مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ١ ؎ آتی تھی، اور نبی اکرم ﷺ کی بیٹی (فاطمہ ؓ) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ١ ؎۔
Ali said: “I was a man who had a lot of prostatic discharge, and the daughter of the Prophet ﷺ was married to me, so I felt shy to ask him (about that). I said to a man who was sitting beside me: ‘Ask him,’ so he asked him and he said: ‘Perform Wudu’ for that.” (Sahih)