مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے (اسے) آپ پر ڈالا، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑگیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا) ۔
It was narrated that Al-Mughira bin Shu’bah said: “The Prophet ﷺ went out to relieve himself, and when he came back, I met him with a vessel (of water). I poured some for him and he washed his hands, then he washed his face. Then he wanted to wash his forearms but the his Jubbah was too tight, so he brought them out from beneath the Jubbah to wash them, and he wiped over his Khuffs, then he led us in prayer.” (Sahih)
صحيح الإسناد م لکن قوله بنا خطأ لأنه صلى الله عليه وسلم کان مقتديا بابن عوف في هذه القصةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 123
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧ (٣٦٣)، ٢٥ (٣٨٨) مختصراً، الجہاد ٩٠ (٢٩١٨)، اللباس ١٠ (٥٧٩٨)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٩ (٣٨٩)، مسند احمد ٤/ ٢٤٧، ٢٥٠، (تحفة الأشراف: ١١٥٢٨) (صحیح الاسناد) (لیکن ” صلى بنا “ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس قصہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کے پیچھے صلاة پڑھی تھی )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ١ ؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ٢ ؎۔
It was narrated from Al-Mughira bin Shu’bah that the Messenger of Allah ﷺ went out to relieve himself, and Al-Mughlrah followed him, (carrying) a vessel of water. He poured water for him when he had finished relieving himself, and he performed Wudu and wiped over his Khuffs. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 124
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی روایت میں حتیٰ فرغ من حاجتہ کے بجائے حین فرغ من حاجتہ ہے یعنی جب آپ ﷺ حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی رو سے حتی کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح حین ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد فتوضأ کا جملہ بےموقع ہوگا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم حدثنا وكيع أنبأنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الجوربين والنعلين . قال أبو عبد الرحمن ما نعلم أحدا تابع أبا قيس على هذه الرواية والصحيح عن المغيرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين .
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: مغیرہ! تم پیچھے ہوجاؤ اور لوگو! تم چلو ، چناچہ میں پیچھے ہوگیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہوگیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
Hamzah bin Al-Mughira bin Shu’bah (narrated) that his father said: “I was with the Prophet ﷺ on a journey, and he said: ‘Stay back O Mughira! Go ahead, people!’ So I went back, and I had with me a vessel of water. The people went ahead, and there the Messenger of Allah ﷺ relieved himself. When he came back I went and poured water for him. He was wearing a Roman Jubbah with narrow sleeves, and he wanted to expose his hands (to wash them) but the sleeves were too tight, so he brought his hands out from beneath the Jubbah and washed his face and hands, and wiped his head, and wiped over his Khuffs.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 125
صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔
It was narrated that Safwan bin ‘Assal said: “The Prophet ﷺ granted us a dispensation when traveling, allowing us not to take off our Khuffs for three days and three nights.” (Hasan)
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال ؓ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ ﷺ حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔
It was narrated that Zirr said: “I asked Safwan bin ‘Assal about wiping over the Khuffs, and he said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to tell us, when we were traveling, to wipe over our Khuffs and not take them off for three nights in the event of defecating, urinating or sleeping; only in the case of Janabah. “ (Hasan)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ١ ؎ یعنی (موزوں پر) مسح کے سلسلے میں۔
It was narrated that ‘Ali (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ set a time limit of three days and three nights for the traveler, and one day and one night for the resident — meaning, with regard to wiping (over the Khuffs).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 128
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مدت حدث کے وقت سے معتبر ہوگی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے۔
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی ؓ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چناچہ میں علی ؓ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ١ ؎۔
It was narrated that Shuraih bin Hani’ said: “I asked Aisha (RA) about wiping over the Khuffs and she said: ‘Go to ‘Ali, for he knows more about that than I do.’ So I went to ‘Ali and asked him about wiping (over the Khuffs) and he said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to tell us to wipe (over the Khuffs) for one day and one night for the resident, and three for the traveler.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 129
Notes · وضاحت
١ ؎: مالک سے مشہور یہ روایت ہے کہ مسح کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک چاہے مسح کرے، ان کی دلیل ابی بن عمارہ ؓ کی حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے لیکن وہ ضعیف ہے، لائق استدلال نہیں۔
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ١ ؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔
An-Nazzal bin Sabrah said: “I saw ‘Ali (RA) praying Zuhr, then he sat to tend to the people’s needs, and when the time for ‘Asr came, a vessel of water was brought to him. He took a handful of it and wiped his face, forearms, head and feet with it, then he took what was left and drank standing up. He said: ‘People dislike this, but I saw the Messenger of Allah ﷺ doing it. This is the Wudu’ of one who has not committed Hadath.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 130
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی باوضو ہو اور نماز کا وقت آجائے، اور وہ ثواب کے لیے تازہ وضو کرنا چاہے تو تھوڑا سا پانی لے کر سارے اعضاء پر مل لے تو کافی ہوگا، پورا وضو کرنا اور ہر عضو کے لیے الگ الگ پانی لینا ضروری نہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے (اس سے) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎! اس پر (عمرو بن عامر) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔
It was narrated from ‘Amr bin ‘Amir that Anas mentioned: “The Messenger of Allah ﷺ was brought a small vessel (of water) and he performed Wudu.” I said: “Did the Messenger of Allah ﷺ perform Wudu’ for every prayer?” He said: “Yes.” He said: “What about you?” He said: “We used to pray all the prayers so long as we did not commit Hadath.” He said: “And we used to pray all the prayers with (one) Wudu.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 131
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کی عام عادت مبارکہ یہی تھی، اگرچہ کبھی کبھی ایک وضو سے دو اور اس سے زیادہ نمازیں بھی آپ نے پڑھی ہیں، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ انس ؓ نے اپنی معلومات کے مطابق جواب دیا ہو، شاید انہیں اس کا علم نہ رہا ہو کہ آپ نے ایک وضو سے کئی نمازیں بھی پڑھی ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ ﷺ نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ came out from the toilet and food was brought to him. They said: “Shall we not bring water for Wudu’?” He said: “I have only been commanded to perform Wudu’ when I want to pray.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 132
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چناچہ عمر ؓ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ١ ؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu for every prayer. On the day of the Conquest (of Makkah), he offered all the prayers with one Wudu’. ‘Umar said to him: ‘You have done something that you never did before.’ He said: ‘I did that deliberately, ‘Umar.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 133
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ عام طور سے ایسا نہیں کرتے تھے ورنہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ کا ایسا کرنا ثابت ہے۔ ٢ ؎: تاکہ میری امت کو یہ معلوم ہوجائے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کرنا درست ہے۔
سفیان ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ ﷺ اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، (خالد بن حارث کہتے ہیں) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی ؓ کے بیٹے ہیں۔
It was narrated from Al Hakam, from his father, that when the Messenger of Allah ﷺ performed Wudu he would take a handful of water and do this with it. Shu’bah described it: “He would sprinkle his private parts with it.” (Hasan) Shaikh Ibn As-Sunni said: “Al Hakam (one of the narrators) is Ibn Sufyan Ath-Thaqafi.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 134
حکم بن سفیان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں و نضح فرجه کی جگہ فنضح فرجه ہے۔
It was narrated that Al Hakam bin Sufyan said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ I performing Wudu’ and sprinkling his private area (with water).” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 135
Notes · وضاحت
١ ؎: حکم بن سفیان ان کے نام میں اضطراب ہے، حکم بن سفیان، سفیان بن حکم، ابن ابی سفیان یا أبو الحکم کئی طرح سے آیا ہے، نیز کسی کی روایت میں عن أبيه ہے اور کسی کی روایت میں نہیں ہے، اس لیے ان کی یہ روایت اضطراب کے سبب ضعیف ہے، (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ٣٤٢٠ ) لیکن ابن ماجہ میں مروی زید اور جابر ؓ کی روایتوں سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہوجاتی ہے۔
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا (تو اپنے اعضاء) تین تین بار (دھوئے) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے (بھی) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔
It was narrated that Abu Hayyah said: “I saw ‘Ali performing Wudu’, washing each part twice. Then he stood up and drank the water that was left over from his Wudu’ and said: ‘The Messenger of Allah ﷺ , did as I have done.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 136
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال ؓ نے آپ کے وضو کا پانی (جو برتن میں بچا تھا) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ ﷺ کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔
It was narrated from ‘Awn bin Abi Juhaifah that his father said: “I saw the Prophet ﷺ in Al-Batha’. Bilal (RA) brought out the water left over from his Wudu’ and the people rushed toward it and I got some of it. Then a short spear was planted in the ground and he led the people in prayer, while donkeys, dogs and women were passing in front of him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 137
جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ١ ؎۔
Ibn Al-Munkadir said: “I heard Jabir say: ‘I fell sick, and the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr (RA) came to visit me. They found me unconscious, so the Messenger of Allah ﷺ performed Wudu and poured his Wudu water over me.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 138
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو پانی وضو سے بچ رہا تھا اسے میرے اوپر ڈالا، یہ تفسیر باب کے مناسب ہے، یا جو پانی وضو میں استعمال ہوا تھا اس کو اکٹھا کر کے ڈالا، ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ جب ماء مستعمل سے نفع اٹھانا جائز ہے تو بچے ہوئے پانی سے نفع اٹھانا بطریق اولیٰ جائز ہوگا۔
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Malih, that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not accept Salah without purification, nor charity from Ghulal.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 139
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مال غنیمت میں سے چرا کر اگر کوئی صدقہ دے تو وہ صدقہ مقبول نہ ہوگا، یہی حکم ہر مال حرام کا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣١ (٥٩)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٢ (٢٧١)، (تحفة الأشراف ١٣٢)، مسند احمد ٥/٧٤، ٧٥، سنن الدارمی/الطہارة ٢١ (٧١٣)، ویأتي عندالمؤلف برقم: ٢٥٢٥، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤)، عن ابن عمر، مسند احمد ٢/٢٠، ٣٩، ٥١، ٥٧ وغیرہما (صحیح )