Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 185 of 289

3676Sunan An Nasai

اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر جب آیت: وأنذر عشيرتک الأقربين آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے قریش کی جماعت! تم! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی نجات نہیں دلا سکتا، اے صفیہ! (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہو مانگ لو، لیکن (یہ جان لو کہ) میں اللہ کے پاس تمہارے کچھ بھی کام نہ آؤں گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said, when the Verse: And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred. was revealed: O Quraish! Buy your souls from your Lord; I cannot avail you anything before Allah. O Banu Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Abbas bin Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Safiyyah, paternal aunt of the Messenger of Allah! I cannot avail you anything before Allah. O Fatimah bint Muhammad! Ask me for whatever you want, I cannot avail you anything before Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3646
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٧٤ (صحیح )
3677Sunan An Nasai

اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ، سَلِينِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: وأنذر عشيرتک الأقربين اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ سے (اس کی اطاعت کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آسکوں گا، اے صفیہ! (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا ۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) stood up when the following was revealed to him: And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred, and said: O Quraish! Buy your souls from your Lord, I cannot avail you anything before Allah. O Banu Abd Manaf! I cannot avail you anything before Allah. O Abbas bin Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Safiyyah, paternal aunt of the Messenger of Allah! I cannot avail you anything before Allah. O Fatimah! Ask me for whatever you want, I cannot avail you anything before Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3647
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١١ (٢٧٥٣)، تفسیر سورة الشعر ٢ (٤٧٧١)، (تحفة الأشراف: ١٣١٥٦)، سنن الدارمی/الرقاق ٣٧ (٢٧٩٢) (صحیح )
3678Sunan An Nasai

اپنے رشتہ داروں سے وصیت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ: وأنذر عشيرتک الأقربين نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "When this verse- And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred- was revealed, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: O Fatimah, daughter of Muhammad! O Safiyyah bint Abdul-Muttalib! O Banu Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah; ask me for whatever you want of my wealth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3648
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے آخرت کے عذاب سے بچنے کی تدبیر خود تمہیں ہی کرنی ہے، میرے سہارے رہو گے تو نقصان اٹھاؤ گے کیونکہ میری قرابت داری کچھ کام نہ آئے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٠) (صحیح )
3679Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اچانک مر جائے تو کیا اس کے وارثوں کے واسطے اس کی جانب سے صدقہ کرنا مستحب ہے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَإِنَّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَتَصَدَّقَ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہ: میری ماں اچانک مرگئی، وہ اگر بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کیا ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that a man said to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم): "My mother died unexpectedly; if she had been able to speak she would have given charity. Should I give charity on her behalf?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Yes." So he gave charity on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3649
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعا و استغفار اور مالی عبادات مثلاً صدقہ و خیرات، حج و عمرہ وغیرہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس سلسلہ میں کتاب و سنت میں دلائل موجود ہیں، امام ابن القیم (رح) نے کتاب الروح میں بہت تفصیلی بحث کی ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کا کہنا ہے کہ تمام ائمہ اسلام اس امر پر متفق ہیں کہ میت کے حق میں جو بھی دعا کی جائے اور اس کی جانب سے جو بھی مالی عبادت کی جائے اس کا پورا پورا فائدہ اس کو پہنچتا ہے، کتاب وسنت میں اس کی دلیل موجود ہے اور اجماع سے بھی ثابت ہے، اس کی مخالفت کرنے والے کا شمار اہل بدعت میں سے ہوگا۔ البتہ بدنی عبادات کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٧١٦١)، موطا امام مالک/الاقضیة ٤١ (٥٣)، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح )
3680Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اچانک مر جائے تو کیا اس کے وارثوں کے واسطے اس کی جانب سے صدقہ کرنا مستحب ہے یا نہیں؟

أَنْبَأَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي ؟ الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ مدینہ میں ان کی ماں کے انتقال کا وقت آپہنچا، ان سے کہا گیا کہ وصیت کردیں، تو انہوں نے کہا: میں کس چیز میں وصیت کروں؟ جو کچھ مال ہے وہ سعد کا ہے، سعد کے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، جب سعد ؓ آگئے تو ان سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، سعد ؓ نے کہا: فلاں باغ ایسے اور ایسے ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور باغ کا نام لیا۔

It was narrated from Saeed bin Amr bin Shurahbil bin Saeed bin Sad bin Ubadah, from his father, that his grandfather said: "Sad bin Ubadah went out with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on one of his campaigns, and death came to his mother in Al-Madinah. It was said to her (as she was dying): Make a will. She said: To whom shall I make a will? The wealth belongs to Sad. Then she died before Sad came. When Sad came, he was told about that and he said: O Messenger of Allah, will it benefit her if I give in charity on her behalf? The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes. Sad said: Such and such a garden is given in charity on her behalf -regarding a garden that he named.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3650
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٣٨، ٤٤٧١)، موطا امام مالک/الأقضیة ٤١ (٥٢)، مسند احمد (٦/٧) (حسن صحیح )
3681Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہوجاتا ہے سوائے تین عمل کے (جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے) ایک صدقہ جاریہ، ١ ؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ٢ ؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3651
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً مسجد، مدرسہ، تالاب اور مسافر خانہ وغیرہ عوام کے فائدہ کے لیے بنوایا جائے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے ثواب ملتا رہے گا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی اچھی کتاب لکھ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں یا ایسے شاگرد تیار کر جائے جو کتاب وسنت کی روشنی میں علم کی اشاعت کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا ١٤ (٢٨٨٠)، مسند احمد ٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢، سنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (صحیح )
3682Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: (اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ (اور ان کے لیے موجب نجات) ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf? He said: "Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3652
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الوصایا ٨ (٢٧١٦)، مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح )
3683Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ، وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أُعْتِقَهَا عَنْهَا ؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَبُّكِ ؟قَالتْ: اللَّهُ، قَالَ: مَنْ أنَا ؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.

شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کردیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ چناچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوگیا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ، آپ نے (پھر) اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے ۔

It was narrated that Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: My mother left a will saying that a slave should be freed on her behalf. I have a Nubian slave girl; will it suffice if I free her on her behalf? He said: Bring her here. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: Who is your Lord? She said: Allah. He said: Who am I? She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم). He said: Set her free, for she is a believer.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3653
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٩ (٣٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٩)، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩)، سنن الدارمی/النذور ١٠ (٢٣٩٣) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٣١٦١، تراجع الالبانی ١٠٧ )
3684Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میری ماں مرچکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر دو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that Sad asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3654
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا؟ ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠)، سنن ابی داود/الوصایا ١٥ (٢٨٨٢ مطولا)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩ مطولا)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٤) (صحیح )
3685Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا: زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that a man said: "O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3655
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3686Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا، قَالَ: أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری ماں مرچکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے (ایک غلام) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill. Will it suffice if I free a slave on her behalf?" He said: "Free a slave on behalf of your mother.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3656
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد بن عبادہ کی ماں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٣٧، (حم (٦/٧) (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
3687Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحَمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ، عَنْ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3688Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاقْضِهِ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی تھی؟ آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3658
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3689Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3659
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦١)، الأیمان ٣٠ (٦٦٩٨)، الحیل ٣ (٦٩٥٩)، صحیح مسلم/النذور ١ (١٦٣٨)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٥ (٣٣٠٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٩ (١٥٤٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٩ (٢١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٥)، ویأتي عند المؤلف: ٣٨٤٨، ٣٨٤٩، ٣٨٥٠) (صحیح )
3690Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مرگئیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening: "From Sufyan, from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad bin Ubadah consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3660
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3691Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مرگئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔

Muhammad bin Abdullah bin Yazid said: "Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad said: My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he told me to fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3661
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح الإسناد )
3692Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3662
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3693Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کرگئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کرسکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: Sad bin Ubadah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so." He said: "Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3663
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3694Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مرگئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (پیاسوں کو) پانی پلانا ١ ؎۔

It was narrated that Sad bin Ubadah said: "I said: O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf? He said: Yes. I said: What kind of charity is best? He said: Providing drinking water.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3664
Notes · وضاحت
١ ؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤١ (١٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٤)، مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥ و ٦/٧)، ویأتي فیما یلي: ٣٦٩٥، ٣٦٩٦ (حسن )
3695Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا ١ ؎۔

It was narrated that Sad bin Ubadah said: "I said: O Messenger of Allah, what kind of charity is best? He said: Providing drinking water.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3665
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پانی آب حیات ہے زیادہ دیر تک نہ ملے تو آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )