مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میری ماں مرچکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Sad asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3654
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا؟ ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠)، سنن ابی داود/الوصایا ١٥ (٢٨٨٢ مطولا)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩ مطولا)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٤) (صحیح )