Sunan An Nasai 124

پاکی کا بیان

124Sunan An Nasai

موزوں پر مسح کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِفَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ١ ؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ٢ ؎۔

It was narrated from Al-Mughira bin Shu’bah that the Messenger of Allah ﷺ went out to relieve himself, and Al-Mughlrah followed him, (carrying) a vessel of water. He poured water for him when he had finished relieving himself, and he performed Wudu and wiped over his Khuffs. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 124
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی روایت میں حتیٰ فرغ من حاجتہ کے بجائے حین فرغ من حاجتہ ہے یعنی جب آپ ﷺ حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی رو سے حتی کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح حین ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد فتوضأ کا جملہ بےموقع ہوگا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ١١٥١٤) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٧٩ )