Sunan An Nasai 154

پاکی کا بیان

154Sunan An Nasai

مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ.

عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ (اس بارے میں) رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں، (چنانچہ انہوں نے پوچھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے ۔

It was narrated from ‘A’ish bin Anas that ‘Ali said: “I was a man who had a lot of prostatic discharge, so I told ‘Ammar bin Yasir to ask the Messenger of Allah ﷺ (about it) because his daughter was married to me. He said: ‘Wudu’ is sufficient for that.” (Hasan)

منکر بذکر عمارصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 154
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠١٥٦) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے )