Sunan An Nasai 627

اذان کا بیان

627Sunan An Nasai

اذان کی ابتداء اور تاریخ اذان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضَهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت کا اندازہ کرتے تھے، اس وقت کوئی نماز کے لیے اذان نہیں دیتا تھا، تو ایک دن لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی، تو کچھ لوگ کہنے لگے: نصاریٰ کے مانند ایک ناقوس بنا لو، اور کچھ لوگ کہنے لگے: بلکہ یہود کے سنکھ کی طرح ایک سنکھ بنا لو، تو اس پر عمر ؓ نے کہا: کیا تم کسی شخص کو بھیج نہیں سکتے کہ وہ نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلال! اٹھو اور نماز کے لیے پکارو ۔

Nafi narrated that Abdullah bin Umar (RA) used to say: "When the Muslims arrived in Al-Madinah they used to gather and try to figure out the time for prayer, and no one gave the call to prayer. One day they spoke about that; some of them said: Let us use a bell like the Christians do; others said, No, a horn like the Jews have. Umar (RA) said: Why dont you send a man to announce the time of prayer? The Messenger of Allah ﷺ said: O Bilal, get up and give the call to prayer".

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 626
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١ (٣٧٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥ (١٩٠)، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٥)، مسند احمد ٢/١٤٨ (صحیح )