نعمان بن بشیر کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اسے واپس لے لو ۔ اس حدیث کے الفاظ محمد (راوی) کے ہیں۔
It was narrated from An-Numan bin Bashir that his father gave him a slave as a present, then he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to ask him to bear witness (to that). He said: "Have you given a present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take it back." This wording is that of (one of the narrators) Muhammad.