Sunan An Nasai 3672

وصیتوں سے متعلقہ احادیث

3672Sunan An Nasai

وارث کی حق میں وصیت باطل ہے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّابْنَ غُنْمٍ ذَكَرَ، أَنَّ ابْنَ خَارِجَةَ ذَكَرَ لَهُ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ قِسْمَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ.

عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے ۔

It was narrated from Shahr bin Hawshab that Ibn Ghanm mentioned that Ibn Kharijah told him that he saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) addressing the people from atop his mount, which was chewing its cud and its saliva was dripping down. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said in his Khutbah: "Allah has given each person a share of the inheritance, and it is not permissible to give bequests to an heir.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3642
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ١٠٧٣١)، انظر ما قبلہ (صحیح )