Sunan An Nasai 3680

وصیتوں سے متعلقہ احادیث

3680Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اچانک مر جائے تو کیا اس کے وارثوں کے واسطے اس کی جانب سے صدقہ کرنا مستحب ہے یا نہیں؟

أَنْبَأَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي ؟ الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک غزوہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ مدینہ میں ان کی ماں کے انتقال کا وقت آپہنچا، ان سے کہا گیا کہ وصیت کردیں، تو انہوں نے کہا: میں کس چیز میں وصیت کروں؟ جو کچھ مال ہے وہ سعد کا ہے، سعد کے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، جب سعد ؓ آگئے تو ان سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، سعد ؓ نے کہا: فلاں باغ ایسے اور ایسے ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور باغ کا نام لیا۔

It was narrated from Saeed bin Amr bin Shurahbil bin Saeed bin Sad bin Ubadah, from his father, that his grandfather said: "Sad bin Ubadah went out with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on one of his campaigns, and death came to his mother in Al-Madinah. It was said to her (as she was dying): Make a will. She said: To whom shall I make a will? The wealth belongs to Sad. Then she died before Sad came. When Sad came, he was told about that and he said: O Messenger of Allah, will it benefit her if I give in charity on her behalf? The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes. Sad said: Such and such a garden is given in charity on her behalf -regarding a garden that he named.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3650
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٣٨، ٤٤٧١)، موطا امام مالک/الأقضیة ٤١ (٥٢)، مسند احمد (٦/٧) (حسن صحیح )