معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حصین بن عبدالرحمٰن کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ عمرو بن جاوان سے، جو ایک تمیمی شخص ہیں، روایت کرتے ہیں، اور یہ بات اس طرح ہوئی کہ میں (حصین بن عبدالرحمٰن) نے ان سے (یعنی عمرو بن جاوان سے) کہا: کیا تم نے احنف بن قیس کا اعتزال دیکھا ہے، کیسے ہوا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے احنف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں مدینہ آیا (اس وقت) میں حج پر نکلا ہوا تھا، اسی اثناء میں ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے کجاوے اتار اتار کر رکھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والے شخص نے آ کر بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ اکٹھا ہیں اور انہیں کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص ؓ موجود ہیں۔ میں وہاں کھڑا ہوگیا، اسی دوران یہ آواز آئی: یہ لو عثمان بن عفان بھی آگئے، وہ آئے ان کے جسم پر ایک زرد رنگ کی چادر تھی ١ ؎، میں نے اپنے پاس والے سے کہا: جیسے تم ہو ویسے رہو مجھے دیکھ لینے دو وہ (عثمان) کیا کہتے ہیں، عثمان نے کہا: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں (موجود ہیں) انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص خرید لے گا فلاں کا مربد (کھلیان، کھجور سکھانے کی جگہ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے خرید لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ کو بتایا تھا کہ میں نے عقلان کا مربد (کھلیان) خرید لیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا: اسے ہماری مسجد (مسجد نبوی) میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ، لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہوا تھا) (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا (رومہ مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ۔ میں (بئررومہ خرید کر) رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور (آپ سے) کہا: میں نے بئررومہ خرید لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ، لوگوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہوا تھا) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ ﷺ نے (جنگ تبوک کے موقع پر) فرمایا تھا: جو شخص جیش عسرۃ (تہی دست لشکر) کو (سواریوں اور سامان حرب و ضرب سے) آراستہ کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے ان لشکریوں کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کردیا یہاں تک کہ انہیں عقال (اونٹوں کے پاؤں باندھنے کی رسی) اور خطام (مہار بنانے کی رسی) کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی۔ لوگوں نے کہا: ہاں (آپ درست فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا تھا) یہ سن کر انہوں نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
Al-Ahnaf said: "I came to Al-Madinah, and I was performing Hajj, and while we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid. I looked and found the people gathered, and in the midst of them was a group; there I saw Ali bin Abi Talib, Az-Zubair, Talhah and Sad bin Abi Waqqas (RA). When I got there, it was said that Uthman bin Affan (RA) had come. He came, wearing a yellowish cloak. I said to my companion: Stay where you are until I find out what is happening. Uthman (RA) said: Is Ali here? Is Az-Zubair here? Is Talhah here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: I have bought the well of Rumah. He said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever equips the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk), Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3606
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کردی تھیں اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں (خیموں) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی (وہاں) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں (چاروں طرف سے) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص ؓ بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آگئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ (آ کر) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں (ہیں) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص بنی فلاں کا مربد (کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: اسے (وقف کر کے ہماری) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں (ہمیں معلوم ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا ، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا ۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، (پھر) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ۔ هؤلاء سے مراد جیش عسرت ہے (ساز و سامان سے تہی دست لشکر) تو میں نے انہیں مسلح کردیا اور اس طرح تیار کردیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں (ایسا ہی ہوا ہے) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ (میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہوسکتا) ۔
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: "We set out for Hajj, and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid and there is panic. So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were Ali, Az-Zubair, Talhah and Sad bin Abi Waqqas (RA). While we were like that, Uthman (RA) came, wearing a yellowish cloak with which he had covered his head. He said: Is Ali here? Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such an amount, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever equips these (men), Allah will forgive him, -meaning the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk)- so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: By Allah, yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3607
ثمامہ بن حزن قشیری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت عثمان ؓ عنہ کے گھر موجود تھا جب انہوں نے اوپر سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو وہاں بئررومہ کے سوا کہیں بھی پینے کا میٹھا پانی نہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہے کوئی جو رومہ کا کنواں خرید کر (وقف کر کے) اپنے اور تمام مسلمانوں کے ڈولوں کو یکساں کر دے اس کے عوض اسے جنت میں اس سے بہتر ملے گا ۔ میں نے (آپ کے اس ارشاد کے بعد) اسے اپنے ذاتی مال سے خرید کر اپنا ڈول عام مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کردیا (یعنی وقف کردیا اور اپنے لیے کوئی تخصیص نہ کی) اور آج یہ حال ہے کہ تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے نہیں دے رہے ہو، حال یہ ہے کہ میں سمندر کا ( کھارا) پانی پی رہا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہاں، (اسی طرح ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اسلام اور اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو جیش عسرہ (ضرورت مند لشکر) کو میں نے اپنا مال صرف کر کے جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا۔ ان لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہے) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے مسجد اپنے نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی، آپ نے فرمایا تھا: کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین کو خرید کر جنت میں اس سے بہتر پانے کے لیے اسے مسجد میں شامل کر کے مسجد کو مزید وسعت دیدے ۔ تو میں نے اس زمین کے کئی ٹکڑے کو اپنا ذاتی مال صرف کر کے خرید لیا تھا اور مسجد میں اس کا اضافہ کردیا تھا اور تمہارا حال آج یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے تک نہیں دے رہے ہو۔ لوگوں نے کہا: ہاں (بجا فرما رہے ہیں آپ) ۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ مکہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر بھی تھے اور میں بھی تھا، اس وقت وہ پہاڑ ہلنے لگا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: ثبیر! سکون سے رہ، کیونکہ (یہاں) تیرے اوپر نبی، صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے، ہاں (آپ ٹھیک کہتے ہیں) انہوں نے کہا: اللہ اکبر، اللہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں نے (میرے شہید ہونے کی) گواہی دی۔ رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔
It was narrated that Thumamah bin Hazn Al-Qushairi said: "I was present at the house when Uthman looked out over them and said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) came to Al-Madinah, and it had no water that was considered sweet (suitable for drinking) except the well of Rumah, he said: "Who will buy the well of Rumah and dip his bucket in it alongside the buckets of the Muslims, in return for a better one in Paradise?" and I bought it with my capital and dipped my bucket into it alongside the buckets of the Muslims? Yet today you are preventing me from drinking from it, so that I have to drink salty water. They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that I equipped the army of Al-Usrah (Tabuk) from my own wealth? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Masjid became too small for the people and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Who will buy the plot of the family of so and so and add it to the Masjid, in return for a better plot in Paradise? I bought it with my capital and added it to the Masjid? Yet now you are preventing me from praying two Rakahs therein. They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Allah and by Islam, are you aware that when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) was atop Thabir -the Thabir in Makkah- and with him were Abu Bakr, Umar and myself, the mountain shook, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) kicked it with his foot and said: Be still, Thabir, for upon you are a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), a Siddiq and two martyrs? They said: By Allah, yes. He said: Allahu Akbar! They have testified for me, by the Lord of the Kabah -i.e., that I am a martyr.
صحيح دون قصة ثبيرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3608
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٧٠٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٥)، مسند احمد (١/٧٤) (صحیح) (لیکن ” ثبر “ کا واقعہ صحیح نہیں ہے )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان ؓ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ٹھہرا رہ (سکون سے رہ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں ، (کوئی اور نہیں) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا (یہ سن کر) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے (پھر) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے (اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر) فرمایا تھا: یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا ١ ؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ (تنگ حالی سے دوچار لشکر) کے دن رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی (بارگاہ الٰہی میں) قبولیت یقینی ہے ۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بیشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد (نبوی) میں توسیع کرتا ہے ۔ میں نے (یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کردیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کردیا تھا (جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that Uthman looked out over them when they besieged him and said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), on the day when the mountain shook with him, and he kicked it with his foot and said: Be still, for there is no one upon you but a Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) or a Siddiq or two martyrs, and I was with him." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witnessed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), on the day of Baiat Al-Ridwan, say: This is the Hand of Allah and this is the hand of Uthman." Some men responded and affirmed that. He said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say, on the day of the army of Al-Usrah (i.e. Tabuk): Who will spend and it will be accepted? And I equipped half of the army from my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) say: Who will add to this Masjid in return for a house in Paradise, and I bought it with my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witness Rumah being sold, and I bought it from my own wealth and allowed wayfarers to use it." Some men responded and affirmed that.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3609
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نبی اکرم ﷺ نے اللہ کا ہاتھ جو ارشاد فرمایا ہے تو اس میں آپ ﷺ سورة الفتح کی آیت ( ١٥ ) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے : اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : إن الذين يبايعونک إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم بلاشبہ جو لوگ اے ہمارے نبی! ( حدیبیہ میں ) بیعت کر رہے تھے وہ گویا اللہ رب العزت سے بیعت کر رہے تھے، اللہ عزوجل کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر تھا ( الفتح : 10) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٨٤٢)، مسند احمد (١/٥٩) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان ؓ عنہ کا ان کے گھر میں محاصرہ کردیا گیا اور لوگ ان کے گھر کے چاروں طرف اکٹھا ہوگئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا، اور عبدالرحمٰن نے (اوپر گزری ہوئی) پوری حدیث بیان کی۔
It was narrated that Abdur-Rahman Al-Sulami said: "When Uthman (RA) was besieged in his house, the people gathered around his house and he looked out over them" and he quoted the same Hadith.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت صدقہ کرنا جب تندرست اور صحت مند ہو، تمہیں مال جمع کرنے کی حرص ہو، محتاج ہوجانے کا ڈر ہو اور تمہیں لمبی مدت تک زندہ رہنے کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں جان نکلنے کے وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو: فلاں کو اتنا دے دو، حالانکہ اب تو وہ فلاں ہی کا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, what kind of charity brings the greatest reward? He said: To give in charity when you are healthy and feeling miserly, and fearing poverty and hoping for a long life. Do not wait until the (death rattle) reaches the throat and then say: "This is for so and so," and it nearly became the property of so and so (the heirs).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3611
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرتے وقت صدقہ دینے میں زیادہ ثواب نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سمجھو اس بات کو، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے (مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے (مرنے کے بعد) اپنے پیچھے چھوڑ دیا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: For whom among you is the wealth of his heirs dearer to him than his own wealth? They said: O Messenger of Allah, there is no one among us for whom his own wealth is not dearer to him than the wealth of his heirs. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Know that there is no one among you for whom the wealth of his heirs is not dearer than his own wealth. Your wealth is that which you have sent on ahead, and the wealth of your heirs is that which you have kept.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3612
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں کسی کو دے دلا دینا زیادہ بہتر ہے۔
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ألهاكم التکاثر * حتى زرتم المقابر (کثرت و زیادتی) کی چاہت نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے آپ نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال کہتا ہے؟ (لیکن حقیقت میں) تمہارا مال تو صرف وہ ہے جو تم نے کھا (پی) کر ختم کردیا، یا پہن کر بوسیدہ اور پرانا کردیا یا صدقہ کر کے اسے آخرت کے لیے آگے بھیج دیا ۔
It was narrated from Mutarrif, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The mutual rivalry (for piling up of worldly things) diverts you, Until you visit the graves (i.e. till you die). The son of Adam says: My wealth, my wealth, but your wealth is what you eat and consume, or what you wear and it wears out, or what you give in charity and send on ahead (for the Hereafter).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3613
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کچھ دینار اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی۔ تو ابو الدرداء ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ و خیرات دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص پیٹ بھر کھا لینے کے بعد (بچا ہوا) کسی کو ہدیہ دیدے ١ ؎۔
Abu Habibah At-Tai said: "A man made a will leaving some Dinars (to be spent) in the cause of Allah. Abu Ad-Darda was asked about that, and he narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The likeness of the one who frees a slave or gives some charity when he is dying, is that of a man who gives a gift after he has eaten his fill.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3614
Notes · وضاحت
١ ؎: تو جیسے اس ہدیہ کا کوئی خاص ثواب اور اہمیت نہیں ہے ایسے ہی مرتے وقت غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، دے تو اس وقت دے جب خود کو بھی اس کی احتیاج اور ضرورت ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٥ (٣٩٦٨)، مختصراً سنن الترمذی/الوصایا ٧ (٢١٢٣) مطولا، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٠)، مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧ و ٦/٤٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو حبیبہ “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ضروری ہو مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی گزارے جس میں اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: It is not befitting for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for two nights without having a written will with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3615
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کو جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں اسے وصیت کرنی ہو یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not befitting for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for two nights without having a written will with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3616
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧٣٨)، (تحفة الأشراف: ٨٣٨٢)، موطا امام مالک/الوصایا ١ (١)، مسند احمد (٢/١١٣) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کی تین راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کے اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے ہمیشہ میری وصیت میرے پاس رہتی ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not befitting for a Muslim to abide for three nights without having his will with him." Abdullah bin Umar (RA) said: "Since I heard this from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), I have always had my will with me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3618
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں وصیت کرنی ضروری ہو پھر بھی وہ تین راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کے پاس اس کی لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Salim bin Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not right for a Muslim who has anything concerning which a will should be made, to abide for more than three nights without having a written will with him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3619
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی ایسا واجب حق ہو جس کی ادائیگی ضروری ہے مثلاً قرض اور امانت وغیرہ تو ایسے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ وصیت کرے اور اگر اس کے ذمہ کوئی واجبی حق نہیں ہے تو وصیت مستحب ہے۔
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی؟ کہا: نہیں ١ ؎، میں نے کہا: پھر مسلمانوں پر وصیت کیسے فرض کردی؟ کہا: آپ نے اللہ کی کتاب سے وصیت کو ضروری قرار دیا ہے ٢ ؎۔
Talha (RA) said: "I asked Ibn Abi Awfa: Did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) leave a will? He said: No. I said: How come it is prescribed for the Muslims to make wills? He said: He left instructions urging the Muslims to adhere to the Book of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3620
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا کے متعلق کوئی وصیت نہیں کی کیونکہ آپ نے ایسا کوئی مال چھوڑا ہی نہیں تھا جس میں وصیت کرنے کی ضرورت پیش آتی، رہی مطلق وصیت تو آپ نے کئی باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ ٢ ؎: اشارہ ہے آیت کریمہ : كتب عليكم إذا حضر أحدکم الموت إن ترک خيرا الوصية للوالدين والأقربين بالمعروف حقا على المتقي کی طرف، یعنی اس آیت کی بنا پر آپ نے وصیت کو فرض قرار دیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dinar or a Dirham, or a sheep or a camel, and he did not leave any will.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3621
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dirham or a Dinar, or a sheep or a camel, and he did not leave any will.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3622
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dirham or a Dinar, or a sheep or a camel, and he did not leave any will." Jafar did not mention "Dinar or Dirham.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3623
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑگئے (روح پرواز کرگئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "They say that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) made a will concerning Ali (RA). But he called for a vessel in which to urinate, then he went limp without me realizing it. So to whom did he leave a will?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3624
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کی روح پرواز کرگئی، اس وقت تک میں وہاں موجود تھی پھر آخر کون ہے جسے وصی بنایا گیا؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے کتاب و سنت سے متعلق وصیت انتقال سے کچھ روز پہلے کی ہو اور یہ وصیت کسی کے ساتھ خاص نہیں ہوسکتی بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے (پیشاب کے لیے) طشت منگا رکھا تھا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) died when no one was with him except me." She said: "And he called for a vessel.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3625