نعمان بن بشیر کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَمَرَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا نُعْمَانَ بِصَدَقَةٍ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ لِهَذَا ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بشیر بن سعد ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ میری بیوی عمرہ بنت رواحہ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے نعمان کو کچھ ہبہ کروں، اور اس کی فرمائش یہ بھی ہے کہ جو میں اسے دوں اس پر آپ کو گواہ بنا دوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور بھی بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا تم نے انہیں بھی ویسا ہی دیا ہے جیسا تم نے اس لڑکے کو دیا ہے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم مجھے ظلم و زیادتی پر گواہ نہ بناؤ۔
It was narrated that Amir said: "I was told that Bashir bin Sad came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: O Messenger of Allah, my wife Amrah bint Rawahah told me to give a gift to her son Numan, and she told me to ask you to bear witness to that. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you have any other children? He said: Yes. He said: Have you given them something like that which you have given to this one? He said: No. He said: Then do not ask me to bear witness to unfairness.