Sunan An Nasai 3696

وصیتوں سے متعلقہ احادیث

3696Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ، فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مرگئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا تو یہ ہے مدینہ میں سعد ؓ کی پانی کی سبیل۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that his mother died. He said: "O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sad in Al-Madinah.

حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3666
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٩٤ (صحیح )