Sunan An Nasai 3705

عطیہ اور بخشش سے متعلق احادیث مبارکہ

3705Sunan An Nasai

نعمان بن بشیر کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُنْفِذَهُ أَنْفَذْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَهُ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ.

بشیر بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (اپنے بیٹے) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو تم اسے واپس لے لو ۔

It was narrated from Bashir bin Sad that he brought An-Numan to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I want to give this son of mine a slave as a present, and if you think that I should go ahead with it, I will go ahead." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3675
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٠٢، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٠، ١١٦١٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٧٠٧، ٣٧٠٨، ٣٧١٣) (صحیح )