مقام مزدلفہ میں نماز مغرب اور نماز عشاء ایک ساتھ پڑھنا
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ صَلَاتَيْنِ إِلَّا بِجَمْعٍ وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ وَقْتِهَا.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ١ ؎، آپ نے اس روز فجر (اس کے عام) وقت سے ٢ ؎ پہلے پڑھ لی۔
It was narrated that Abdullah (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ combine any two prayers except in Al-Muzdalifah, and on that day he prayed Subh before its time".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 608
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن مسعود کا نہ دیکھنا جمع بین الصلاتین کی نفی کو مستلزم نہیں، خصوصاً جب عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور اکابر صحابہ ؓ اجمعین سے جمع بین الصلاتین کی صحیح روایات منقول ہیں۔ ٢ ؎: یعنی فجر طلوع ہوتے ہی پڑھ لی جب کہ عام حالات میں طلوع فجر کے بعد کچھ انتظار کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩٩ (١٦٨٢)، صحیح مسلم/الحج ٤٨ (١٢٨٩)، سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٤)، مسند احمد ١/٣٨٤، ٤٢٦، ٤٣٤، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٠١٣، ٣٠٣٠، ٣٠٤١ مختصراً (صحیح )