وضو کا بچا ہوا پانی کار آمد کرنا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَونِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَأَخْرَجَ بِلَالٌ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَنِلْتُ مِنْهُ شَيْئًا، وَرَكَزْتُ لَهُ الْعَنَزَةَفَصَلَّى بِالنَّاسِ وَالْحُمُرُ وَالْكِلَابُ وَالْمَرْأَةُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ.
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال ؓ نے آپ کے وضو کا پانی (جو برتن میں بچا تھا) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ ﷺ کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔
It was narrated from ‘Awn bin Abi Juhaifah that his father said: “I saw the Prophet ﷺ in Al-Batha’. Bilal (RA) brought out the water left over from his Wudu’ and the people rushed toward it and I got some of it. Then a short spear was planted in the ground and he led the people in prayer, while donkeys, dogs and women were passing in front of him.” (Sahih)