مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: (اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ (اور ان کے لیے موجب نجات) ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf? He said: "Yes.