وضو میں اضافہ کرنے کی ممانعت
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِفَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ.
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ ﷺ سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “A Bedouin came to the Prophet ﷺ to ask him about Wudu’, so he showed him how to perform Wudu’, washing each part three times, then he said: ‘This is Wudu’. Whoever does more than that has done badly, gone to extremes and done wrong.” (Hasan)