عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : نذر کی دو قسمیں ہیں : جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہوگا جو قسم کا ہوتا ہے ۔
It was narrated from Muhammad bin Az-Zubair, from his father, from a man from the inhabitants of Al-Basrah, who said: "I accompanied Imran bin Husain, who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Vows are of two types: A vow that is made to do an act of obedience to Allah; that is for Allah and must be fulfilled, and a vow that is made to do an act of disobedience to Allah; that is for Shaitan and should not be fulfilled, and its expiation is the expiation for an oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3845
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٩١) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی محمد اور ان کے باپ زبیر ضعیف ہیں، نیز ایک راوی مبہم بھی ہے )
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین (رض) سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہوگا، تو عمران (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that Muhammad bin Az-Zubayr Hanzali said: My father told me that a man told him, that he asked Imran bin Husain about a man who made a vow not to attend the prayers in the mosque of his people. Imran said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3846
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or at the time of anger, and its expiation is the expiation for an oath.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3847
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٠٨) ، مسند احمد (٤/٤٣٩، ٤٤٣) (ضعیف) (لفظ ” غضب “ میں اس حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے )
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath." Mansur bin Zadhan contradicted him in his wording.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3848
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔
It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow for the son of Adam with regard to that which he does not possess, or to do an act of disobedience to Allah, the Mighty and Sublime." Ali bin Zaid contradicted him -for he reported it from Al-Hasan from Abdur-Rahman bin Samurah
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3849
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین (رض) ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین (رض) سے روایت کی گئی ہے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3850
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٧٠٠) (صحیح) (اس کے راوی ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔
It was narrated that Imran bin Husain said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3851
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا : اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man being supported by two others and said: What is this? They said: He vowed to walk to the House of Allah. He said: Allah has no need for this man to torture himself. Tell him to ride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3852
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جاہل صوفیوں نے جو نئی نئی قسم کے پر مشقت افعال یہ سمجھ کر ایجاد کر رکھے ہیں کہ ان سے تزکیہ نفوس حاصل ہوتا ہے حالانکہ شریعت سے ان کا ذرہ برابر تعلق نہیں، یہ احکام شریعت سے ان کی جہالت و ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے صاف صاف طور پر بیان نہ کردیا ہو۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کیا : اس نے (کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا : اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چناچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) passed by an old man who was being supported between two men and said: What is the matter with him? They said: He vowed to walk. He said: Allah has no need for him to torture himself. Tell him to ride." So he was told to ride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3853
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا گیا : اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا : اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to a man who was being supported by two others and said: What is the matter with him? It was said: He vowed to walk to the Kabah. He said: Allah does not benefit from his torturing himself. And he told him to ride.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3854
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاء اللہ کہے تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears an oath and says: "If Allah wills, then he has made an exception.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3855
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : آج رات میں نوے ( ٩٠) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا : آپ ان شاء اللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان (علیہ السلام) اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر انہوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پالینے میں کامیاب بھی رہتے ۔
It was narrated from Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Sulaiman (علیہ السلام)said: I will certainly go around to ninety women tonight, each of whom will bear a child who will fight in the cause of Allah. It was said to him: Say: If Allah wills but he did not say it. He went around to them but none of them bore a child except for one woman who bore half a person." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If he had said: If Allah wills, he would not have broken his vow, and this would have been a means to help him to get what he wanted.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3856
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے کتاب الأیمان والنذور میں قسم اور نذر کو دو شرط مان کر اس باب میں تیسری شرط کا ذکر کیا، اس لیے کہ ان میں اکثر و بیشتر استثنا اور تعلیق کا تذکرہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کو تیسری شرط کا عنوان دے کر یہ بتایا کہ اس میں مزارعت اور و ثائق کا تذکرہ ہوگا (التعلیقات السلفیۃ) ۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ جب تم کسی مزدور سے مزدوری کراؤ تو اسے اس کی اجرت بتادو ۔
It was narrated that Abu Saeed said: "When you hire a worker, tell him what his wages will be.
ضعيف موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3857
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٥٨) ، مسند احمد (٣/٥٩، ٦٨، ٧١) ، مرفوعاً (ضعیف) (اس کے راوی ” ابرہیم نخعی “ کا ابو سعید خدری سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے لیکن اس اثر کا معنی صحیح ہے، آگے کے آثار دیکھیں )
حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مزدور سے اس کے کھانے کے بدلے کام لے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں (درست نہیں) یہاں تک کہ وہ اسے بتادے۔
It was narrated from Hammad -Ibn Abi Sulaiman- that he was asked about a man who hired a worker in return for food and he said: "No, not until he tells him (what his wages will be).
صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3859
حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا، جس نے ایک آدمی سے کہا : میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کردی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہوگا۔ تو اس (صورت) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن اس (صورت) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر (سواری) لیتا ہوں، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ١ ؎، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ٢ ؎۔
It was narrated from Hammad and Qatadah, concerning a man who said to another man: "I will lease (something) from you until I reach Makkah for such and such a payment, and if I travel for a month or such and such -something that he named- I will give you such and such in addition." They did not see anything wrong with that, but they did not like it if he said: "If I travel for more than a month I will deduct such and such from your lease.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3860
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری کی سست رفتاری کے سبب ایسا کرنا پڑا تو ایسا کروں گا ٢ ؎: متعین مسافت (دوری) کو تیزی کی وجہ سے وقت سے پہلے طے کرلینے پر زیادہ اجرت بطور انعام و اکرام ہے اس لیے دونوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے کرائے میں کمی کرنا ظلم اور دوسرے کے حق کو چھیننے کے مشابہ ہے، یہی وجہ کہ دونوں نے اس دوسری صورت کو مکروہ جانا ہے۔
ابن جریج کہتے ہں ي کہ میں نے عطا سے کہا : اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں (تو کیا حکم ہے) ؟ انہوں نے کہا : کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت (مزدوری) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت (مزدوری) پر رکھوں گا۔ (ابن جریج نے کہا) یا اگر میں نے اجرت (مزدوری) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں ؟ عطاء نے کہا : تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔
It was narrated that Ibn Juraij said: "I said to Ata: What if I hire a slave for a year in return for his food, and for another year, in return for such and such? He said: There is nothing wrong with that, and you may stipulate your conditions of hiring even for a few days. How about if I make a deal to hire him when part of the year has passed? He said: Do not hold me to account for what has passed.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3861
اسید بن ظہیر (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنے قبیلہ یعنی بنی حارثہ کی طرف نکل کر گئے اور کہا : اے بنی حارثہ ! تم پر مصیبت آگئی ہے، لوگوں نے کہا : وہ مصیبت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے۔ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! تو کیا ہم اسے کچھ اناج (غلہ) کے بدلے کرائے پر اٹھائیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، وہ کہتے ہیں : حالانکہ ہم اسے گھاس (چارہ) کے بدلے دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا : نہیں ، پھر کہا : ہم اسے اس پیداوار پر اٹھاتے تھے جو پانی کی کیا ریوں کے پاس سے پیدا ہوتی ہے، آپ نے فرمایا : نہیں ، تم اس میں خود کھیتی کرو یا پھر اسے اپنے بھائی کو دے دو ۔ مجاہد نے رافع بن اسید کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Usaid bin Zuhair that he went out to his people, Banu Harithah, and said: "O Banu Harithah, a calamity has befallen you." They said: "What is it?" He said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden leasing land." We said: "O Messenger of Allah, what if we lease it in return for some of the grain?" He said, "No." He said: "We used to lease it in return for straw." He said: "No." "We used to lease it in return for what is planted on the banks of a stream that is used for irrigation." He said: "No. Cultivate it (yourself) or give it to your brother.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3862
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت یہ ہے کہ رافع بن اسید نے اس کو اسید بن ظہیر (رض) کی حدیث سے روایت کیا ہے، جب کہ مجاہد نے اس کو اسید بن ظہیر سے اور اسید نے رافع بن خدیج (رض) کی حدیث سے روایت کیا ہے، اور رافع بن اسید لین الحدیث راوی ہیں، جب کہ مجاہد ثقہ امام ہیں، بہرحال حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٧) (صحیح) (اس کے راوی ” رافع بن اسید “ لین الحدیث ہیں، مگر متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
اسید بن ظہیر (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج (رض) آئے تو کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار پر (کھیتوں کو) بٹائی پر دینے سے اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ درختوں میں لگے کھجوروں کو اتنے اور اتنے میں (یعنی معین) وسق کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔
It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden for you Al-Haql. Al-Haql is the third and the fourth. And Al-Muzabanah. Al-Muzabanah is to buy what is at the top of the date-palm trees in return for a certain number of Wasqs of dried dates.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3863
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٠(٢٤٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٩) ، مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤٦٦) ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٨٩٥-٣٨٩٧) (صحیح الإسناد )
اسید بن ظہیر (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج (رض) آئے تو کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا : جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے ، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو۔ پھر کوئی (دوسرا) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ١ ؎ ایسی ہی (گھر میں موجود) کھجور کے بدلے میں لے لے۔
It was narrated that Usaid bin Zuhair said: "Rafi bin Khadij came to us and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something that was beneficial for us, but obedience to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) is better for you. He has forbidden Al-Haql (renting land in return for one-third or one-quarter of the produce) to you, and says: Whoever has land, let him give it (to someone else to cultivate it) or leave it. And he has forbidden Al-Muzabanah. Al-Muzabanah means when a man has a lot of date-palm trees and another man comes and takes it in return for a certain number of Wasqs of dried dates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3864
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق = ١٥٠ کلوگرام۔