Sunan An Nasai 159

پاکی کا بیان

159Sunan An Nasai

پاخانہ نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جانے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم (موزوں کو) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے، ١ ؎ لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں) ۔

Safwan bin ‘Assal said: “When we were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 159
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٢٦، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢) (حسن )