ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There should be no awards (for victory in a competition) except on arrows, camels or horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3586
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہوجاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کردیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے) ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had a she-camel called Al-Adba which could not be beaten. One day a Bedouin came on a riding-camel and beat her (in a race). The Muslims were upset by that, and when he saw the expressions on their faces they said: O Messenger of Allah, Al-Adba has been beaten. He said: It is a right upon Allah that nothing is raised in this world except He lowers it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3588
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "There should be no awards (for victory in a competition) except over camels or horses.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3589
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٧) (صحیح )
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam, and whoever robs is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3590
Notes · وضاحت
١ ؎: جلب یہ ہے کہ آدمی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اپنے گھوڑے کے پیچھے کسی کو اسے ڈانٹنے اور ہکارنے کے لیے لگالے تاکہ وہ اور تیز دوڑے۔ اور جنب یہ ہے کہ اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھے اور جب مقابلے کا گھوڑا تھکنے لگے تو اس پر سوار ہوجائے۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی عزیزہ کی شادی دوسرے سے اس شرط کے ساتھ کر دے کہ وہ دوسرا اپنی قریبی عزیزہ کی شادی اس کے ساتھ کر دے، اور ان دونوں کے مابین مہر متعین نہ ہو۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے ۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no bringing, no avoidance and no Shighar in Islam.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3591
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول ﷺ کے صحابہ ؓ کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) raced with a Bedouin and (the latter) won. It was as if the Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) were upset by this, so he said: It is a right upon Allah that there is nothing that raises itself in this world except that He lowers it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3592
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ (فتح) خیبر کے سال زبیر بن العوام ؓ کے لیے رسول اللہ ﷺ نے (مال غنیمت میں) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب ؓ زبیر بن عوام ؓ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔
It was narrated from Yahya bin Abbad bin Abdullah bin Az-Zubair, from his grandfather, that he used to say: "In the year of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) allocated four shares to Az-Zubair bin Al-Awwam: A share of Az-Zubair, a share for the relatives of Safiyyah bint Abdul-Muttalib, the mother of Az-Zubair, and two shares for the horse.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3593
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں (رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے) اور انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، (مصنف) کہتے ہیں (میرے استاذ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کردیا تھا۔
It was narrated that Amr bin Al-Harith said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind a Dinar nor a Dirham, or any slave, male or female; except his white mule which he used to ride, his weapon and some land which he left to be used for the cause of Allah." (One of the narrators) Qutaibah said on one occasion: "In charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3594
عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیار اور زمین کے جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ چھوڑ کر نہ گئے تھے۔
Abu Ishaq narrated: "I heard Amr bin Al-Harith say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) did not leave behind anything except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3595
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا (آپ نے اپنے انتقال کے موقع پر) اپنے شہباء خچر، ہتھیار اور اپنی زمین کے علاوہ جسے آپ صدقہ کر گئے تھے کچھ نہ چھوڑ کر گئے۔
Yunus bin Abi Ishaq narrated that his father said: "I heard Amr bin Al-Harith say: I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and he left nothing behind except his white mule, his weapon and some land which he left as a charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3596
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیبر میں (حصہ میں) ایک زمین ملی، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کہا: مجھے بہت اچھی زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ محبوب و پسندیدہ مال (کبھی) نہ ملا تھا، آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو صدقہ کرسکتے ہو تو انہوں نے اسے بایں طور صدقہ کردیا کہ وہ زمین نہ تو بیچی جائے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جائے گی اور اس کی پیداوار فقیروں، محتاجوں اور قرابت داروں میں، گردن چھڑانے (یعنی غلام آزاد کرانے میں) ، مہمانوں کو کھلانے پلانے اور مسافروں کی مدد و امداد میں صرف کی جائے گی اور کچھ حرج نہیں اگر اس کا ولی، نگراں، محافظ و مہتمم اس میں سے کھائے مگر شرط یہ ہے کہ وہ معروف طریقے (انصاف و اعتدال) سے کھائے (کھانے کے نام پر لے کر) مالدار بننے کا خواہشمند نہ ہو اور دوسروں (دوستوں) کو کھلائے ۔
It was narrated from Sufyan Ath-Thawri, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar, that he said: "I was allocated some land of Khaibar. I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: I have acquired some land and I have never acquired any wealth that is dearer to me or more precious than it. He said: If you wish, you can give it in charity." So he gave it in charity on condition that it would not be bought or given away, for the poor, relatives, slaves, guests and wayfarers. And there is no sin on the administrator if he eats from it or feeds others on a reasonable basis, with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3597
عمر رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
A similar report was narrated from Abu Ishaq Al-Fazari, from (Ayyub) bin Awn, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar (RA) from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خیبر میں (بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں، آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم (خیرات) کر دو، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کردیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی، اس کی آمدنی تقسیم ہوگی فقراء میں، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کی راہ (جہاد) میں، مہمان نوازی میں، مسافروں کی امداد میں، اس زمین کے متولی (نگران و مہتمم) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست و احباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن (اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے۔
It was narrated that Yazid -Ibn Ruzaiq- said: "Ibn Awn narrated to us, from Nafi, from Ibn Umar, from Umar, who said: I acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: I have acquired some land at Khaibar, and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you can freeze it and give it in charity. So he gave it in charity on condition that it would not be sold, given away or inherited, to the poor, relatives, slaves, for the cause of Allah, guests and wayfarers. There is no sin on the one who administers it if he eats from it on a reasonable basis and feeds his friend, with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3599
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنے کے لیے آئے اور کہا: مجھے ایک ایسی بڑی زمین ملی ہے جس سے میری نظروں میں زیادہ قیمتی مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے اس زمین کے بارے میں کیا حکم و مشورہ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو اصل زمین کو روک کر وقف کر دو اور اس کی آمدنی کو صدقہ کر دو ۔ تو انہوں نے اس طرح صدقہ کردیا کہ وہ بیچی نہ جاسکے گی اور نہ ھبہ کی جاسکے گی اور اس کی پیداوار اور آمدنی کو صدقہ کردیا فقراء، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے، اللہ کی راہ، مسافروں (کی امداد) میں اور مہمانوں (کے تواضع) میں۔ اور اس کے ولی (نگراں و مہتمم) کے اس میں سے کھانے اور اپنے دوست کو کھلانے میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے لیکن (اس کے ذریعہ سے) مالدار بننے کی کوشش نہ ہو، حدیث کے الفاظ راوی حدیث اسماعیل مسعود کے ہیں۔
It was narrated from Bishr, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar who said: "Umar (RA) acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and consulted him about it. He said: I have acquired a great deal of land, and I have never acquired any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: If you wish, you may freeze it and give it in charity. So he gave it in charity on condition that it would not be sold or given away, and he gave it in charity to the poor, relatives, to emancipate slaves, for the cause of Allah, for wayfarers and guests. There is no sin -on the administrator- if he eats (from it) or feeds a friend, with no intention of becoming wealthy from it." These are the wordings of Ismail.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3600
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ عمر ؓ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس زمین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس مشورہ کرنے آئے، آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو اصل کو روک کر وقف کر دو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو ۔ تو انہوں نے اس کی اصل کو اس طرح روک کر وقف کیا کہ یہ زمین نہ تو بیچی جاسکے گی اور نہ ہی کسی کو ہبہ کی جاسکے گی اور نہ ہی کسی کو وراثت میں دی جاسکے گی۔ اور اس کو صدقہ کیا اس طرح کہ اس سے فقراء، قرابت دار فائدہ اٹھائیں گے، اس کی آمدنی سے غلاموں کو آزاد کرانے میں مدد دی جائے گی اور مساکین پر خرچ کی جائے گی، مسافر کی مدد اور مہمان کی تواضع کی جائے گی اور جو اس زمین کا ولی (سرپرست و نگراں) ہوگا وہ بھی اس کی آمدنی سے معروف طریقے سے کھا سکے گا اور اپنے دوست کو کھلا سکے گا، لیکن (اپنے کھانے پینے کے نام پہ اس میں سے لے کر) مالدار اور سیٹھ نہ بن سکے گا۔
It was narrated from Azhar As-Samman, from Ibn Awn, from Nafi, from Ibn Umar, that Umar acquired some land at Khaibar. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and consulted him about that. He said: "If you wish, you may freeze it and give it in charity." So he froze it, stipulating that it should not be sold, given as a gift or inherited, and he gave it in charity to the poor, relatives, slaves, the needy, wayfarers and guests. There is no sin on the administrator if he eats from it on a reasonable basis or feeds a friend with no intention of becoming wealthy from it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3601
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون تم بِر (بھلائی) کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم اس میں سے خرچ نہ کرو جسے تم پسند کرتے ہو (آل عمران: ٩٢) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہم سے ہمارے اچھے مال میں سے مانگتا ہے، تو اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین اللہ کی راہ میں وقف کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقف کو اپنے قرابت داروں: حسان بن ثابت اور ابی بن کعب کے لیے کر دو (کہ وہ لوگ اس زمین کو اپنے تصرف میں لائیں اور فائدہ اٹھائیں) ۔
It was narrated that Anas said: "When this Verse was revealed -By no means shall you attain Al Birr (piety, righteousness--here it means Allahs reward, i.e. Paradise), unless you spend (in Allahs cause) of that which you love- Abu Talha said: Our Lord will ask us about our wealth. I adjure you, O Messenger of Allah! I am giving my land to Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Make it for your relatives, Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kab.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3602
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میرے پاس خیبر میں جو سو حصے ہیں اس سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ مال مجھے کبھی بھی نہیں ملا، میں نے اسے صدقہ کردینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اصل روک لو اور اس کا پھل (پیداوار) تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "Umar said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): The one hundred shares that I acquired in Khaibar -I have never acquired any wealth that I like more than that, and I want to give it in charity. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3603
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ٤ (٢٣٩٧)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا اچھا مال ہاتھ لگا ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔ میرے پاس سو راس (جانور) تھے تو میں نے انہیں خیبر والوں کو دے کر سو حصے خرید لیے اور میرا ارادہ ہے کہ انہیں اللہ عزوجل کی راہ میں دے کر اس کی قرابت حاصل کرلوں۔ آپ نے فرمایا: (اگر تمہارا ایسا ارادہ ہے تو) اصل (یعنی زمین) کو روک لو اور پھل تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Umar (RA) said: "Umar came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: O Messenger of Allah, I have acquired some wealth the like of which I have never acquired before. I had one hundred head (of livestock) with which I bought one hundred shares of Khaibar from its people. I wanted to draw closer to Allah, the Mighty and Sublime, by means of it. He said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3604
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک زمین ثمغ (مدینہ) میں تھی، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اصل (زمین) کو روک لو اور اس کے پھل (پیداوار و فوائد) کو تقسیم کر دو ۔
It was narrated that Umar said: "I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about some land of mine in Thamgh. He said: Freeze it and donate its fruits.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3605