اسید بن رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رافع کے بھائی نے اپنے قبیلے سے کہا : آج رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے، جو تمہارے لیے سود مند تھی اور آپ کا حکم ماننا واجب، آپ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Usaid bin Rafi bin Khadij that the brother of Rafi said to his people: "Today the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) has forbidden something which was convenient for you, but following his command is an act of obedience (to Allah) and is good. He forbade Al-Haql.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3924
عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں (یعنی صحابہ کو) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Hurmuz said: "I heard Usaid bin Rafi bin Khadij Al-Ansari say that they did not allow Al-Muhaqalah, which is land that is cultivated in return for some of its produce. ‘Elsa bin Sahl bin Rafi’ reported it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3925
عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج (رض) کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا : اے ابا جان (دادا جان) ! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اسے چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔
Eisa bin Sahl bin Rafi bin Khadij narrated: "I was an orphan in the care of my grandfather Rafi bin Khadij. I reached puberty and became a man, and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl bin Rafi bin Khadij came and said: O my father, we have leased our land to so and so (a woman) for two hundred Dirhams. He said: O my son, leave that (do not do it), for Allah will give you other provision. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) forbade leasing land.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3926
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٢(٣٤٠١) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٦٩) (شاذ) (اس کے راوی ” عیسیٰ بن سہل “ لین الحدیث ہیں اور اس میں شاذ بات یہ ہے کہ اس میں مطلق کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے، جب کہ خود رافع رضی الله عنہ کی اس روایت کے کئی طرق میں سونا چاندی پر کرایہ پر دینے کی اجازت مذکور ہے )
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج (رض) کی مغفرت فرمائے۔ اللہ کی قسم ! میں یہ حدیث ان سے زیادہ جانتا ہوں، دو آدمی جھگڑ پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو ، تو رافع نے آپ کا صرف یہ قول سن لیا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۔
It was narrated that ‘Urwah bin Az-Zubair said: “Zaid bin Thabit said: ‘May Allah forgive Rafi’ bin Khadij. By Allah, I have more knowledge of the Hadith than him. We were two men who fought and the Messenger of Allah ﷺ said: If this is how it is between you, then do not lease land. And he only heard the words: Do not lease land.” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: (this is an example of) A sharecropping contract based on the condition that the seeds and expenses be provided by the owner of the land, and the share cropper will have one-quarter of whatever Allah brings forth from the land: This contract was written by so and so the son of so and so the son of so and so, while he is still in good health, and in full control of his wealth. (It is addressed to) so and so the son of so and so; stating that you will give me all of your land that is situated in such and such location, in such and such city, to cultivate it on the basis of sharecropping. This is the (piece of) land that is known as such and such, defined by four boundaries that enclose the entire area (he defines the four boundaries). You have given to me all of the land defined in this contract, within the boundaries specified, and everything in it, water, rivers and streams, uncultivated, empty land with no crops planted therein, for a complete year, starting at the beginning of such and such month of such and such year, and ending at the end of such and such month of such and such year, on the basis that I will cultivate all of the land specified in this contract, the location of which is described herein, in the year described herein, from beginning to end. I may cultivate anything I want and see fit of wheat, barley, sesame, rice, cotton, fresh dates, herbs, chickpeas, beans, lentils, cucumbers, melons, carrots, radishes, onions, garlic, and any other kind of winter or summer produce, using your seeds which are all to be provided by you and not by me, on the basis that I will do the work myself, or with whomever I want of my helpers, and hired workers, my oxen, and my tools, and equipment. I will cultivate it and take care of it so that it will grow well and yield the best produce, plowing the land and clearing it of brush, supplying water and manure to those crops that need them, digging irrigation ditches, picking whatever needs to be picked, harvesting whatever needs to be harvested, gathering it, threshing and winnowing what needs to be threshed and winnowed. All of that will be done at your expense and not mine, and it will be done by me and my helpers, and not by you. From all that Allah brings forth from all of that, during the period specified in this contract, from beginning to end, you will have three quarters in return for you land, your water, your seeds and your spending, and I will have the remaining quarter of all that in return for my cultivation and labor, done by myself and my helpers. You have given me all the land of yours defined in this contract, with all its rights and facilities, and I have accepted all of that from you on such and such a day in such and such a month, of such-and-such a year. All of that has come under my control, but I do not own any of it, and I have no claim to any of it except this sharecropping as described in this contract, during the year described therein. Once that time ends, then it all reverts to you and to your control, and you have the right to expel me from it when that year is over, and to take it out of my control, and out of the control of anyone who had anything to do with it because of me. Signed by so and so and so and so. Two copies were made of this contract.
ضعيف
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3927
ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : بٹائی کے معاملات کو (اس طرح) لکھنا چاہیئے کہ بیج اور اس کا خرچ زمین کے مالک پر ہوگا اور کھیتی کرنے والے کے لیے کھیتی میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پیداوار کا چوتھائی حصہ ہوگا ١ ؎۔ یہ تحریر ہے جسے فلاں بن فلاں نے فلاں بن فلاں کے لیے لکھی ہے، صحت و تندرستی کی حالت میں لکھا اور اس حال میں جب اس کے احکام نافذ ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی ساری زمین جو فلاں مقام پر فلاں علاقے میں ہے مجھے بٹائی پر دی، اور یہ وہ زمین ہے جس کی پہچان یہ ہے : اس کی چوحدی یہ ہے کہ ان میں سے ایک فلاں مقام سے لگی ہوئی ہے، اسی طرح پھر دوسری، تیسری اور چوتھی حد بیان کرے۔ اس کتاب میں مذکور تمام حدود والی اپنی پوری زمین آپ نے مجھے دے دی۔ اور اس کے سارے حقوق، اس کا پانی، اس کی نہریں، اور نالیاں دے دیں، ایک ایسی زمین جو ہر چیز سے خالی ہے، نہ اس میں کھیتی ہے، نہ کوئی پودا، پورے ایک سال کے لیے جو فلاں سال، فلاں مہینے کی ابتداء سے شروع ہوگا، اور اس معاہدے کا اختتام فلاں سن کے فلاں مہینے کے خاتمے تک ہوگا۔ اس شرط پر کہ یہ پوری زمین جس کی حدیں اس معاہدہ میں بیان کی گئی ہیں اور جو فلاں مقام میں ہے اسے میں نے معینہ سال کے لیے شروع سے آخر تک کھیتی کے لیے لی، اور اس میں جب چاہوں اور جو چاہوں میں کھیتی کروں۔ گیہوں، جو، تل، چاول، روئی، کھجوریں، ساگ، چنا، لوبیا، مسور، کھیرا ککڑی، خربوزہ، گاجر، شلجم، مولی، پیاز، لہسن، یا ساگ یا بیل پھول وغیرہ، یعنی گرمی و سردی کے سارے غلے، اس طرح کہ بیج آپ کا ہوگا اور اس کی ساری محنت میری ہوگی، میرے ہاتھ کی یا اس کی جسے میں چاہوں اپنے دوستوں، مزدوروں اور بیل و ہل وغیرہ میں سے، میں اس میں کھیتی کروں گا، اسے آباد کروں گا اور ایسا کام کروں گا کہ اس سے نشو و نما ہو، وہ درست رہے، زمین میں ہل جوتوں گا، اس کی گھاس صاف کروں گا۔ اگی ہوئی کھیتی میں جسے پانی کی ضرورت ہوگی اس کی سینچائی کروں گا، اور جہاں کھاد کی ضرورت ہوگی کھاد ڈالوں گا، اس کی نالیاں اور نہریں کھودوں گا اور جو پھل توڑنا ضروری ہوگا اسے توڑوں گا۔ اور جس کھیتی کا کاٹنا ضروری ہوگا کاٹوں گا اور اکٹھا کروں گا اور جس فصل کی کٹائی ضروری ہوگی اسے کٹواؤں گا اور اس پر جو کچھ خرچ ہوگا وہ آپ کے ذمے ہوگا، نہ کہ میرے، اور یہ سب کام میں اپنے ہاتھ سے کروں گا یا اپنے مدد گاروں کے ذریعے نہ کہ آپ کی مدد سے، اس شرط پر کہ اس عہد نامے میں اس کے شروع سے لے کر آخر تک جو مدت ذکر کی گئی ہے اس پوری مدت میں جو اللہ تعالیٰ اس کھیت میں سے اگائے گا آپ کے لیے تین چوتھائی حصہ ہوگا، اس لیے کہ زمین آپ کی تھی، بیج آپ کا تھا اور خرچہ بھی آپ نے کیا تھا، اور میرے لیے اس پورے میں سے باقی چوتھائی حصہ ہوگا اس لیے کہ میں نے کھیتی کی، کام کیا اور اپنے ہاتھ سے اور اپنے کے مدد گاروں کے ہاتھ سے اسے سر کیا، اور آپ نے وہ پوری زمین جس کی حدود اس عہد نامے میں بیان کی گئی ہیں میرے حوالے کی، اس کے تمام حقوق اور لوازمات کے ساتھ اور میں نے یہ زمین آپ سے اپنے قبضے میں لی، فلاں سال کے فلاں ماہ کے فلاں دن سے۔ تو یہ پوری کی پوری میرے ہاتھ میں ہے جو آپ کی ہے، میری اس میں نہ کوئی ملکیت ہے اور نہ ہی کوئی دعویٰ اور نہ ہی کوئی مطالبہ، سوائے اس فصل اور پیداوار کے جو اس معینہ سال میں اس عہد نامے میں ذکر کی گئی ہے، اور جب مدت پوری ہوگی تو یہ پوری زمین آپ کو لوٹا دی جائے گی، وہ آپ کے ہاتھ میں ہوگی اور مدت گزرنے کے بعد آپ کو اختیار ہوگا کہ آپ مجھے اس میں سے نکال دیں اور اسے میرے ہاتھ سے نکال لیں اور ہر اس شخص کے ہاتھ سے جس کا میری وجہ سے اس میں کوئی دخل تھا۔ فلاں اور فلاں نے یہ طے کیا، اور عہد نامہ کی دو کاپیاں لکھی گئیں۔
Notes · وضاحت
بیج اور دیگر سارے اخراجات زمین کے مالک کی طرف سے اٹھانے کی صورت میں پیداوار کا تین حصہ مالک کا ہوگا اور ایک حصہ کاشت کار کا، اور اگر بیج اور دیگر سارے اخراجات کاشتکار برداشت کرے تو مالک کو پیداوار کا آدھا ملے گا، جیسا کہ خیبر کے معاملے میں اللہ کے رسول صلی للہ علیہ وسلم نے کیا تھا (دیکھئے حدیث نمبر ٣٩٦١١) ایسا بالکل نہیں ہے کہ بہر حال بیج و اخراجات صرف مالک پر ہوں تب ہی بٹائی کا معاملہ جائز ہے۔ جیسا کہ بعض فقہاء کا کہنا ہے۔ مذکورہ حدیث سے ان کے قول کی تردید ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٠) ، سنن ابن ماجہ/ الرہون ١٠(٢٤٦١) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٣٠) ، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدة “ لین الحدیث ہیں اور ” الولید بن ابی الولید “ ضعیف ہیں )
ابن عون کہتے ہیں کہ محمد (محمد بن سیرین) کہا کرتے تھے : میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کردیں اس شرط پر کہ وہ (کاشتکار) خود اپنے آپ، اس کے لڑکے، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ١ ؎۔
Ibn Awn said: "Muhammad used to say: In my view land is like the wealth put into a Mudarabah (limited partnership) contract. Whatever is valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, is valid with regard to land, and whatever is not valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, then it is not valid with regard to land." He said: "He did not see anything wrong with giving all of his land to the plowman on the basis that he would work with it himself, or with his children, and helpers, and oxen, and, that he would not spend anything on it; all expenses were to be paid by the owner of the land.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3928
Notes · وضاحت
١ ؎: بٹائی کی یہ ایک جائز صورت ہے، واجب نہیں بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ زمین کا مالک کچھ بھی خرچ نہ کرے، تمام اخراجات کاشتکار کرے اور آدھی پیداوار کا حقدار ہو جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہوگا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar, on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) would have half of whatever they produced.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3929
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہوگا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) would have half of their fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3930
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہوگی جو نالیوں اور نہروں کی کیا ریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔
It was narrated from Nafi that Abdullah bin Umar used to say: "Arable land used to be leased out at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) on condition that the owner of the land would have whatever grew on the banks of the streams and a share of straw, I do not know how much it was.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3931
عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میرے دو چچا تہائی اور چوتھائی پر کھیتی کرتے تھے اور میرے والد ان کے شریک ہوتے تھے۔ علقمہ اور اسود کو یہ بات معلوم تھی مگر وہ کچھ نہ کہتے تھے۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Al-Aswad said: "Two of my paternal uncles used to cultivate (land) in return for one-third or one-quarter of the crop, and my father was their partner. Alqamah and Al-Aswad knew about that and did not change anything.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3932
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٩٥٣) (ضعیف الإسناد) (قاضی شریک ضعیف الحفظ اور ابواسحاق مختلط راوی ہیں )
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ شریح مضارب ١ ؎ کے سلسلے میں صرف دو طرح کے فیصلے دیتے تھے، کبھی مضارب سے کہتے کہ تم اس مصیبت پر گواہ لے کر آؤ جس کی وجہ سے تم معذور قرار دیئے جاؤ، اور کبھی صاحب مال سے کہتے : تم اس بات کا گواہ لے کر آؤ کہ تمہارے امین (مضارب) نے خیانت کی ہے۔ ورنہ اس سے اللہ کی قسم لی جائے گی کہ اس نے خیانت نہیں کی ہے۔
It was narrated that Muhammad said:
"I do not know that Shuraih ever ruled on Mudarabah disputes except in two ways. He would say to the Mudarib (the one who contributed his labor to the partnership): You must provide proof that a calamity befell you so that you may be excused. Or he would say to the one who invested his money in the partnership: You must provide proof that your trustee betrayed his trust, otherwise his oath sworn by Allah that he did not betray you is sufficient."
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3935
Notes · وضاحت
١ ؎: مضارب (راء کے زیر کے ساتھ) اسے کہتے ہیں جو کسی دوسرے کے مال سے تجارت کرے یعنی محنت اس شخص کی ہو اور پیسہ کسی اور کا۔
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خالی زمین کو سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "There is nothing wrong with renting uncultivated land for gold and silver.
ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3936
( مؤلف) کہتے ہیں : جب کوئی آدمی کسی آدمی کو کچھ مال مضاربت کے طور پردے پھر اس کا معاہدہ لکھنا چاہے تو اس طرح لکھے : یہ وہ تحریر ہے جسے فلاں بن فلاں نے اپنی خوشی سے، تندرستی کی حالت میں اور اس حال میں جب معاملات جاری ہوتے ہیں، فلاں بن فلاں کے لیے لکھا ہے : آپ نے مجھے فلاں سال کے فلاں مہینے کے شروع میں دس ہزار کھرے اور چوکھے درہم بہ طور مضاربت دیے جن کا وزن سات (مثقال) ہے۔ اس شرط پر کہ میں ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہوں گا اور اس امانت کو ادا کروں گا، اور اس شرط پر کہ ان سے میں وہ سب کچھ خریدوں گا جو میں چاہوں گا اور وہاں خرچ کروں گا جہاں میں خرچ کرنا مناسب سمجھوں گا، یعنی مختلف تجارتوں میں لگاؤں گا، جہاں اور جتنا مناسب سمجھوں گا اس میں سے لے کر جاؤں گا اور جو کچھ خریدوں گا اس میں سے نقد یا ادھار جب مناسب سمجھوں گا بیچوں گا، مال کی قیمت عینی چیز لوں گا یا پھر اس قیمت کا دوسرا مال، ان سب باتوں میں شرط یہ ہے کہ میں اپنی صواب دید سے کام کروں گا، اور ان تمام امور میں میں جسے مناسب سمجھوں گا اپنا وکیل بناؤں گا، اور اس اصل پونجی سے جو آپ نے مجھے دی ہے اور جس کی معینہ مقدار اس عہد نامے میں مذکور ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جو منافع اور جو بڑھوتری عطا کرے گا وہ میرے اور آپ کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا، اس کا آدھا آپ کے لیے آپ کے رأس المال (اصل پونجی) کی وجہ سے اور میرے لیے اس کا آدھا میری محنت اور میرے کام کی وجہ سے ہوگا، اور جو نقصان ہوگا تو وہ رأس المال (اصل پونچی) میں سے ہوگا۔ تو میں نے یہ دس ہزار کھرے چوکھے درہم فلاں سال کے فلاں مہینہ کے شروع میں آپ سے اپنے قبضے میں لیے اور یہ میرے ہاتھ میں آپ کے لیے شرکت و مضاربت کے طور پر ہیں، ان شرطوں کے ساتھ جو اس معاہدہ میں لکھی گئی ہیں اور فلاں اور فلاں نے انہیں منظور کیا ہے۔ اور جب صاحب مال چاہے کہ وہ ادھار خریدو فروخت نہ کرے تو اس طرح لکھے گا : اور آپ نے مجھے ادھار خریدو فروخت کرنے سے منع کیا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح دیگر شرائط بھی اگر صاحب مال چاہے تو طے کرسکتا ہے، مثلاً : اس مال سے صرف فلاں سامان کی تجارت کی جاسکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہاں جو طے ہو لکھا ضرور جائے، یہی بات اگلے معاملہ میں بھی ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں عمار اور سعد (رض) بدر کی لڑائی کے روز شریک (کار) ہوئے تو سعد دو قیدی لے کر آئے، نہ میں کچھ لایا اور نہ ہی عمار کچھ لے کر آئے۔
It was narrated that Abdullah said: "I formed a partnership with Ammar and Sad on the day of Badr. Sad brought two prisoners but Ammar and I did not bring anything.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3937
Notes · وضاحت
١ ؎: شرکت ابدان یہ ہے کہ دو آدمی کسی کام کے انجام دینے میں اس طرح شریکوں کہ ان دونوں کی محنت سے اس کام میں جو بھی فائدہ حاصل ہوگا اس میں وہ دونوں برابر برابر کے حصہ دار ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٠ (٣٣٨٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٣ (٢٢٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٦١٦) ، ویأتی عند المؤلف فی البیوع ١٠٣ (برقم : ٤٧٠١) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو اسحاق سبیعی “ مختلط ہوگئے تھے، اور ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود رضی الله عنہ “ سے سماع نہیں ہے )
زہری کہتے ہیں کہ مفاوضہ کے طور پر دو غلام شریکوں پھر ایک مکاتبت کرلے تو یہ جائز ہے اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں شریک میں یہ بات طے ہو کہ ہر ایک دوسرے کی طرف سے ادا کرے گا۔
It was narrated from Az-Zuhri concerning two slaves who were partners, and one of them quit, that he said: "One of them may cover for the other if they were partners.
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3938
یہ تحریر (معاہدہ) ہے، اسے فلاں، فلاں، فلاں اور فلاں نے آپس میں لکھا ہے، ان میں سے ہر ایک نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے لیے جن کے نام اس تحریر میں درج ہیں، اس کے پورے مندرجات کے متعلق اقرار کیا ہے، صحت اور معاملات کے نافذ ہونے کی حالت میں، ہم چاروں میں معاملات، تجارتیں، خریدو فروخت، ہر طرح کے اموال اور ہر طرح کے معاملات میں شرکت اور حصہ داری تھی، اسی طرح ہمارے درمیان قرض، صرف، امانت، ڈرافٹ، مضاربت، عاریۃ اور قرض کے لین دین، کرایہ داری، کاشتکاری اور بٹائی کے معاملات جاری تھے۔ اب ہم سب نے اپنی رضا مندی سے اس کو ختم کردیا۔ جو شرکت اور حصہ داری، اموال اور معاملات میں اب تک ہمارے درمیان جاری تھی اس کو ہم سب نے فسخ کیا خواہ وہ کسی بھی قسم یا کسی بھی نوعیت کے ہوں۔ ہم نے اس کی حد اور مقدار کو الگ الگ بیان کردیا اور جو سچ اور صحیح تھا اس کو دریافت کرلیا اور ہر ایک نے اپنا پورا پورا حق پایا یا اپنے قبضے میں کرلیا، اب ہم میں سے کسی کو کسی ساتھی پر جن کے نام اس تحریر (معاہدہ) میں ہیں یا اس کی وجہ سے یا اس کے نام سے دوسرے پر کوئی دعویٰ اور مطالبہ نہیں رہا۔ کیونکہ ہر ایک نے اس کا جو حق تھا اسے پورا پورا پا لیا اور اپنے قبضہ میں لے لیا، اس کا اقرار فلاں، فلاں، فلاں اور فلاں نے کیا۔
This is a contract drawn up by so and so, so and so, so and so and so and so, and signed by each one of them, and each of his companions mentioned alongside him in this contract, who are in good health, and in full control of their wealth. There has taken place among us, dealing and trading, buying and selling, sharing of wealth and different types of dealing, loans, trusts, partnerships, debts, leases and sharecropping. We are dissolving the partnership by mutual consent and are content with all that we did. All that was between us of partnership and dealing has to do with money and wealth and we have settled all of that in all types of dealings. We have explained all of that in every category. Each one of us has taken all his dues, and it is now in his possession. None of those named in this contract owes anything to any of the others, nor to anyone else connected to the others, because each one of us has taken all his dues, and it has come into his possession. Signed by So-and-so, So-and-so, so and so and so and so.
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا يحل لکم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود اللہ فإن خفتم ألا يقيما حدود اللہ فلا جناح عليهما فيما افتدت به تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں سے اپنا دیا ہوا واپس لو، الا یہ کہ دونوں ڈریں کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت (حدود) کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر جب ایسا ڈر ہو تو عورت پر گناہ نہیں کہ کچھ دے کر اپنے کو چھڑا لے (البقرة : ٢٢٩) یہ وہ تحریر (معاہدہ) ہے جس کو فلاں بن فلاں کی فلاں بیٹی فلانہ نے اپنی صحت کی حالت میں اور تصرف نافذ ہونے کی صورت میں فلاں بن فلاں کے فلاں بیٹے کے لیے لکھا ہے، میں آپ کی بیوی تھی، آپ مجھ سے ملے اور صحبت کی اور دخول کیا، پھر مجھے آپ کی صحبت بری معلوم ہوئی اور میں نے آپ سے جدا ہونا اچھا جانا، آپ نے مجھے کسی طرح کا نہ تو نقصان پہنچایا اور نہ ہی میرے واجب الادا حقوق سے مجھے روکا، اور میں نے آپ سے اس وقت درخواست کی جب مجھے اندیشہ ہوا کہ ہم اللہ کے حدود کو ٹھیک سے قائم نہ رکھ سکیں گے کہ مجھ سے خلع کرلیں اور مجھے ایک طلاق بائن دے دیں، اس پورے مہر کے بدلے جو میرا آپ کے ذمے ہے اور وہ اتنے اتنے کھرے دینار جو اتنے مثقال کے ہیں، اور مہر کے علاوہ اتنے مثقال کے اتنے کھرے دینار کے بدلے۔ پھر آپ نے میرا مطالبہ پورا کردیا اور ایک طلاق بائن دے دی اس پورے مہر کے بدلے جو میرا آپ پر باقی تھا اور جس کی مقدار اس تحریر میں لکھی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ ان دیناروں کے بدلے جن کی تعداد اس میں درج ہے، پھر میں نے آپ کے سامنے اسے اس وقت قبول کیا جب آپ میری طرف مخاطب تھے اور میں آپ کی بات کا جواب دیتی تھی اس سے پہلے کہ ہم اپنی اس بات چیت سے فارغ ہوں، اور میں نے آپ کو وہ سب دینار دے دیے جن کی تعداد اس تحریر میں درج ہے اور جن کے بدلے آپ نے خلع کیا، مہر کے علاوہ۔ اب میں آپ سے جدا اور اپنی مرضی کی مالک ہوگئی، اس خلع کی وجہ سے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اب آپ کا مجھ پر کچھ اختیار نہیں رہا، نہ ہی کسی طرح کا مطالبہ اور رجوع کا حق۔ اور میں نے آپ سے اپنے وہ سارے حقوق لے لیے جو مجھ جیسی عورت کے آپ جیسے شوہر پر ہوتے ہیں جب تک کہ میں آپ کی زوجیت میں رہی، اور مجھے وہ سارے حقوق مل گئے جو مجھ جیسی طلاق والی کسی عورت کے ہوتے ہیں اور آپ جیسے شوہر کو ان کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ اب ہم میں سے کوئی دوسرے پر کسی طرح کا حق یا دعویٰ یا مطالبہ جو کسی طور کا ہو پیش کرے تو اس کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور جس پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ پورے طور پر بری ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کا اقرار اور اس کا ابراء (بری کرنا) قبول کیا۔ جس کا ذکر اس کتاب میں آمنے سامنے سوال کے وقت ہوا اس سے پہلے کہ ہم اس گفتگو سے فارغ ہوں یا اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہوں جہاں یہ اقرار نامہ میاں بیوی کی طرف سے ہم دونوں کے بیچ میں لکھا جا رہا ہے۔
Allah, Blessed and Most High, says: And it is not lawful for you (men) to take back (from your wives) any of your (bridal-money) which you have given them, except when both parties fear that they would be unable to keep the limits ordained by Allah. Then if you fear that they would not be able to keep the limits ordained by Allah, then there is no sin on either of them for what they give back [Al-Baqarah:229] This writ was written by so and so, the daughter of so and so, who is in good health and in full control of her wealth, to so and so the son of so and so the son of so and so. I was a wife to you, and you came in to me, and consummated the marriage with me. Then I did not like your company, and I wanted to leave you, without your having done any harm to me, nor having withheld any of my rights. I asked you, when we feared that we would not be able to keep the limits ordained by Allah, to free me (Khul) and to divorce me irrevocably in return for all my Sadaq (Mahr) that is due from you to me, which is such-and-such a number of Dirhams, non-counterfeit, and such-and-such a number of Dinars, non-counterfeit, that I gave you in addition to that, apart from my Sadaq. You did what I asked of you, and you gave me an irrevocable divorce in return for what was left of my Sadaq, as stated in this writ, and in return for the additional Dinars stated. I accepted that from you verbally when we were talking about it, and in response to what you said before we finished our discussion, and departed. I gave you all the Dinars mentioned in this contract in return for which you granted me Khul, except for my Sadaq. Thus I became irrevocably divorced from you, and now I am in control of my own affairs, based on this Khul which is described in this contract. Thus you have no control over me, you cannot make demands of me, and you cannot take me back. I have taken from you all that is due to a woman like me at the time of Iddah, and I took all that I need in full, which a woman like me would take from a husband like you. Neither of us has any further rights, nor claims over the other. If any one of use makes any claim on the other, this claim is totally and utterly false, and the one against whom the claim is made is innocent, and has nothing to do with this claim. Each one of us accepts everything that the other party offers, and all that the other party relieves him of, as described in the contract, verbally when we were talking about it, and before we spoke of anything, or parted from our meeting that took place. Signed by so and so (the wife) and so and so (the husband).
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذين يبتغون الکتاب مما ملکت أيمانکم فکاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا تمہارے غلاموں میں سے جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں دے دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو (النور : ٣٣) ١ ؎۔ یہ وہ تحریر (معاہدہ) ہے جس کو فلاں بن فلاں نے لکھا ہے اپنی صحت کی حالت اور تصرف نافذ ہونے کی صورت میں اپنے اس غلام کے لیے جو نوبہ (ایک ملک کا نام ہے) کا رہنے والا ہے اور اس کا نام فلاں ہے اور وہ آج تک اس کی ملکیت اور تصرف میں ہے : میں نے تم سے تین ہزار عمدہ اور کھرے درہم پر جو وزن میں سات مثقال کے برابر ہیں مکاتبت کی جو مسلسل چھ سال میں قسط وار ادا کئے جائیں گے، پہلی قسط فلاں سال کے فلاں مہینے میں چاند دیکھتے ہی ادا کی جائے گی، اگر تم نے اس تحریر میں بتائی گئی متعینہ روپے کی مقدار برابر قسطوں میں ادا کردی تو تم آزاد ہو اور تمہارے وہ سارے حقوق ملیں گے جو آزاد لوگوں کے ہیں اور تم پر وہ سب باتیں لازم ہوں گی جو ان پر لازم ہیں۔ اگر تم نے اس تحریر کی ذرہ برابر خلاف ورزی کی تو یہ تحریر کالعدم ہوگی اور تم پھر غلامی کی زندگی گزارو گے، مکاتبت سے متعلق کوئی تحریر دوبارہ نہیں لکھی جائے گی۔ میں نے تمہاری کتابت قبول کی ان شرائط کے مطابق جن کا ذکر اس کتاب میں ہوا اس سے پہلے کہ ہم اپنی گفتگو سے فارغ ہوں یا اپنی اس مجلس سے جدا ہوں جس میں یہ تحریر لکھی گئی، اقرار ہوا فلاں اور فلاں کی طرف سے۔
This is a contract written by so and so the son of so and so, who is in good health and in full control of his wealth, to his Nubian slave who is called so and so, who at this time is in his possession and owned by him. I have agreed to manumit you in return for three thousand Dirhams, non-counterfeit and weighing seven, to be paid in installments by you over six consecutive years, starting at the beginning of such and such month in such and such year. You will pay me the amount of money stated in this contract in installments, then you will be free in return for that, with the same rights and duties as all free men. If you default on any of these installments, this contract will be null and void, and you will remain a slave with no contract of manumission. I have accepted your contract of manumission based on the conditions stipulated in this contract before we finished talking, and departed from our meeting, which took place between us. Signed by So-and-so and So-and-So.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب : اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے یہ معاہدہ کرلیتا ہے کہ میں اتنی رقم جمع کر کے ادا کر دوں گا تو آزادی کا مستحق ہوجاؤں گا۔
یہ تحریر (معاہدہ) ہے جس کو فلاں بن فلاں بن فلاں نے لکھا ہے اپنے اس غلام کے لیے جو (صیقل گر) نان بائی اور باورچی ہے، جس کا نام فلاں ہے اور وہ آج تک میری ملکیت اور تصرف میں ہے کہ میں نے تجھ کو مدبر (یعنی اپنی موت کے بعد آزاد) کیا اللہ کی رضا مندی اور اس کے ثواب کی امید سے، تو تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو، میرے مرنے کے بعد کسی کا تم پر کوئی اختیار نہیں سوائے ولاء (وارث) کے، اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے اور میرے مرنے کے بعد میرے وارثین کے لیے ہے۔ فلاں بن فلاں نے اقرار کیا کہ جو کچھ اس تحریر میں لکھا ہے وہ اپنی خوشی سے صحت اور تصرف کے نافذ ہونے کی حالت میں لکھا گیا ہے۔ جب یہ تحریر اس عہد نامہ میں مذکور گواہ لوگوں کے سامنے پڑھی گئی تو اس نے اس کا اقرار کیا کہ میں نے اس کو سنا اور سمجھا اور جانا اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے پھر وہ لوگ گواہ ہیں جو حاضر ہیں۔ فلاں صیقل گر باورچی نے اپنی درستی عقل اور جسمانی صحت کی حالت میں اس کا اقرار کیا کہ جو کچھ اس میں ذکر کیا گیا وہ سب ٹھیک اور درست ہے۔
This is a contract written by so and so the son of so and so the son of so and so, to his Sicilian slave, the baker and cook, who is called so and so, and who at this time is in his possession and owned by him. I have arranged for your manumission following my death, seeking thereby the Face of Allah, the Mighty and Sublime, and hoping for His reward. You will be free after I die, and no one will have any control over you after I die, except by way of Al-Wala (loyalty of a freed slave to his former masters), which will be to me and my descendents after me. So-and-so the son of So-and-so affirms all that is mentioned in this contract, without compulsion, while in good health, and in full control of his wealth, after all of that was read to him in the presence of the witnesses named therein. He affirmed in their presence that he had heard it, and understood it, and called upon Allah to bear witness to it, and Allah is sufficient as a witness, then the witnesses who were present. So-and-so the Sicilian cook, who is sound in mind and body, affirmed that everything that is stated in this contract is true and correct according to the way it is written.
Notes · وضاحت
١ ؎: تدبیر یہ ہے کہ مالک اپنے غلام سے کہے کہ تم میری موت کے بعد آزاد ہو، ایسے غلام کو مدبّر کہتے ہیں۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کفار و مشرکین سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور وہ ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے لگیں، ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں اور ہمارے ذبیحے کھانے لگیں تو اب ان کے خون اور ان کے مال ہمارے اوپر حرام ہوگئے الا یہ کہ (جان و مال کے) کسی حق کے بدلے میں ہو (تو اور بات ہے) ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is His slave and Messenger. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is His slave and Messenger, and they pray as we pray and face our Qiblah, and eat our slaughtered animals, then their blood and wealth becomes forbidden to us except for a right that is due.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3966
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وہ کسی کا مال لے لیں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا یا کسی کا خون کردیں تو اس کے بدلے ان کا خون کیا جائے گا یا شادی شدہ زانی ہو تو اس کو رجم (پتھر مار کر ہلاک) کیا جائے گا۔ اس حدیث اور اس مضمون کی آنے والی تمام احادیث (نمبر ٣٩٨٨ ) کے متعلق یہ واضح رہے کہ ان میں مذکورہ حکم نبوی خاص اس وقت کے جزیرۃ العرب اور اس وقت کے ماحول سے متعلق ہے۔ یہ حکم اتنا عام نہیں ہے کہ ہر مسلمان ہر عہد اور ہر ملک میں اس پر عمل کرنے لگے۔ یا موجودہ دور میں پائی جانے والی کوئی مسلمان نام کی حکومت اس پر عمل کرنے لگے۔ ان احادیث کا صحیح (پس منظر) نہ معلوم ہونے کے سبب ہی اس حکم نبوی کے خلاف واویلا مچایا جاتا ہے، فافھم وتدبر۔ مؤلف نے اس کتاب و باب میں اس حدیث کو اس مقصد سے ذکر کیا کہ اگر کوئی شہادتوں کے ساتھ ساتھ مذکورہ شعائر اسلام کو بجا لاتا ہو تو اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، مگر مذکورہ تین صورتوں میں ایسے آدمی کا خون بھی مباح ہے۔