Sunan An Nasai 3970

شرطوں سے متعلق احادیث

3970Sunan An Nasai

غلام یا باندی کو مدبر بنانا

هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ لِفَتَاهُ الصَّقَلِّيِّ الْخَبَّازِ الطَّبَّاخِ الَّذِي يُسَمَّى فُلاَنًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مِلْكِهِ وَيَدِهِ إِنِّي دَبَّرْتُكَ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَاءِ ثَوَابِهِ فَأَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي لاَ سَبِيلَ لأَحَدٍ عَلَيْكَ بَعْدَ وَفَاتِي إِلاَّ سَبِيلَ الْوَلاَءِ فَإِنَّهُ لِي وَلِعَقِبِي مِنْ بَعْدِي أَقَرَّ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ بِجَمِيعِ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ طَوْعًا فِي صِحَّةٍ مِنْهُ وَجَوَازِ أَمْرٍ مِنْهُ بَعْدَ أَنْ قُرِئَ ذَلِكَ كُلُّهُ عَلَيْهِ بِمَحْضَرٍ مِنَ الشُّهُودِ الْمُسَمِّينَ فِيهِ فَأَقَرَّ عِنْدَهُمْ أَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ وَفَهِمَهُ وَعَرَفَهُ وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيْهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا ثُمَّ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الشُّهُودِ عَلَيْهِ أَقَرَّ فُلاَنٌ الصَّقَلِّيُّ الطَّبَّاخُ فِي صِحَّةٍ مِنْ عَقْلِهِ وَبَدَنِهِ أَنَّ جَمِيعَ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ حَقٌّ عَلَى مَا سُمِّيَ وَوُصِفَ فِيهِ.

یہ تحریر (معاہدہ) ہے جس کو فلاں بن فلاں بن فلاں نے لکھا ہے اپنے اس غلام کے لیے جو (صیقل گر) نان بائی اور باورچی ہے، جس کا نام فلاں ہے اور وہ آج تک میری ملکیت اور تصرف میں ہے کہ میں نے تجھ کو مدبر (یعنی اپنی موت کے بعد آزاد) کیا اللہ کی رضا مندی اور اس کے ثواب کی امید سے، تو تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو، میرے مرنے کے بعد کسی کا تم پر کوئی اختیار نہیں سوائے ولاء (وارث) کے، اس لیے کہ وہ میرے لیے ہے اور میرے مرنے کے بعد میرے وارثین کے لیے ہے۔ فلاں بن فلاں نے اقرار کیا کہ جو کچھ اس تحریر میں لکھا ہے وہ اپنی خوشی سے صحت اور تصرف کے نافذ ہونے کی حالت میں لکھا گیا ہے۔ جب یہ تحریر اس عہد نامہ میں مذکور گواہ لوگوں کے سامنے پڑھی گئی تو اس نے اس کا اقرار کیا کہ میں نے اس کو سنا اور سمجھا اور جانا اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے پھر وہ لوگ گواہ ہیں جو حاضر ہیں۔ فلاں صیقل گر باورچی نے اپنی درستی عقل اور جسمانی صحت کی حالت میں اس کا اقرار کیا کہ جو کچھ اس میں ذکر کیا گیا وہ سب ٹھیک اور درست ہے۔

This is a contract written by so and so the son of so and so the son of so and so, to his Sicilian slave, the baker and cook, who is called so and so, and who at this time is in his possession and owned by him. I have arranged for your manumission following my death, seeking thereby the Face of Allah, the Mighty and Sublime, and hoping for His reward. You will be free after I die, and no one will have any control over you after I die, except by way of Al-Wala (loyalty of a freed slave to his former masters), which will be to me and my descendents after me. So-and-so the son of So-and-so affirms all that is mentioned in this contract, without compulsion, while in good health, and in full control of his wealth, after all of that was read to him in the presence of the witnesses named therein. He affirmed in their presence that he had heard it, and understood it, and called upon Allah to bear witness to it, and Allah is sufficient as a witness, then the witnesses who were present. So-and-so the Sicilian cook, who is sound in mind and body, affirmed that everything that is stated in this contract is true and correct according to the way it is written.

Notes · وضاحت
١ ؎: تدبیر یہ ہے کہ مالک اپنے غلام سے کہے کہ تم میری موت کے بعد آزاد ہو، ایسے غلام کو مدبّر کہتے ہیں۔