Sunan An Nasai 626

نمازوں کے اوقات کا بیان

626Sunan An Nasai

قضاء نماز کو کس طریقہ سے پڑھا جائے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَرَّسَ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى وَهِيَ صَلَاةُ الْوُسْطَى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں چلے، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، اور یہی صلوٰ ۃ وسطی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ set out at nightfall, then stopped to camp at the end of the night, and he did not wake up until the sun had risen or had partly risen. He did not pray until the sun had risen (fully), then he prayed, and that was the middle prayer (Salat Al-Wusta)".

منکر بزيادة وهي صلاة الوسطىصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 625
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن صلاۃ فجر کو صلاۃ الوسطی کہنا منکر ہے، صلاۃ الوسطی عصر کی صلاۃ ہے، جب کہ وہ فجر کی صلاۃ تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٨)، وانظر مسند احمد ١/٢٥٩ (منکر) (فجر کو ” صلاة الوسطی “ کہنا منک رہے، ” صلاة الوسطی “ عصر کی صلاة ہے، اس کے راوی ” حبیب بن أبی حبیب “ سے وہم ہوجایا کرتا تھا )