زہری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج (رض) اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔
It was narrated that Az-Zuhri said: "We heard that Rafi bin Khadij used to narrate that his paternal uncles -whom he said had been present at Badr- (said) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. ‘Uthman bin Saeed reported it from Shuaib, but he did not mention his two uncles.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3905
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٩٣٤(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے )
زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے تھے : سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Shuaib: "Az-Zuhri said: Ibn Al-Musayyab used to say: There is nothing wrong with leasing land in return for gold and silver, and Rafi bin Khadij used to narrate that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade that. (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3906
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٥٨٠) (صحیح) (یہ روایت منقطع ہے، زہری کی رافع رضی الله عنہ سے ملاقات نہیں ہے، لیکن سابقہ متابعات کی وجہ سے صحیح ہے )
١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔ شرافع بن خدیج (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں : اس کے بعد رافع (رض) سے پوچھا گیا : وہ لوگ زمین کو کرائے پر کیوں کر اٹھاتے تھے ؟ وہ بولے : غلے کی متعینہ مقدار کے بدلے میں اور اس بات کی شرط ہوتی تھی کہ ہمارے لیے وہ بھی ہوگا جو زمین میں کیا ریوں اور نالیوں پر پیدا ہوتا ہے۔ اسے نافع نے بھی رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے۔
It was narrated from Ibn Shihab that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land." Ibn Shihab said: "Rafi was asked after that: How did they lease land? He said: In return for a set amount of food (produce), and it was stipulated that we would have whatever grew on the banks of the streams and springs. Nafi’ reported it from Rafi’ bin KHadij, and there are differences over his narration of it.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3907
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت بھی منقطع ہے، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے )
نافع کا بیان ہے کہ رافع بن خدیج (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) کو خبر دی کہ ہمارے چچا لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، پھر واپس آ کر خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : ہمیں معلوم ہے کہ وہ (رافع) رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زمین والے تھے، اور اسے کرائے پر اس شرط پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس کی کیا ریوں کے کناروں پر جہاں سے پانی ہو کر گزرتا ہے پیدا ہوگا اور کچھ گھاس (چارہ) جس کی مقدار انہیں معلوم نہیں ان کی ہوگی۔ اسے ابن عون نے بھی نافع سے روایت کیا ہے لیکن اس میں (عمومتہ کے بجائے) بعض عمومتہ کہا ہے۔
Rafi bin Khadij told Abdullah bin Umar that his paternal uncles went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), then they came back and told them that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden leasing arable land. Abdullah said: "We knew that he owned some arable land that he leased at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in return for whatever grew on the banks of the streams of water, and for a certain amount of straw, I do not know how much it was." Ibn Awn reported it from Nafi but he said: "From some of his paternal uncles.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3908
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) زمین کا کرایہ لیتے تھے، انہیں رافع بن خدیج (رض) کی کوئی بات سننے کو ملی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور رافع (رض) کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا، تو رافع (رض) نے ان سے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے (یہ حدیث بیان کی) کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، اس کے بعد عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے ترک کردیا۔
It was narrated from Nafi: "Ibn Umar used to take rent for some land, then he heard something from Rafi bin Khadij. He took me by the hand and went off to Rafi, and I was with him. Rafi narrated to him from some of his paternal uncles, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land, so Abdullah stopped (doing that) afterward.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3909
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ زمین کا کرایہ لیتے تھے، یہاں تک کہ رافع (رض) نے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اسے ترک کردیا۔ اسے ایوب نے نافع سے، انہوں نے رافع (رض) سے روایت کیا ہے اور ان کے چچاؤں کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar that he used to take rent for land until Rafi narrated to him, from some of his paternal uncles, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. So he stopped doing that afterward. Ayyub reported it from Nafi’, from Rafi’, and he did not mention: “His paternal uncles.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3910
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) اپنے کھیت کرایہ پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ معاویہ (رض) کی خلافت کے آخری دور میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں رافع بن خدیج (رض) رسول اللہ ﷺ سے ممانعت نقل کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے، میں ان کے ساتھ تھا، انہوں نے رافع سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس کے بعد ابن عمر (رض) نے اسے ترک کردیا، پھر جب ان سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے کہ رافع (رض) کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ ایوب کی موافقت عبیداللہ بن عمر، کثیر بن فرقد اور جویریہ بن اسماء نے بھی کی ہے۔
It was narrated from Nafi that Ibn Umar used to lease out his arable land until he heard at the end of Muawiyahs Khilafah, that Rafi bin Khadij used to narrate, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden that. He went to him -and I (Nafi) was with him- and asked him (about that). He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) used to forbid leasing arable land." So Ibn Umar stopped (doing that) afterward. When he was asked about it he said: "Rafi bin Khadij said that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade that. ‘Ubaidullah bin ‘Umar, Kathir bin Farqad, and Juwairiyah bin Asma’ were in accord with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3911
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج (رض) نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar used to lease arable land, then he was told that Rafi bin Khadij narrated from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) that he forbade that. Nafi said: "He went out to him (and met him) in Al-Balat, and I was with him. He asked him (about that) and he said: Yes, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing arable land. So Abdullah stopped leasing it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3912
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) کو بتایا کہ رافع بن خدیج (رض) زمین کو کرائے پر دینے کے سلسلے میں حدیث بیان کرتے ہیں، تو میں اور وہ شخص جس نے انہیں بتایا تھا ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ رافع (رض) کے پاس آئے، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر (رض) نے زمین کرائے پر اٹھانی چھوڑ دی۔
It was narrated from Nafi: "A man told Ibn Umar that Rafi bin Khadij had narrated a Hadith concerning leasing of land. He and I, along with the man who had told him that, went to Rafi, and he told us that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden leasing land. So Abdullah stopped leasing land.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3913
نافع سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Nafi that Rafi bin Khadij told Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing arable land.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3914
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج (رض) اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ رافع (رض) کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے ؟ رافع (رض) نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو ١ ؎۔
It was narrated from Nafi that he narrated: "Ibn Umar used to lease his land in return for some of its produce. Then he heard that Rafi bin Khadij warned against that. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade that. He said: We used to lease our land before we came to know Rafi. Then he (Ibn Umar) became unsure, so he put his hand on my shoulder and we went to Rafi. Abdullah said to him: Did you hear the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid leasing land? Rafi said: I heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not lease land in return for anything.
رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے، اور (اس روایت میں ابن عمر (رض) سے رویت کرنے والے) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔
It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. Ibn ‘Umar reported it from Rafi’ bin KHadij, but there is disagreement is (reported from) ‘Amr bin Dinar (for it).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3916
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ رافع بن خدیج (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Ibn Umar say: We used to sell grain before it was ripe and before it was evident that it was free of disease and blight (by means of Al-Mukhabarah). We did not see anything wrong with that, until Rafi bin Khadij said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden Al-Mukhabarah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3917
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخابرہ سے مراد : بٹائی کا وہی معاملہ ہے جس کی تشریح حدیث نمبر ٣٨٩٣ کے حاشیہ میں گزری، یعنی : زمین کے بعض خاص حصوں میں پیدا ہونے والی پیداوار پر بٹائی کرنا، نہ کہ مطلق پیدا وار کے آدھا پر، جو جائز ہے۔
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج (رض) نے (خلافت یزید کے) پہلے سال ١ ؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں (سفیان و ابن جریج) کی موافقت حماد نے کی ہے۔
Amr bin Dinar said: "I bear witness that I heard Ibn Umar asking about Al-Khibr (the agreement to Al-Mukhabarah) and he said: We did not see anything wrong with that, until Ibn Khadij told us earlier that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbidding Al-Khibr." Hammad bin Zaid was in accord with the two of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3918
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ معاویہ (رض) کے آخری دور خلافت کا ہے، اس لیے پہلے سال سے مراد یزید کی خلافت کا پہلا سال ہے۔ (واللہ اعلم )
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو کہتے سنا : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع (رض) نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ عارم محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند عن حماد عن عمرو عن جابر روایت کیا ہے۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Ibn Umar say: We did not see anything wrong with Al-Khibr until last year, when Rafi said that the Prophet of Allah forbade it. ‘Arim differed with him; so he said: “From Hammad, from ‘Amr, from Jabir.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3919
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade leasing land. Muhammad bin Muslim At-Ta’ifI followed him up (in narrating it).
صحيح الإسناد
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں بھی کرایہ پر دینے سے مراد زمین کے بعض حصوں کی پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینا ہے، نہ کہ روپیہ پیسے، یا سونا چاندی کے بدلے، جو کہ اجماعی طور پر جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٥١٨) ، مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨٩) (صحیح) (اس کے راوی ” عارم محمد بن الفضل “ آخری عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور امام نسائی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی تھی، لیکن سابقہ متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )
جابر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور عن ابن عمر و جابر کہا ہے۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Mukhabarah, Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah. Sufyan bin ‘Uyainah combined the two Hadiths, so he said: “From Ibn ‘Umar and Jabir.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3920
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٥٦٥) (صحیح) (اس کے راوی ” محمد بن مسلم “ حافظہ کے قدرے کمزور تھے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہوجانا واضح ہوجائے۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی (پیداوار) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar and Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade selling fruits until it was clear that they were free of blemish, and (he forbade from) Al-Mukhabarah; leasing land in return for one-third or one-quarter (of the yield). Abu An-Najashi, ‘Ata’ bin Suhaib reported it, and disagreement is reported from him in it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3921
رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، اللہ کے رسول ! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو ، یا اپنے پاس رکھو ۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور عن رافع عن ظہیر بن رافع کہا ہے۔
Rafi bin Khadij narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to Rafi: "Do you rent out your arable land?" I said: "Yes, O Messenger of Allah. We rent it out in return for one-quarter, and in return for (a number of) Wasqs of barley." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Do not do that. Cultivate it (yourselves), or lend it, or keep it. Al-Awza’i differed with him; he said: “From Rafi’, from Zuhair bin Rafi’.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3922
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس (ہمارے چچا) ظہیر بن رافع (رض) نے آ کر کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ کا حکم اور وہ سچا (برحق) ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا : تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو ، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو ۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Rafi said: "Zuhair bin Rafi came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me to do something that was convenient for us. I said: What was that? He said: The command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is true. He asked me: What do you do with your land? I said: We rent it out in return for one-quarter (of the yield) and a number of Wasqs of dates or barley. He said: Do not do that. Cultivate it, give it to someone else to cultivate, or keep it. Bukair bin ‘Abdullah bin AlAshajj reported it from Usaid bin Rafi’, and he reported it as a narration of Rafi’s brother.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3923