafi bin Jubair, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said during a journey: "Who will watch out for dawn for us, so that we do not sleep and miss the dawn prayer"? Bilal said: I will. He turned to face the direction where the sun woke them up, then they got up. He said: Perform Wudu. Then Bilal called the Adhan and he prayed two Rakahs, and they prayed the two (Sunnah) Rakahs of Fajr, then they prayed Fajr".

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 624
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٢٠١)، مسند احمد ٤/٨١ (صحیح الإسناد )
626Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَّسَ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى وَهِيَ صَلَاةُ الْوُسْطَى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں چلے، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، اور یہی صلوٰ ۃ وسطی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ set out at nightfall, then stopped to camp at the end of the night, and he did not wake up until the sun had risen or had partly risen. He did not pray until the sun had risen (fully), then he prayed, and that was the middle prayer (Salat Al-Wusta)".

منکر بزيادة وهي صلاة الوسطىصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 625
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن صلاۃ فجر کو صلاۃ الوسطی کہنا منکر ہے، صلاۃ الوسطی عصر کی صلاۃ ہے، جب کہ وہ فجر کی صلاۃ تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٨)، وانظر مسند احمد ١/٢٥٩ (منکر) (فجر کو ” صلاة الوسطی “ کہنا منک رہے، ” صلاة الوسطی “ عصر کی صلاة ہے، اس کے راوی ” حبیب بن أبی حبیب “ سے وہم ہوجایا کرتا تھا )