سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مرگئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا تو یہ ہے مدینہ میں سعد ؓ کی پانی کی سبیل۔
It was narrated from Sad bin Ubadah that his mother died. He said: "O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sad in Al-Madinah.
حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3666
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں (لہٰذا تم) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to me: O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphans property.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3667
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ دونوں بڑے اہم اور ذمہ داری کے کام ہیں اگر آدمی سنبھال نہ پائے تو خود عذاب و عقاب کا مستحق بن جائے گا۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: یتیم کے مال سے کھالیا کرو (لیکن دیکھو) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I am poor and I do not have anything, and I have an orphan (under my care)." He said: "Eat from the property of your orphan without being extravagant, wasteful or keeping it as capital for yourself.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3668
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو (یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) (الأنعام: ١٥٢) اور إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں (وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں (النساء: ١٠) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے (اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق (دشوار) ہوگئی، چناچہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ويسألونک عن اليتامى قل إصلاح لهم خير سے لأعنتکم اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے (البقرہ: ٢٢٠) تک نازل فرمائی ٣ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When these Verses were revealed - And come not near to the orphans property, except to improve it, and Verily, those who unjustly eat up the property of orphans - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Then Allah revealed: And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3669
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کردیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: وإن تخالطوهم فإخوانکم اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (البقرہ: ٢٢٠) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said -concerning the Verse: "Verily, those who unjustly eat up the property of orphans" -A man would have an orphan in his care, and he would keep his food, drink and vessels separate. This caused hardship to the Muslims, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers" (in religion), so it is permissible for you to mix with them.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3670
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو ، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Avoid the seven sins that doom one to Hell." It was said: "O Messenger of Allah, what are they?" He said: "Associating others with Allah (Shirk), magic, killing a soul whom Allah has forbidden killing, except in cases dictated by Islamic law, consuming Riba, consuming the property of orphans, fleeing on the day of the march (to battlefield), and slandering chaste women who never even think of anything touching their chastity and are good believers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3671
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اسے واپس لے لو ۔ اس حدیث کے الفاظ محمد (راوی) کے ہیں۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that his father gave him a slave as a present, then he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to ask him to bear witness (to that). He said: "Have you given a present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take it back." This wording is that of (one of the narrators) Muhammad.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3672
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: میرے پاس ایک غلام تھا جسے میں نے اپنے (اس) بیٹے کو دے دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو غلام دیے ہیں؟ ، کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اسے واپس لے لو ۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that his father brought him to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: "I have given my son a slave of mine as a present." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Have you given a present to all of your children?" He said: "No." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Then take (your present) back.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3673
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد بشیر بن سعد اپنے بیٹے نعمان کو لے کر آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک غلام اپنے اس بیٹے کو دے دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دیا ہے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو تم اسے واپس لے لو ۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that his father Bashir bin Sad brought An-Numan with him and said: "O Messenger of Allah, I have given this son of mine a slave who belonged to me as a present." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3674
بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (اپنے بیٹے) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو تم اسے واپس لے لو ۔
It was narrated from Bashir bin Sad that he brought An-Numan to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I want to give this son of mine a slave as a present, and if you think that I should go ahead with it, I will go ahead." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3675
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٠٢، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٠، ١١٦١٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٧٠٧، ٣٧٠٨، ٣٧١٣) (صحیح )
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک عطیہ دیا، تو ان کی ماں نے ان کے والد سے کہا کہ آپ نے جو چیز میرے بیٹے کو دی ہے اس کے دینے پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا دیجئیے، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس کے لیے گواہ بننے کو ناپسند کیا۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that his father gave him a present, and his mother said: "Ask the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to bear witness to what you have given to my son." So he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not want to bear witness to it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3676
بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنادیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے لوٹا لو ۔
It was narrated from Bashir that he gave his son a slave as a present, then he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he wanted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to bear witness to that. He said: "Have you given a similar present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3677
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بشیر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! میں نے (اپنے بیٹے) نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کے بھائیوں کو بھی دیا ہے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: جو دیا ہے اسے واپس لے لو ۔
It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, that Bashir came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Prophet of Allah, I have given An-Numan a present." He said: "Have you given something to his brothers?" He said: "No." He said: "Then take it back.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3678
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انہیں اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے اور کہا: آپ گواہ رہیں میں نے اپنے مال میں سے نعمان کو فلاں اور فلاں چیزیں بطور عطیہ دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو وہی دی ہیں جو نعمان کو دی ہیں؟ ۔
It was narrated that An-Numan said that his father took him to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "Bear witness that I have given An-Numan such and such of my wealth as a gift." He said: "Have you given all your children a present like that which you have given to An-Numan?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3679
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس اس ارادہ سے آئے کہ انہوں نے انہیں خاص طور پر عطیہ دیا ہے، اس پر آپ ﷺ کو گواہ بنادیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سبھی لڑکوں کو ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اسے دیا ہے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں ( اس طرح کی) کسی چیز پر گواہ نہیں بنتا۔ کیا یہ بات تمہیں اچھی نہیں لگتی کہ وہ سب تمہارے ساتھ اچھے سلوک میں یکساں اور برابر ہوں ، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: تب تو یہ نہیں ہوسکتا ۔
It was narrated from An-Numan that his father brought him to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to bear witness to a present that he gave to him. He said: "Have you given all your children a present like that which you have given to him?" He said: "No." He said: "I will not bear witness to anything. Will it not please you if they were all to treat you with equal respect?" He said: "Of course." He said: "Then no (I will not do it).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3680
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ماں رواحہ کی بیٹی نے ان کے باپ سے مال میں سے بعض چیزیں ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ انہیں سال بھر ٹالتے رہے، پھر ان کے جی میں کچھ آیا تو اس ( بیٹے) کو وہ عطیہ دے دیا۔ ان کی ماں نے کہا: میں اتنے سے مطمئن اور خوش نہیں ہوں جب تک کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ نہیں بنا دیتے تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اس بچے کو جو عطیہ دیا ہے تو اس لڑکے کی ماں، رواحہ کی بیٹی، اس پر مجھ سے جھگڑتی ہے (کہ میں اس پر آپ کو گواہ کیوں نہیں بناتا؟ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بشیر! اس لڑکے کے علاوہ بھی تمہارا اور کوئی لڑکا ہے؟ ، کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے سبھی لڑکوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے جیسا تم نے اپنے اس بیٹے کو دیا ہے ، انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی کا گواہ نہیں بن سکتا ١ ؎۔
An-Numan bin Bashir Al-Ansari narrated that his mother, the daughter of Rawahah, asked his father to give some of his wealth to her son. He deferred that for a year, then he decided to give it to him. She said: "I will not be pleased until you ask the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) to bear witness." He said: "O Messenger of Allah, the mother of this boy, the daughter of Rawahah, insisted that I give a gift to him." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "O Bashir, do you have any other children besides this one?" He said: "Yes." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Have you given all of them a gift like that which you have given to this son of yours?" He said: "No." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Then do not ask me to bear witness, for I will not bear witness to unfairness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3681
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ ظلم کی ہی بات ہے کہ ایک بیٹے کو عطیہ وہبہ کے نام پر نوازا جائے اور دوسرے بیٹے کو محروم رکھا جائے۔
نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں نے میرے والد سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے کو کچھ عطیہ دو، تو انہوں نے: مجھے عطیہ دیا۔ میری ماں نے کہا: میں اس پر راضی (و مطمئن) نہیں ہوں جب تک کہ میں اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا دوں، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا، اس وقت میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس بچے کی ماں رواحہ کی بیٹی نے مجھ سے کچھ عطیہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی خوشی اس میں ہے کہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں۔ تو آپ نے فرمایا: بشیر! کیا تمہارا اس کے علاوہ بھی کوئی بیٹا ہے؟ ، کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تم نے جیسا اسے دیا ہے اسے بھی دیا ہے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو تم مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم و زیادتی پر گواہ نہیں بنتا ۔
It was narrated that An-Numan said: "My mother asked my father for a gift and he gave it to me. She said: I will not be contented until you ask the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) to bear witness. So my father took me by the hand, as I was still a boy, and went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم). He said: O Messenger of Allah, the mother of this boy, the daughter of Rawahah, asked me for a gift, and she wanted me to ask you to bear witness to that. He said: O Bashir, do you have any other child apart from this one? He said: Yes. He said: Have you given him gifts like that which you have given to this one? He said: No. He said: Then do not ask me to bear witness, for I will not bear witness to unfairness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3682
عامر شعبی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بشیر بن سعد ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے نعمان کو کچھ ہبہ کروں، اور اس کی فرمائش یہ بھی ہے کہ جو میں اسے دوں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور بھی بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا تم نے انہیں بھی ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم مجھے ظلم و زیادتی پر گواہ نہ بناؤ۔
It was narrated that Amir said: "I was told that Bashir bin Sad came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: O Messenger of Allah, my wife Amrah bint Rawahah told me to give a gift to her son Numan, and she told me to ask you to bear witness to that. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you have any other children? He said: Yes. He said: Have you given them something like that which you have given to this one? He said: No. He said: Then do not ask me to bear witness to unfairness.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3683
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٠٥ (صحیح) (سند میں انقطاع ہے، مگر دیگر سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہوجائیے۔ آپ نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟ ، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہے) آپ نے فرمایا: کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Utbah bin Masud that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I have given a gift to my son, so bear witness." He said: "Do you have any other children?" He said: "Yes." He said: "Have you given them something like that which you have given him?" He said: "No." He said: "Shall I bear witness to unfairness?
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3684
Notes · وضاحت
١ ؎: تمہارا دوسرے بیٹوں کو محروم کر کے ایک کو دینا اور اس پر مجھ سے گواہ بننے کے لیے کہنا گویا یہ مطالبہ کرنا ہے کہ میں اس ظلم و زیادتی کی تائید کروں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٥٨٠) (صحیح) (یہ مرسل ہے ” عبداللہ بن عتبہ تابعی ہیں “ مگر اگلی سندوں سے یہ روایت صحیح ہے )
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ ﷺ کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ١ ؎؟ ۔
An-Numan bin Bashir said: "My father took me to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to ask him to bear witness to something that he had given to me. He said: Do you have any other children? He said: Yes. He gestured with his hand held horizontally like this, (saying): Why dont you treat them all equally?
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3685
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تمہارے کئی لڑکے ہیں تو لینے دینے میں سب کے ساتھ انصاف و مساوات کا سلوک کیوں نہیں کیا۔