وارث کی حق میں وصیت باطل ہے
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ.
عمرو بن خارجہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے (تو تم سمجھ لو) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Kharijah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) delivered a Khutbah and said: Allah has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.