ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے، اور حدیثوں روایت کی ہے : عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3885
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ (روایت کرتے ہوئے) کہا۔
It was narrated from Uthman bin Murrah who said: "I asked Al-Qasim about Al-Muzaraah, so he narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3887
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے : رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے۔
Rafi bin Khadij said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3888
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : خود اس زمین سے پیدا ہونے والے غلہ کے بدلے کرایہ اٹھانے سے منع فرمایا، کیونکہ خود رافع (رض) نے سونا چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ نیز مرفوعاً بھی روایت کی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ٣٩٢١ ، و ٣٩٢٩ ) ۔
ابوجعفر خطمی جن کا نام عمیر بن یزید ہے، کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک بچے کو سعید بن مسیب کے پاس بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے کہا : ابن عمر (رض) اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج (رض) سے مروی حدیث پہنچی تو وہ ان سے ملے۔ رافع (رض) نے کہا : نبی اکرم ﷺ بنی حارثہ کے پاس آئے تو ایک کھیتی کو دیکھ کر فرمایا : ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے ! لوگوں نے عرض کیا : یہ (کھیتی) ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! لیکن انہوں نے اسے بٹائی پر اٹھا رکھا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی کھیتی لے لو اور اس پر آنے والی خرچ اسے دے دو ، تو ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور ان کا خرچہ انہیں لوٹا دیا۔ اسے طارق بن عبدالرحمٰن نے بھی سعید بن مسیب سے روایت کیا اور اس میں طارق سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔
It was narrated that Abu Jafar Al-Khatmi - whose name was Umair bin Yazid - said: "My paternal uncle sent me with a slave of his, to Saeed bin Al-Musayyab to ask him about Al-Muzaraah. He said: Ibn Umar did not see anything wrong with it, until he heard the Hadith from Rafi bin Khadij. Then he met him, and Rafi said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Banu Harithah and saw some crops. He said: How good are the crops of Zubair. They said: It is not Zubairs. He said: Is the land not Zubairs? They said: No (it is not his), rather he is leasing it. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Take your crops and give him what he spent. So we took our crops, and gave him what he had spent.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3889
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ١ ؎ اور فرمایا : کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں : ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً (بلامعاوضہ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی (نقد) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کردیا ہے، پہلے ٹکڑے ٢ ؎ کو مرسلاً (بطور کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah, and said: Only three may cultivate: A man who has land which he cultivates; a man who was given some land and cultivates what he was given; and a man who takes land on lease for gold or silver.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3890
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ سے مراد یہاں مزارعہ (بٹائی) پر دینا ہے اور مزابنہ سے مراد : درخت پر لگے کھجور یا انگور کا اندازہ کر کے اسے خشک کھجور یا انگور کے بدلے بیچنا ہے۔ ٢ ؎: پہلی بات سے مراد نہیٰ رسول اللہ ﷺ عن المحاقل ۃ والمزابن ۃ ہے اور آخری بات سے مراد إنما یزرع ثلاث ۃ ، الیٰ آخرہ ہے۔ یعنی : پہلی روایت میں آخری ٹکڑے کو درج کر کے اس کو مرفوع بنادیا ہے، حالانکہ یہ سعید بن مسیب کا اپنا قول ہے، اسرائیل کی روایت جسے انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے، دونوں ٹکڑوں کو چھانٹ کر الگ الگ کردیا ہے۔
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا، پھر راوی (اسرائیل) نے دوسری بات کو اسی طرح بیان کیا (یعنی دوسرا قول ابن المسیب کا ہے) ، اسے طارق سے سفیان ثوری نے بھی روایت کیا ہے۔
It was narrated that Saeed said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah." Saeed said: "And he narrated something similar." And Sufyan Ath-Thawri reported it from Tariq.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3891
طارق کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا : تین قسم کی زمینوں کے علاوہ میں کھیتی درست نہیں : وہ زمین جو کسی کی اپنی ملکیت ہو، یا وہ اسے عطیہ دی گئی ہو، یا وہ زمین جسے آدمی سونے چاندی کے بدلے کرائے پر لی ہو۔ زہری نے صرف پہلی بات سعید بن سعید سے مرسلاً روایت کی۔
It was narrated that Tariq said: “I heard Saeed bin Al Musayyab say: ‘Cultivating land is not allowed except in three cases: Land which one owns, land which is given to one, or land which one rents in return for gold and silver.” (Hasan) And Az-Zuhri reported the first statement from Saeed, narrating it in Mursal form.
صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3892
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے محمد بن عبدالرحمٰن بن لبیبہ نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے اور عن سعد بن أبي وقاص کہا ہے۔
It was narrated from Saeed bin ALMusavyab that the Messenger of Allah ﷺ forbade Al-Mu and Ai-Muzabanah. (Sahih) And Muhammd bin ‘Abdur Rabrnan bin Labibah reported it from Saeed bin Al-Musayyab; so he said: “From Sad bin Abi Waqqas.”…
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3893
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن مرفوع روایات سے تقویت پاکر صحیح ہے )
سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں کہ کھیتوں والے لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے (غلہ کے) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا : سونے چاندی کے بدلے کرائے پر دو ۔ اس حدیث کو سلیمان بن یسار نے بھی رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنے چچاؤں میں کسی چچا کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
..It was narrated that Sad bin Abi Waqqà said: “At the time of the Messenger of Allah ﷺ landowners used to lease their arabic land in return for whatever grew on the banks of the streams used for irrigation. They came to the Messenger of Allah ﷺ and referred a dispute concerning such matters to him, and the Messenger of Allah ﷺ forbade them to lease land on such terms, and said: ‘Lease it for gold or silver.” And Sulaiman reported this [ from Rafi’, so he said: “From a man among his paternal uncles: —
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3894
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩١) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٦٠) ، مسند احمد (١/١٧٨، ١٨٢) ، سنن الدارمی/البیوع ٧٥ (٢٦٦٠) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” محمد بن عکرمہ “ لین الحدیث، اور ” محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ “ ضعیف )
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے، یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے، (بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے) ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "At the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) we used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, so we would lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, or a specified amount of food (produce). One day, a man among my paternal uncles came and said The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden me to do something that was beneficial for us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial for us. He has forbidden us to lease land on the basis of Al-Muhaqalah and to lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, and for a specified amount of food (produce). And he commanded the landowner to cultivate it (himself) or to give it to someone else to cultivate. He did not like leasing it or anything else.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3895
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Ayyub who said: “Ya’la bin Al-Hakim wrote to me (saying): ‘I heard Sulaimán bin Yasar narrating from Rafi’ bin Khadij, who said: “We used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, leasing it in return for one-third or one-quarter of the yield, and a specified amount of food (produce). (Sahih) (And) Saeed reported it from Ya’la bin Hakim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3896
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا : وہ کیا چیز ہے ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے (بلا کرایہ) دیدے، لیکن اسے تہائی، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع (رض) سے روایت کیا ہے اور (حنظلہ سے روایت کرنے والے) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "We used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah during the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم)." He said that one of his paternal uncles came to them and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden me to do something that was beneficial for us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial." We said: "What is that?" He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever has land, let him cultivate it (himself) or give it to his brother to cultivate, and not lease it in return for one-third or one-quarter of the yield nor a specified amount of food (produce). Rafi’; and there is a difference over Rabi’ah’s narration of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3897
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیا ریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کرلیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع (رض) سے کہا : تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا ؟ رافع (رض) نے کہا : دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے جس میں چچا کا ذکر نہیں ہے) ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "My paternal uncle told me that they used to lease land at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) in return for what grew on the banks of the streams, and a share of the crop stipulated by the owner of the land. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade us that." I (Hanzalah) said to Rafi: "How about leasing it in return for Dinars and Dirhams?" Rafi said: "There is nothing wrong with (leasing it) for Dinars and Dirhams. Al-Awzá’I differed with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3898
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیا ریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز (پر بٹائی) جس کی ضمانت دی جاسکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں (چچا کے نہ ذکر کرنے میں) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔
It was narrated that Hanzalah bin Qais Al-Ansari said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing land in return for Dinars and silver. He said: There is nothing wrong with that. During the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) they used to rent land to one another in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged - some areas of which might give good produce and some might give none at all - and the people did not lease land in any other way. So that was forbidden. But as for leases where the return is known and guaranteed, there is nothing wrong with that. (Sahih) Malik bin Anas was in accord with the chain, but he differed in the wordings.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3899
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے، میں نے کہا : سونے، چاندی کے بدلے ؟ کہا : نہیں (اس سے نہیں روکا ہے) ۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے۔ رہا سونا اور چاندی (کے بدلے کرایہ پر دینا) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
It was narrated that Hanzalah bin Qais said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing land. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. I said: For gold or silver? He said: No, rather he forbade leasing it in return for what the land produces. As for gold and silver, there is nothing wrong with that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3900
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے سونے، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ زمین کا حق ہے۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Hanzalah bin Qais said: "I asked Rafi bin Khadij about leasing uncultivated land in return for gold and silver. He said: (It is) permissible and there is nothing wrong with that. That is the due of the land.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3901
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا، اس وقت سونا اور چاندی (زیادہ) نہیں تھا۔ تو آدمی اپنی زمین کیا ریوں اور نالیوں پر ہونے والی پیداوار اور متعین چیزوں کے بدلے کرایہ پر دیتا تھا۔ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے، اور اس میں زہری پر اختلاف ہوا ہے۔
It was narrated that Rafi’ bin KHadij said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade us to lease our land. At that time there was no gold nor silver. A man would lease his land in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged, and in return for something specific.” (Sahih) And he quoted the rest of it. Salim bin ‘Abdullah bin ‘Umar reported it from Rafi’ bin KHadij, and there is a difference over Az Zuhri’s narration of it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3902
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج (رض) زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج ! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ ﷺ سے کیا نقل کرتے ہیں ؟ تو رافع (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں کو (کہتے) سنا (ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : میں تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جاسکتی ہے، پھر عبداللہ بن عمر (رض) کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہوگی جسے وہ نہ جان سکے ہوں، چناچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔
Salim bin Abdullah narrated that Abdullah bin Umar used to lease his land until he heard that Rafi bin Khadij forbade leasing land. Abdullah met him and said: "O Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about leasing land?" Rafi said to Abdullah: "I heard two of my uncles, who had been present at Badr, telling the people in the house, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land." Abdullah said: "I knew that at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) land used to be leased." Then Abdullah was concerned that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had decreed something and he had not known about it, so he stopped leasing land. (Sahih) Shuaib bin Abi Hamzah narrated it in Mursal form.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3904
Notes · وضاحت
١ ؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے : عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج جب کہ آگے روایت آرہی ہے۔