Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 8 of 289

140Sunan An Nasai

وضو میں اضافہ کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِفَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “A Bedouin came to the Prophet ﷺ to ask him about Wudu’, so he showed him how to perform Wudu’, washing each part three times, then he said: ‘This is Wudu’. Whoever does more than that has done badly, gone to extremes and done wrong.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 140
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٥١ (١٣٥) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٨ (٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٩)، مسند احمد ٢/١٨٠ (حسن صحیح )
141Sunan An Nasai

وضو پورا کرنا

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنَّهُأَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ.

عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ ﷺ نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں (یعنی بنی ہاشم کو) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ١ ؎ (پہلی یہ کہ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، (دوسری یہ کہ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور (تیسری یہ کہ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔

Abdullah bin ‘Ubaidullah bin ‘Abbas said: “We were sitting with ‘Abdullah bin ‘Abbas and he said: ‘By Allah, the Messenger of Allah ﷺ did not say specifically anything for us above the people, except for three things: He commanded us to do Wudu’ properly, not to consume charity, and not to mate donkeys with horses.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 141
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان باتوں کی بنی ہاشم کو زیادہ تاکید فرمائی، ان میں سے پہلی بات تو عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے، اور دوسری بات بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ خاص ہے، جب کہ تیسری بات یعنی گدھوں اور گھوڑیوں کا ملاپ عموماً مکروہ ہے کیونکہ اس سے گھوڑوں کی نسل کم ہوگی حالانکہ ان کی نسل بڑھانی چاہیئے کیونکہ گھوڑے آلات جہاد میں سے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٣١ (٨٠٨) مطولاً، سنن الترمذی/الجہاد ٢٣ (١٧٠١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٩ (٤٢٦) مختصرًا، (تحفة الأشراف: ٥٧٩١)، مسند احمد ١/٢٢٥، ٢٣٢، ٢٣٤، ٢٤٩، ٢٥٥، ویأتي عند المؤلف برقم: ٣٦١١، بزیادة في أوّلہ (صحیح )
142Sunan An Nasai

وضو پورا کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامل وضو کرو ۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do Wudu properly.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 142
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١١١ (صحیح )
143Sunan An Nasai

وضومکمل کرنے کی فضیلت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Shall I not tell you of that by means of which Allah erases sins and raises (people) in status? Doing Wudu’ properly even when it is inconvenient, taking a lot of steps to the Masjid, and waiting for one Salah after another. That is the Ribat for you, that is the Ribat for you, that is the Ribat for you.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 143
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان: يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا (آل عمران: 200) میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے، بلکہ اس سے نفس اور بدن کو طاعات سے مربوط کرنا ہے، یا اس سے مراد افضل عمل ہے، یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے رباط کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٤ (٢٥١)، سنن الترمذی/فیہ ٣٩ (٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٧)، موطا امام مالک/ السفر ١٨ (٥٥)، مسند احمد ٢/٢٧٧، ٣٠٣ (صحیح )
144Sunan An Nasai

حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہوگیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ ؓ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر ؓ موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ٢ ؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں (ایسے ہی ہے) ۔

It was narrated from ‘Asim bin Sufyan Ath-Thaqafi that they went out for the battle of As-Salasil, but they missed the fighting, so they kept watch, then they went back to Muawiyah, and Abu Ayyub and ‘Uqbah bin ‘Amir were with him. ‘Asim said: “Abu Ayyub, we missed the general mobilization, but we have been told that whoever prays in the four Masjids will be forgiven his sins.” He said: “son of my brother! I will tell you of something easier than that. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever performs Wudu as commanded and prays as commanded, will be forgiven for his previous actions.’ Is it not so, ‘Uqbah?” He said: “Yes.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 144
Notes · وضاحت
غزوہ سلاسل یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ٨ ھ میں ہوا تھا، یہ کوئی ایسا غزوہ تھا جو عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں ملک عراق کے اندر ہوا تھا۔ ٢ ؎: چاروں مسجدوں سے مراد مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قباء اور مسجد الاقصیٰ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٢)، مسند احمد ٥/٤٢٣، سنن الدارمی/الطہارة ٤٥ (٧٤٤) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” سفیان بن عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )
145Sunan An Nasai

حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قال: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ.

عثمان ؓ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے ۔

It was narrated that Jami’ bin Shaddad said: “I heard Humran bin Aban tell Abu Burdah in the Masjid that he heard ‘Uthman narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever performs Wudu completely as commanded by Allah, the five daily prayers will be an expiation for whatever comes in between them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 145
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٤ (٢٣١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٥٧ (٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٩)، مسند احمد ١/٥٧، ٦٦، ٦٩، وانظر ایضا الأرقام: ٨٤، ٨٥، ٨٥٧ (صحیح )
146Sunan An Nasai

حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنَ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا.

عثمان ؓ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

‘Uthman said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘There is no man who performs Wudu’ and does it well, then prays, but he when he prays it, he will be forgiven whatever (sins he commits) between that and the next prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 146
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢٤ (١٦٠)، صحیح مسلم/الطہارة ٤ (٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٩٣)، موطا امام مالک/فیہ ٦ (٢٩)، مسند احمد ١ (٥٧) وانظر أیضا رقم: ٨٤، ٨٥ (صحیح )
147Sunan An Nasai

حکم خداوندی کے مطابق وضو کرنا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ ؟ قَالَ: أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے (زمین) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ١ ؎۔

‘Amr bin ‘Abasah said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ ! How is Wudu’ done?’ He said: ‘As for Wudu, when you perform Wudu, and you wash your hands to clean them, your sins come out from between your fingers and fingertips. When you rinse your mouth and nostrils, and wash your face and hands up to the elbows, and wipe your head, and wash your feet up to the ankles, you are cleansed of all your sins. When you prostrate your face to Allah, may He be exalted, you emerge from your sins like the day your mother bore you.” Abu Umamah said: “I said: ‘‘Amr bin ‘Abasah! Look at what you are saying! Was all of that given in one sitting?’ He said: ‘By Allah, I have grown old, my appointed time is near and I am not so poor that I should tell lies about the Messenger of Allah ﷺ . I heard it with my own ears and understood it in my heart from the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 147
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/مسافرین ٥٢ (٨٣٢)، مسند احمد ٤/١١٢، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح )
148Sunan An Nasai

وضو سے فراغت کے بعد کیا کہنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو ۔

It was narrated that ‘Umar bin Al-Khattab (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever performs Wudu and does it well, then says: “Ashhadu an lailaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa rasaluh (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger),” eight gates of Paradise will be opened for him, and he may enter through whichever one he wishes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 148
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٢٣٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٠ (٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٠٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٤١ (٥٥)، بزیادة ” اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین “، وأعادہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة ٣٤ (٨٤)، سنن ابی داود/فیہ ٦٥ (١٦٩)، م (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) من مسند عقبة بن عامر، سنن الدارمی/الطہارة ٤٣ (٧٤٣) مطولاً (صحیح )
149Sunan An Nasai

وضو کے زیور سے متعلق ارشاد رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قال: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ ؟ فَقَالَ لِي: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ.

ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: اے بنی فروخ! تم لوگ یہاں ہو! ١ ؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ٢ ؎، میں نے اپنے خلیل (گہرے دوست) نبی اکرم ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا ٣ ؎۔

It was narrated that Abu Hazim said: “I was behind Abu Hurairah (RA) when he performed Wudu’ for Salah. He washed his hand up to the armpit, and I said: ‘ Abu Hurairah (RA) h! What is this Wudu’?’ He said to me: ‘Banu Farrukh! You are here! If I had known that you were here I would not have performed Wudu’ like this. I heard my close friend (i.e., the Prophet) ﷺ say: “The jewelry of the believer will reach as far as his Wudu reached.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 149
Notes · وضاحت
١ ؎: فروخ ابراہیم (علیہ السلام) کے لڑکے کا نام تھا جو اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کے بعد پیدا ہوئے، ان کی نسل بہت بڑھی، کہا جاتا ہے کہ عجمی انہیں کی اولاد میں سے ہیں، قاضی عیاض کہتے ہیں، فروخ سے ابوہریرہ کی مراد موالی ہیں اور یہ خطاب ابوحازم کی طرف ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عوام کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اندیشہ ہے کہ وہ اسے فرض سمجھنے لگ جائیں، اس لیے ابوہریرہ ؓ نے یہ بات کہی کہ اگر میں جانتا کہ تم لوگ یہاں موجود ہو تو اس طرح وضو نہ کرتا۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز مومن کے اعضاء وضو میں زیور پہنائے جائیں گے، تو جو کامل وضو کرے گا اس کے زیور بھی کامل ہوں گے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کو زیور اس حد تک پہنایا جائے گا جہاں تک وضو میں پانی پہنچتا ہے یعنی ہاتھوں کا زیور کہنیوں تک، پاؤں کا ٹخنوں تک، اور منہ کا کانوں تک ہوگا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٣ (٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٨)، مسند احمد ٢/٣٧١ (صحیح )
150Sunan An Nasai

وضو کے زیور سے متعلق ارشاد رسول ﷺ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا ؟قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بکم لاحقون مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے صحابہ (ساتھی) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ went out to the graveyard and said: “Peace be upon you, abode of believing people. If Allah wills, we shall join you soon. Would that I had seen our brothers.” They said: “Messenger of Allah ﷺ , are we not your brothers?” He said: “You are my Companions. My brothers are those who have not come yet. And I will reach the Hawd before you.” They said: “Messenger of Allah ﷺ , how will you know those of your Ummah who come after you?” He said: “Don’t you think that if a man has a horse with a white blaze and white feet among horses that are solid black, he will recognize his horse?” They said: “Of course.” He said: “They will come on the Day of Resurrection with glittering white faces and glittering white hands and feet because of Wudu, and I will reach the Hawd before them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 150
Notes · وضاحت
١ ؎: پیش رو سے مراد میر سامان ہے جو قافلے میں سب سے پہلے آگے جا کر قافلے کے ٹھہرنے اور ان کی دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے، یہ امت محمدیہ کا شرف ہے کہ ان کے پیش رو محمد رسول اللہ ﷺ ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٢ (٢٤٩) مطولاً، سنن ابی داود/الجنائز ٨٣ (٣٢٣٧)، سنن ابن ماجہ/ الزھد ٣٦ (٤٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٨)، مسند احمد ٢/٣٠٠، ٣٧٥، ٤٠٨ (صحیح )
151Sunan An Nasai

بہترین طریقہ سے وضو کر کے دو رکعات ادا کرنے والے کا اجر؟

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَارَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever performs Wudu and does it well, then prays two Rak’ahs in which his heart and face are focused, Paradise will be his.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 151
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٢٣٤) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ ٦٥ (١٦٩) مطولاً، ١٦٢ (٩٠٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٤)، مسند احمد ٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣ (صحیح )
152Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.

ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ١ ؎ آتی تھی، اور نبی اکرم ﷺ کی بیٹی (فاطمہ ؓ) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ١ ؎۔

Ali said: “I was a man who had a lot of prostatic discharge, and the daughter of the Prophet ﷺ was married to me, so I felt shy to ask him (about that). I said to a man who was sitting beside me: ‘Ask him,’ so he asked him and he said: ‘Perform Wudu’ for that.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 152
Notes · وضاحت
١ ؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٣ (٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٠١٧٨)، مسند احمد ١/١٢٥، ١٢٩ (حسن صحیح )
153Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُلِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو (اس پر کیا ہے؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھو، میں آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کرلیں ۔

It was narrated that ‘Ali said: “I said to Al-Miqdad: ‘If a man is intimate with his wife and excretes prostatic fluid but does not have intercourse — ask the Prophet ﷺ about that, for I am too shy to ask him about it since his daughter is married to me.’ So he asked him, and he said: ‘Let him wash his male member and perform Wudu’ as for Salah.” (Da`if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 153
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٣ (٢٠٨، ٢٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤١)، مسند احمد ١/١٢٤ (صحیح )
154Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ.

عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ (اس بارے میں) رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں، (چنانچہ انہوں نے پوچھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے ۔

It was narrated from ‘A’ish bin Anas that ‘Ali said: “I was a man who had a lot of prostatic discharge, so I told ‘Ammar bin Yasir to ask the Messenger of Allah ﷺ (about it) because his daughter was married to me. He said: ‘Wudu’ is sufficient for that.” (Hasan)

منکر بذکر عمارصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 154
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠١٥٦) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے )
155Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے عمار ؓ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کرلیں ۔

It was narrated from Rafi’ bin KHadij that ‘Ali told ‘Ammar to ask the Messenger of Allah ﷺ about prostatic fluid, and he said: ‘Let him wash his male member and perform Wudu’.” (Sahih)

منکر والمحفوظ أن المأمور المقدادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 155
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٠) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے، کما تقدم )
156Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ (وضو یا غسل) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ ﷺ کی صاحبزادی (فاطمہ ؓ) ہیں، اس لیے میں (خود) آپ ﷺ سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ۔

It was narrated from Al-Miqdad bin Al-Aswad that ‘Ali told him to ask the Messenger of Allah ﷺ about a man who comes close to his wife and prostatic fluid comes out of him — what should he do? (‘Ali said:) For his daughter is married to me and I feel too shy to ask him. So I asked the Messenger of Allah ﷺ about that and he said: “If any one of you experiences that, let him sprinkle water on his private part and perform Wudu’ as for Salah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 156
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ٨٣ (٢٠٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٠ (٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٤)، موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣)، مسند احمد ٦/٤، ٥ ویأتی عند المؤلف برقم: ٤٤١ (صحیح )
157Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ ؓ کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو واجب ہوتا ہے ۔

It was narrated that ‘Ali said: “I felt too shy to ask the Messenger of Allah ﷺ about prostatic fluid because of Fatimah, so I told Al-Miqdad bin Al-Aswad to ask about it, and he (the Prophet ﷺ ) said: ‘Perform Wudu’ for that.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 157
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥١ (١٣٢)، الوضوء ٣٤ (١٧٨)، صحیح مسلم/الحیض ٤ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٤)، مسند احمد ١/٨٠، ٨٢، ١٠٣، ١٢٤، ١٤٠، ولہ طرق أخری عن علی ۔ انظر الأرقام: ٤٣٦-٤٤١ (صحیح )
158Sunan An Nasai

پاخانہ پیشاب نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ: عَنِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ.

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال ؓ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں) ۔

Zirr bin Hubaish narrated: “I came to a man called Safwan bin ‘Assal and sat at his door. He came out and said: ‘What do you want?’ I said: ‘I am seeking knowledge.’ He said: ‘The angels lower their wings for the seeker of knowledge out of pleasure at what he is seeking.’ He said: ‘What do you want to know about?’ I said: ‘About the Khuffs.’ He said: ‘When we were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 158
Notes · وضاحت
یعنی اگر جنابت لاحق ہوجائے تو اتارنے ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٦، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢) (حسن )
159Sunan An Nasai

پاخانہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جانے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم (موزوں کو) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، ١ ؎ لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں) ۔

Safwan bin ‘Assal said: “When we were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 159
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٦، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢) (حسن )