Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 196 of 289

3896Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: وَلَمْ أَفْهَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ.

اسید بن ظہیر (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج (رض) آئے تو انہوں نے کہا، اور میں اس (ممانعت کے راز) کو سمجھ نہیں سکا، پھر انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حقل سے روکا ہے۔ اور حقل کہتے ہیں : تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بےنیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو (یعنی پاس میں موجود کھجور کو) اس سال کی (درخت پر موجود) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو۔

It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and I was not sure what he meant. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden to you something that used to benefit you, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for you than that which benefits you. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden Al-Haql for you. Al-Haql means share-cropping the land in return for one-third or one-quarter (of the yield). So whoever has land that he does not need, let him give it to his brother (to cultivate it) or let him leave it. And he has forbidden to you Al-Muzabanah. Al-Muzabanah means when a man has a great number of datepalms and says: Take it in return for (a certain number of) Wasqs of dried dates this year.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3865
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٤ (صحیح )
3897Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا، قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ. خَالَفَهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے مفید اور نفع بخش تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہمارے لیے اس سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا : جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے ۔ اس میں عبدالکریم بن مالک نے ان (سعید بن عبدالرحمٰن) کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

Usaid bin Rafi bin Khadij said: "Rafi bin Khadij said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something for you that used to be beneficial for us, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is more beneficial for us. He said: "Whoever has land let him cultivate it, and if he is unable to do so, let him give it to his brother to cultivate.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3866
Notes · وضاحت
١ ؎: عبدالکریم بن مالک کی روایت آگے آرہی ہے، اور مخالفت ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٤ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” اسید بن رافع “ لین الحدیث ہیں )
3898Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. فَأَبَى طَاوُسٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: عَنْ رَافِعٍ مُرْسَلًا.

مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رافع بن خدیج (رض) کے بیٹے (اسید) کے یہاں گیا، تو انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میرے والد رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا، تو طاؤس نے انکار کردیا اور کہا : میں نے ابن عباس (رض) سے سنا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابوحصین سے، اور ابوحصین نے مجاہد سے، اور مجاہد نے رافع (رض) سے مرسلاً (یعنی منقطعا) روایت کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Mujahid said: "I took Tawus by the hand and brought him to Ibn Rafi bin Khadij, and he told him, narrating from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land. Tawus rejected that and said: I heard Ibn Abbas (say) that he did not see anything wrong with that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3867
Notes · وضاحت
١ ؎: سابقہ تمام سندوں میں مجاہد اور رافع کے درمیان یا تو اسید بن رافع بن خدیج یا اسید بن ظہیر کسی ایک کا واسطہ ہے اور اس سند میں یہ واسطہ ساقط ہے، اس لیے یہ سند منقطع ہے مگر متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢١ (١٥٥٠) (تحفة الأشراف : ٣٥٩١) (صحیح )
3899Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ: نَهَانَا أَنْ نَتَقَبَّلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرْجِهَا. تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ ﷺ نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

(The previously mentioned chain) from Mujahid who said: "Rafi bin Khadij said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade us to do something that was beneficial for us, (but we respect and obey the command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم)). He forbade us to lease land in return for some of its produce.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3868
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٤٢(١٣٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٧٨) ، مسند احمد (١/٢٨٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٢٩٠٠-٣٩٠٣) (صحیح )
3900Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ ؟. قَالَ: لِفُلَانٍ، أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ: لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ. فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا : یہ زمین کس کی ہے ؟ اس نے کہا : فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا : اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا) ، تب رافع بن خدیج (رض) نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by the land of a man from among the Ansar who he knew was in need and said: Whose is this land? He said: So and sos; he has given it to us in return for rent. He said: Why did he not give it to his brother?" Rafi came to the Ansar and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something for you which was beneficial, but obedience to the command of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is more beneficial for you.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3869
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٩ (صحیح) (سند میں راوی ” ابراہیم “ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
3901Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حقل سے منع فرمایا۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Haql (renting land in return for one-third or one-quarter of the produce).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3870
Notes · وضاحت
١ ؎: حقل کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مقصد تہائی اور چوتھائی کے بٹائی دینے کا معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٩ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
3902Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَرَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ يَمْنَحْهَا، أَوْ يَذَرْهَا.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا : جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے ۔

Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and forbade something for us that had been beneficial for us. He said: Whoever has land, let him cultivate it or give it to someone else (to cultivate), or leave it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3871
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٤ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )
3903Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ،وَمُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا، قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا. وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے (کسی کو) دیدے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے (رافع (رض) سے خود) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے۔

It was narrated from Tawus and Mujahid, that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came out to us and forbade something for us that had been beneficial for us, but the command of Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for us. He said: Whoever has land, let him cultivate it or leave it or give it (to someone else to cultivate).

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3872
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣٨٩٩ (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے )
3904Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يَكْرَهُ أَنْ يُؤَاجِرَ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، وَلَا يَرَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَاسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ: لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا. وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ.

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھائے۔ البتہ (پیداوار کی) تہائی یا چوتھائی کے بدلے بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تو ان سے مجاہد نے کہا : رافع بن خدیج کے لڑکے (اسید) کے پاس جاؤ اور ان سے ان کی حدیث سنو، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے تو میں ایسا نہ کرتا لیکن مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا جو ان سے بڑا عالم ہے یعنی ابن عباس (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو بس اتنا فرمایا تھا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین دیدے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر ایک متعین محصول (لگان) وصول کرے ۔ اس حدیث میں عطاء کے سلسلہ میں اختلاف واقع ہے، عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں : عن عطاء، عن رافع (عطا سے روایت ہے وہ رافع سے روایت کرتے ہیں) (جیسا کہ حدیث رقم ٣٩٠٣ میں ہے) اور یہ بات اوپر کی روایت میں گزر چکی ہے اور عبدالملک بن ابی سلیمان (عن رافع کے بجائے) عن عطاء عن جابر کہتے ہیں (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Amr bin Dinar said: "Tawus regarded it disliked renting out land for gold and silver, but he did not see anything wrong with leasing it in return for one-third or one-quarter (of the yield). Mujahid said to him: Go to Ibn Rafi bin Khadij and listen to his Hadith. He said: By Allah, if I knew that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) had forbidden that I would not have done it. But my Hadith comes from one who is more knowledgeable than him. Ibn Abbas (said) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If one of you were to give his land to his brother (to cultivate it), that would be better than taking an agreed portion of the yield.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3873
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٠ (٢٣٣٠) ، ١٨ (٢٣٤٢) ، الہبة ٣٥ (٢٦٣٤) ، صحیح مسلم/البیوع ٢١(١٥٥٠) ، سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٨٩) ، سنن الترمذی/الأحکام ٤٢ (١٣٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ٩ (٢٤٥٦) ، ١١(٢٤٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٣٥) مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٨١، ٣٤٩) (صحیح )
3905Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُزْرِعْهَا إِيَّاهُ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے اور اس سے اس میں بٹائی پر کھیتی نہ کرائے ۔

It was narrated from Ata from Jabir, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever has land, let him cultivate it. If he is unable to cultivate it, let him give it to his Muslim brother and not share-crop it with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3874
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧(١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٣٩) ، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤) (صحیح )
3906Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو دیدے اور اسے بٹائی پر نہ دے ۔ عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے (یہ متابعت آگے آرہی ہے) ۔

Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever has land, let him cultivate it or give it to his brother, and not lease it to him.” (Sahih) He was followed in (narrating) it by ‘Abdur-Rahman bin ‘Amr Al Awza’i.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3875
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3907Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ يُزْرِعْهَا، أَوْ يُمْسِكْهَا. وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے ۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت (متابعت) کی ہے۔

It was narrated that Jabir said: "Some people had some extra land which they leased out in return for half of the yield, or one-third, or one-quarter. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever has land, let him cultivate it, or give it to his brother to cultivate or keep it (without cultivating it).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3876
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٨ (٢٣٤٠) ، الہبة ٣٥ (٢٦٣٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ٧ (٢٤٥١) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٢٤) ، مسند احمد (٣/٣٥٥) (صحیح )
3908Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ هُوَ الْفَاخُورِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلَا يُؤَاجِرْهَا.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطاب فرمایا اور کہا : جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا کسی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے اور اسے کرائیے پر نہ دے ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) addressed us and said: Whoever has land, let him cultivate it or give it to someone else to cultivate, and let him not rent it out.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3877
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ٧ (٢٤٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٨٦) ، مسند احمد (٣/٣٦٩) (صحیح )
3909Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. وَافَقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ عَلَى النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ زمین کو کرائے پر نہ دینے کے سلسلہ میں (روایت کرنے میں) عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر کی موافقت کی ہے۔

It was narrated from Jabir who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "That he forbade leasing out land.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3878
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٨٧) ، مسند احمد (٣/٣٩٥) (صحیح )
3910Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأبِي الزُبَيرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا. تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ اور مزابنہ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، سوائے بیع عرایا کے ١ ؎۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے۔

It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Mukhabarah, Al-Muzabanah and Al-Muhaqalah, and selling fruit until it is fit to eat (ripe enough), except in the case of Al-Araya.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3879
Notes · وضاحت
١ ؎: مخابرہ : زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دینا، کہتے ہیں : مخابرہ خیبر سے ماخوذ ہے، یعنی خیبر کی زمینوں کے ساتھ جو معاملہ کیا گیا اس کو مخابرہ کہتے ہیں۔ حالانکہ خیبر میں جو معاملہ کیا گیا وہ جائز ہے، اسی لیے تو وہ معاملہ کیا گیا، مؤلف نے حدیث نمبر ٣٩١٤ میں مخابرہ کی تعریف یہ کی ہے کہ انگور جو ابھی بیلوں میں ہو کو اس انگور کے بدلے بیچنا جس کو توڑ لیا گیا ہو، یہی سب سے مناسب تعریف ہے جو مزابنہ اور محاقلہ سے مناسبت رکھتی ہے۔ مزابنہ : درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے بدلے معینہ مقدار سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ محاقلہ : کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ عرایا : عرایا یہ ہے کہ مالک کا باغ ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین و غریب کو کھانے کے لیے مفت دیدے، اور اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین و فقیر سے خرید لے اور اس کے بدلے تر یا خشک پھل اس کے حوالے کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٨٩) ، المساقاة ١٧ (٢٣٨٠) ، صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٥٢، ٢٨٠١) ، مسند احمد (٣/٣٦٠، ٣٨١، ٣٩١، ٣٩٢) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٥٢٧، ٤٥٢٨، ٤٥٥٤) (صحیح )
3911Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ. وَفِي رِوَايَةِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ عَطَاءً لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ حَدِيثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا.

جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ١ ؎ سے منع فرمایا ہے۔ (آگے آنے والی) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر (رض) سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ forbade Al-Muhaqalah Al-Muzabanah, Al Mukhabarah and exceptions when selling, unless they were well defined. (Hasan) And in the narration of Hammam bin Yahya is what acts as the proof that ‘Ata’ did not hear Jabir’s Hadith from the Prophet ﷺ: “Whoever has land, then let him cultivate it”.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3880
Notes · وضاحت
١ ؎: بیچی ہوئی چیز میں سے بلا تعیین و تحدید کچھ لینے کی شرط رکھنا یا سارے باغ یا کھیت کو بیچ دینا اور اس میں سے غیر معلوم مقدار نکال لینا۔ ٢ ؎: جابر بن عبداللہ (رض) سے عطاء کی یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے (دیکھئیے حدیث نمبر ٣٩٠٥ تخریج) سندھی فرماتے ہیں : مؤلف نے کالدلیل کہا ہے (الدلیل نہیں کہا ہے) جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات مؤکد نہیں ہے۔ نیز یہ ممکن ہے کہ عطاء نے سلیمان سے سننے کے بعد پھر جابر (رض) سے جا کر یہ حدیث سنی ہو۔ ایسا بہت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٤ (٣٤٠٥) ، سنن الترمذی/البیوع ٥٥ (١٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٩٥) ، ویأتي عند المؤلف ٤٦٣٧ (صحیح )
3912Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَأَلَ عَطَاءٌ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَ جَابِرٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا أَخَاهُ. وَقَدْ رَوَى النَّهْيَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے لیکن اسے اپنے بھائی کو کرائیے پر نہ دے ۔

Jabir (RA) narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever has land, let him cultivate it or give it to his brother to cultivate, and not lease it to his brother.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3881
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٩١) ، مسند احمد (٣/٣٦٣) (صحیح )
3913Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْحَقْلِ وَهِيَ الْمُزَابَنَةُ. خَالَفَهُ هِشَامٌ وَرَوَاهُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حقل (تہائی، چوتھائی پر بیع) ، اور یہی مزابنہ ہے، سے منع فرمایا۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر کی سند سے روایت کیا ہے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Haql and it is Al-Muzabanah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3882
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٧(١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤٥) (صحیح )
3914Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ، وَقَالَ: الْمُخَاضَرَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَزْهُوَ، وَالْمُخَابَرَةُ: بَيْعُ الْكَرْمِ بِكَذَا وَكَذَا صَاعٍ. خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے۔ اور کہا مخاضرہ : پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ (درخت کی) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے، ابوہریرہ (رض) کی حدیث سے روایت کیا ہے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Muzabanah and Al-Mukhadarah. He (one of the narrators) said: "Al-Mukhadarah means selling fruit before it ripens and Al-Mukhabarah means selling grapes in return for a certain number of Sas.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3883
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣١٦٤) (صحیح )
3915Sunan An Nasaiصحیح

زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، خَالَفَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محمد بن عمرو نے عمر بن ابی سلمہ اور یحییٰ دونوں کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3884
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٩٨٦) ، مسند احمد (٢/٤٨٤) (صحیح )