سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ ﷺ میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: نہیں ۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔
It was narrated from Amir bin Sad that his father said: "I became ill with a sickness from which I later recovered. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to visit me, and I said: O Messenger of Allah, I have a great deal of wealth and I have no heir except my daughter. Shall I give two-thirds of my wealth in charity? He said: No. I said: Half? He said: No. I said: One-third? He said: (Give) one-third, and one-third is a lot. It is better to leave your heirs independent of means, than to leave them poor and holding out their hands to people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3626
سعد بن ابی وق اس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں ۔
It was narrated that Sad said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to visit me when I was in Makkah. I said: O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money? He said: No. I said: One-half? He said: No. I said: One-third? He said: (Bequeath) one-third, and one-third is a lot. If you leave your heirs independent of means, that is better than if you leave them poor and holding out their hands to people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3627
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (وہ مکہ میں بیمار پڑے تو) رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی: سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو ، (سعد کی صرف ایک بیٹی تھی) ، سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے کی) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔
It was narrated from Amir bin Sad that his father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to visit him when he was in Makkah, and he did not want to die in the land from which he had emigrated. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah have mercy on Sad bin Afra. He had only one daughter, and he said: O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), shall I bequeath all my wealth? He said: No. I said: Half? He said: No. I said: One-third? He said: One-third, and one-third is a lot. For you to leave your heirs independent of means is better than if you were to leave them poor, holding out their hands to people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3628
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
One from the family of Sad narrated: "Sad fell sick and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) entered upon him and he said: O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money? He said: No." And he quoted the same Hadith.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو (ان کی بیمار پرسی کے لیے) رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں، ان شاء اللہ (تم یہاں نہیں مرو گے) ۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔
Amir bin Sad (narrated) from his father that he fell sick in Makkah and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to him. When Sad saw him, he wept and said: "O Messenger of Allah, am I to die in the land from which I emigrated?" He said: "No, if Allah wills." He said: "O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth in the cause of Allah?" He said: "No." He said: "Two-thirds?" He said: "No." He said: "Half of it?" He said: "No." He said: "One-third of it?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "One-third, and one-third is a lot. If you leave your sons independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands to people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3630
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری بیماری میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا: تم نے وصیت کردی؟ میں نے کہا: جی ہاں کردی، آپ نے فرمایا: کتنی؟ میں نے کہا: اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا؟ میں نے کہا: وہ سب مالدار و بےنیاز ہیں، آپ نے فرمایا: دسویں حصے کی وصیت کرو ، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ١ ؎ آپ نے فرمایا: اچھا تہائی کی وصیت کرلو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے ۔
It was narrated that Sad bin Abi Waqqas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) visited me when I was sick, and said: Have you made a will? I said: Yes. He said: How much? I said: For all my wealth to be given in the cause of Allah. He said: What have you left for your children? I said: They are rich (independent of means). He said: Bequeath one-tenth. And we kept discussing it until he said: Bequeath one-third, and one-third is much or large.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3631
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں نے کل مال میں سے دو تہائی کہا، آپ نے فرمایا : نہیں، میں نے آدھا کہا، آپ نے فرمایا : نہیں، میں نے کہا : تہائی؟
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦ (٩٧٥)، (تحفة الأشراف: ٣٨٩٨)، مسند احمد (١/١٧٤) (ضعیف) (مولف کی یہ سند عطاء بن سائب کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر پچھلی سند صحیح ہے )
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، کہا: آدھے کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، کہا: تہائی کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی کی کر دو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے ۔
It was narrated from Sad that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) visited him when he was sick, and he said: "O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth?" He said: "No." He said: "Half?" He said: "No." He said: "One-third?" He said: "One-third, and one-third is much or large.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3632
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سعد بن ابی وقاص ؓ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد ؓ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم (یعنی اجازت) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کردیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی ہوسکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، (آپ نے مزید فرمایا) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر (اس دنیا سے) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ (دوسروں کے سامنے) ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to visit Sad (when he was sick). Sad said to him: "O Messenger of Allah, shall I bequeath two-thirds of my wealth?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath half?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath one-third?" He said: "Yes, one-third, and one-third is much or large. If you leave your heirs independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3633
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ اگر وصیت کو ایک چوتھائی تک کم کریں (تو مناسب ہے) کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "If the people were to reduce (their bequests) to one-quarter (of their wealth, that would be better), because the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: One-third, and one-third is much or large.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3634
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: (اللہ کے رسول! ) میری کوئی اولاد (نرینہ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کردیتا ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: آدھے کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں ، انہوں نے کہا: تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔
It was narrated from Muhammad bin Sad, from his father Sad bin Malik, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to him when he was sick and he said: "I do not have any children apart from one daughter. Shall I bequeath all my wealth?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No." He said: "Shall I bequeath half of it?" The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No." He said: "Shall I bequeath one-third of it?" He said: "One-third, and one-third is much or large.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3635
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد بن مالک ہی سعد بن ابی وقاص ہیں، والد کا نام مالک اور کنیت ابوسعد ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ ان کے والد ١ ؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہوگئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کردیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو (وہاں موجود) دیکھیں (تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں) آپ نے فرمایا: جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو ، تو میں نے (ایسا ہی) کیا، پھر آپ ﷺ کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہوگئے ٢ ؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ جب وہ لوگ آگئے تو آپ انہیں برابر (ان کے مطالبے کے بقدر) ناپ ناپ کردیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کردی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔
Jabir bin Abdullah narrated that his father was martyred on the Day of Uhud, and he left behind six daughters, and some outstanding debts. When the time to pick the dates came, I went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: "You know that my father was martyred on the Day of Uhud and he left behind a great deal of debt. I would like the creditors to see you." He said: "Go and pile up the dates in separate heaps." I did that, then I called him. When they saw him, it was as if they started to put pressure on me at that time. When he saw what they were doing, he went around the biggest heap three times, then he sat on it then said: "Call your companions (the creditors)." Then he kept on weighing them out for them, until Allah cleared all my fathers debts. I am pleased that Allah cleared my fathers debts without even a single date being missed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3636
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی الله عنہ۔ ٢ ؎: یعنی اپنا اپنا مطالبہ لے کر شور برپا کرنے لگے کہ ہمیں دو، ہمارا حساب پہلے چکتا کرو وغیرہ وغیرہ۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا، میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا اور کھجوروں کے باغ کی آمدنی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور کئی سالوں کی باغ کی آمدنی کے بغیر یہ قرض ادا نہ ہو سکے گا، اللہ کے رسول! میرے ساتھ چلئے تاکہ قرض خواہ لوگ مجھے برا بھلا نہ کہیں، چناچہ آپ کھجور کی ایک ایک ڈھیر کے اردگرد گھومے اور اس کے آس پاس سلام کیا اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر اسی پر بیٹھ گئے اور قرض خواہوں کو بلایا اور انہیں (ان کا حق) پورا پورا دیا اور جتنا وہ لے گئے اتنا ہی بچ رہا۔
It was narrated from Jabir that his father died owing debts. "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: (O Messenger of Allah!) My father has died owing debts, and he has not left anything but what his date-palms produce. What his date-palms produce will not pay off his debts for years. Come with me, O Messenger of Allah, so that the creditors will not be harsh with me. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) went to each heap, saying Salams and supplicating for it, then sitting on it. He called the creditors and paid them off, and what was left was as much as what they had taken.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3637
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام ؓ انتقال فرما کر گئے اور (اپنے ذمہ لوگوں کا) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کردینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو ناپ ناپ کر دو ، جابر ؓ کہتے ہیں: تو میں انہیں ناپ ناپ کردینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔
It was narrated that Jabir said: "Abdullah bin Amr bin Haram died, leaving behind debts. I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) to intercede with his creditors so that they would waive part of the debt. He asked them to do that but they refused. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Go and sort your dates into their different kinds: The Ajwah on one side, the cluster of Ibn Zaid on another side, and so on. Then send for me. I did that, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came and sat at the head or in the middle of the heaps. Then he said: Measure them out for the people. So I measured them out for them until I had paid them all off, and my dates were left as if nothing had been taken from them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3638
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کردیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم ﷺ نے (یہودی سے) فرمایا: کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے (اگلے سال) لے لو؟ ، یہودی نے (ایسا کرنے سے) انکار کردیا، نبی اکرم ﷺ نے (مجھ سے فرمایا:) کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کرسکتے ہو؟ ، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کردی تو آپ اور ابوبکر ؓ تشریف لائے اور (کھجور کے) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کردینے لگے اور رسول اللہ ﷺ برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کردی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس (بطور تواضع) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوگی ۔
"My father owed some dates to a Jew. He was killed on the Day of Uhud and he left behind two gardens. The dates owed to the Jew would take up everything in the two gardens. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Can you take half this year and half next year? But the Jew refused. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When the time to pick the dates comes, call me. So I called him and he came, accompanied by Abu Bakr. The dates were picked and weighed from the lowest part of the palm trees, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) was praying for blessing, until we paid off everything that we owed him from the smaller of the two gardens, as calculated by Ammar. Then I brought them some fresh dates and water and they ate and drank, then he said: This is part of the blessing concerning which you will be questioned.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3639
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد (غزوہ احد میں) انتقال کر گئے اور ان کے ذمہ قرض تھا تو میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ والد کے ذمہ ان کا جو حق ہے اس کے بدلے (ہمارے باغ کی) کھجوریں لے لیں تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کردیا، وہ سمجھتے تھے کہ اتنی کھجوریں ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہیں تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم کھجوریں توڑ کر کھلیان میں رکھ دو تو مجھے خبر کرو ، چناچہ جب میں نے کھجوریں توڑ کر انہیں کھلیان میں رکھ دیں تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اور آپ کو بتایا) آپ آئے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا حق پورا پورا دیتے جاؤ تو میں نے کسی کو بھی جس کا میرے باپ پر قرض تھا نہیں چھوڑا، سب کو اس کا پورا پورا حق دے دیا اور میرے لیے تیرہ وسق کھجوریں بھی بچ رہیں، جب میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے اور فرمایا: ابوبکر و عمر ؓ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی یہ بات بتاؤ، تو میں نے ان دونوں کو بھی اس بات کی خبر دی، تو ان دونوں نے کہا: جب ہم نے آپ کو وہ کرتے دیکھا جو آپ ﷺ نے کیا تو ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "My father died owing debts. I offered to his creditors that they could take the fruits in lieu of what he owed them, but they refused as they thought that it would not cover the debt. I went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him about that, he said: When you pick the dates and have put them in the Mirbad (place for drying dates), call me. When I had picked the dates and put them in the Mirbad, I went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and he came, accompanied by Abu Bakr and Umar (RA). He sat on (the dates) and prayed for blessing. Then he said: Call your creditors and pay them off. I did not leave anyone to whom my father owed anything but I paid him off, and I had thirteen Wasqs left over. I mentioned that to him and he smiled and said: Go to Abu Bakr and Umar (RA) and tell them about that. So I went to Abu Bakr and Umar (RA) and told them about that, and they said: We knew, when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did what he did, that this would happen.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3640
عمرو بن خارجہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے (تو تم سمجھ لو) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Kharijah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) delivered a Khutbah and said: Allah has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3641
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کا حق دے دیا ہے، اور اس کے حصے متعین کردیے ہیں۔
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے ۔
It was narrated from Shahr bin Hawshab that Ibn Ghanm mentioned that Ibn Kharijah told him that he saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) addressing the people from atop his mount, which was chewing its cud and its saliva was dripping down. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said in his Khutbah: "Allah has given each person a share of the inheritance, and it is not permissible to give bequests to an heir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3642
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
It was narrated that Amr bin Kharijah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Allah, Mighty is His Name, has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3643
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: وأنذر عشيرتک الأقربين نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا چناچہ قریش سبھی لوگ اکٹھا ہوگئے، تو آپ نے عام و خاص سبھوں کو مخاطب کر کے فرمایا: اے بنی کعب بن لوئی! اے بنی مرہ بن کعب! اے بنی عبد شمس! اے بنی عبد مناف! اے بنی ہاشم اور اے بنی عبدالمطلب! تم سب اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ (فاطمہ بنت محمد) تم اپنے آپ کو آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کے عذاب کے سامنے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا سوائے اس کے کہ ہمارا تم سے رشتہ داری ہے جو میں (دنیا میں) اس کی تری سے تر رکھوں گا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "When the following was revealed: And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) called the Quraish and they gathered, and he spoke in general and specific terms, then he said: O Banu Kab bin Luayy! O Banu Murrah bin Kab! O Banu Abd Shams! O Banu Abd Manaf! O Banu Hisham! O Banu Abdul-Muttalib! Save yourselves from the Fire! O Fatimah! Save yourself from the Fire. I cannot avail you anything before Allah, but I will uphold the ties of kinship with you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3644
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا میں تمہارے ساتھ برابر صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔
موسیٰ بن طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے اعمال حسنہ کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو اپنے رب سے (اپنے نیک اعمال کے بدلے) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، البتہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرابت داری ہے، تو میں اس کی تری اسے تروتازہ اور زندہ رکھنے کی کوشش کروں گا ١ ؎۔
It was narrated that Musa bin Talhah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: O Banu Abd Manaf! Buy your souls from your Lord. I cannot avail you anything before Allah. Abu Banu Abdul-Muttalib! Buy your souls from your Lord. I cannot avail you anything before Allah. But between me and you there are ties of kinship which I will uphold.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3645
Notes · وضاحت
١ ؎: دنیا میں تمہارے ساتھ برابر صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔