Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 181 of 289

3596Sunan An Nasai

اس قسم کے گھوڑوں کے بارے میں کہ جس کے تین پاؤں سفید اور ایک پاؤں دوسرے رنگ کا ہو

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ، وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شکال گھوڑا ناپسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے الفاظ اسماعیل راوی کی روایت کے ہیں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dislike the Shikal among horses. And the wording is that of Ismail.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3566
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ راوی نے شکال کی تفسیر کی ہے، اہل لغت کے نزدیک گھوڑوں میں شکال یہ ہے کہ اس کے تین پاؤں سفید ہوں، اور ایک باقی بدن کے ہم رنگ ہو یا اس کے برعکس ہو، یعنی ایک پاؤں سفید اور باقی تین پاؤں باقی بدن کے ہم رنگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٤)، مسند احمد (٢/٤٥٧، ٤٦٠) (صحیح )
3597Sunan An Nasai

اس قسم کے گھوڑوں کے بارے میں کہ جس کے تین پاؤں سفید اور ایک پاؤں دوسرے رنگ کا ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الشِّكَالُ مِنَ الْخَيْلِ: أَنْ تَكُونَ ثَلَاثُ قَوَائِمَ مُحَجَّلَةً، وَوَاحِدَةٌ مُطْلَقَةً، أَوْ تَكُونَ الثَّلَاثَةُ مُطْلَقَةً، وَرِجْلٌ مُحَجَّلَةً، وَلَيْسَ يَكُونُ الشِّكَالُ إِلَّا فِي رِجْلٍ وَلَا يَكُونُ فِي الْيَدِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شکال گھوڑا ناپسند فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: گھوڑے کا شکال یہ ہے کہ اس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک کسی اور رنگ کا ہو یا تین پیر کسی اور رنگ کے ہوں اور ایک سفید ہو، شکال ہمیشہ پیروں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dislike the Shikal among horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3567
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥)، سنن ابی داود/الجہاد ٤٦ (٢٥٤٧)، سنن الترمذی/الجہاد ٢١ (١٦٩٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٠)، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٧٦) (صحیح )
3598Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں ١ ؎۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Omens are only in three things: a woman, a horse or a house.

شاذ والمحفوظ بلفظ إن کان الشؤم في شيء ففي ...صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3568
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر نحوست بات عملاً مان لی جائے یا یہ کہ لوگ معاشرہ میں ایسا ہی سمجھتے اور سوچتے ہیں تو عورت کی نحوست یہ ہے کہ عورت زبان دراز یا بدخلق ہو اور گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ لات مارے، دانت کاٹے اور گھر کی نحوست یہ ہے کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں یا گرمی و سردی کے لحاظ سے آرام دہ نہ ہو، اس طرح سے ان چیزوں سے آدمی متوحش ہوتا ہے، اور اپنے جذبات کی تعبیر نحوست کے لفظ سے کرتا ہے، لیکن اس کا معنی یہی ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٦)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح) (اس حدیث میں ” الشؤم “ کا لفظ آیا ہے اور بعض روایتوں میں إنما الشؤم ہے جو (شاذ) ہے اور محفوظ ”إن کان الشؤم “ کا لفظ ہے جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے ”إن کان الشؤم “ لفظ ثابت ہے، جس کے شواہد جابر (صحیح مسلم/٢٢٢٧ و نسائی ٣٦٠٠) سعد بن أبی وقاص (سنن ابی داود: ٣٩٢١ ومسند أحمد ١/١٨٠، ١٨٦)، اور سہل بن سعد (صحیح البخاری/٥٠٩٥)، کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الفتح ٦/٦٠-٦٣) وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٩٩، ٧٨٩، ١٨٥٧) ۔ اب جب کہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: ” اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی “ اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی روایت میں ہے، اور وہ جو سنن ابی داود (٣٩٢٤) میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لو گوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آگئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں “ تو اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا عقیدہ خراب ہوجائے، اور وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑجائیں، اور یہ حکم ایسے ہی ہے جیسے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احتیاطا کوڑھی سے دور بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے: ” چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ہے “۔
3599Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Omens are in houses, women and horses.

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3569
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٨ (٥٠٩٣)، الطب ٥٤ (٥٧٧٢)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٥)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٢)، سنن الترمذی/الأدب ٥٨ (٢٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٩)، موطا امام مالک/الاستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٢٦، ١١٥، ١٢٦، ١٣٦) (صحیح) (جیسا کہ اوپر گزرا الشؤم اور إنماالشؤم کا لفظ شاذ ہے، اور خود صحیحین میں إن کان الشؤم کی روایت موجود ہے تو شواہد کی بنا پر یہی لفظ محفوظ ہوگا اور علماء نے یہ بات لکھی ہے کہ امام بخاری طرق حدیث کے ذکر میں راجح روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے لیے یہ مثال کافی ہے، نیز ملاحظہ ہو اس کے بعد کی حدیث حاشیہ )
3600Sunan An Nasai

گھوڑوں میں نحوست سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ يَكُ فِي شَيْءٍ فَفِي الرَّبْعَةِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوسکتی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If there are (omens) in anything, they are in houses, women and horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3570
Notes · وضاحت
١ ؎: لگتا ہے کہ امام نسائی کے یہاں بھی راجح یہی لفظ ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی تو ان چیزوں میں ہوتی اس لیے کہ پہلی دونوں حدیثوں میں الشؤم مطلقاً کی تخریج کی اور آخر میں جابر کی حدیث دے کر اپنا فیصلہ سنا دیا، اس طرح سے یہ مثال امام نسائی کے طریقہ ترجیح میں ایک عمدہ مثال مانی جانی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٤) مسند احمد (٣/٣٣٣) (صحیح )
3601Sunan An Nasai

گھوڑوں کی برکت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا. ح وَأَنْبَأَنَامُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت (رکھ دی گئی) ہے ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Blessing is in the forelocks of horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3571
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥١)، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٥)، مسند احمد (٣/١١٤، ١٢٧، ١٧١) (صحیح )
3602Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ نَاصِيَةَ فَرَسٍ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ، وَيَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، وَالْغَنِيمَةُ.

جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلیوں کے درمیان لے کر گوندھتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ فرما رہے تھے: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دیا گیا ہے۔ خیر سے مراد ثواب اور مال غنیمت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jarir said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) twisting the forelock of a horse with his two fingers, and saying: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3572
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قیامت تک جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑے پالیں اور باندھیں گے جس کے نتیجہ میں ثواب بھی پائیں گے اور جہاد کے زریعہ مال غنیمت بھی حاصل ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٨)، مسند احمد (٤/٣٦١) (صحیح )
3603Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3573
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٤٩)، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٤)، مسند احمد (٢/٤٩، ٥٧، ١٠١، ١١٢) (صحیح )
3604Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دی گئی ہے ۔

It was narrated that Urwah Al-Bariqi said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3574
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥٠)، ٤٤ (٢٨٥٢)، الخمس ٨ (٣١١٩)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٣)، سنن الترمذی/الجہاد ١٩ (١٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٩ (٢٣٠٥)، الجہاد ١٤ (٢٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٧)، مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٤ (٢٤٧٠، ٢٤٧١) (صحیح )
3605Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

ابوالجعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر کی گرہ لگا دی گئی (جس کے سبب) اجر بھی ملے گا اور غنیمت بھی ۔

It was narrated from Urwah bin Abi Al-Jad that he heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3575
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3606Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، وَالْمَغْنَمُ.

عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی ۔

It was narrated that Urwah said that he heard the Messenger of Allah say: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3576
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3607Sunan An Nasai

گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں کو (ہاتھوں سے) بٹنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ.

عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے (اور خیر سے مراد کیا ہے؟ ) ثواب اور مال غنیمت ۔

It was narrated from Urwah bin Abi Al-Jad that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3577
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٠٤ (صحیح )
3608Sunan An Nasai

گھوڑے کو تربیت دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي، فَيَقُولُ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا خَالِدُ، تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ، يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف)وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ: تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَ بِهَا.

خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر ؓ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے، کہتے تھے: اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کردی تو انہوں نے آواز لگائی: خالد! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، چناچہ میں ان کے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: (ایک) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا، (دوسرا) تیر چلانے والا، (تیسرا) تیر پکڑنے والا، اٹھا اٹھا کردینے والا، (آپ ﷺ نے فرمایا:) تیر اندازی کرو، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ (مباح و مندوب) لہو و لذت یابی، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے: (ایک) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں، (دوسرے) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کھیل کود میں اور (تیسرے) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے (و سیکھنے) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی (جو اسے حاصل تھی) ناشکری (و ناقدری) کی۔ راوی کو شبہ ہوگیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر کفرہا کہا یا کفر بہا کہا۔

It was narrated that Khalid bin Yazid Al-Juhani said: "Uqbah bin Amir used to pass by me and say: O Khalid, let us go out and shoot arrows. One day I came late and he said: O Khalid, come and I will tell you what the Messenger of Allah said. So I went to him and he said: The Messenger of Allah said: Allah will admit three people to Paradise because of one arrow: The one who makes it seeking good thereby, the one who shoots it and the one who hands it to him. So shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. And play is only in three things: A man training his horse, and playing with his wife, and shooting with his bow and arrow. Whoever gives up shooting after learning it because he is no longer interested in it, that is a blessing for which he is ungrateful -or that he has rejected.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3578
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٤٨ (ضعیف) (لکن فقرة ” اللہوة “ ثابت فی حدیث آخر بنحوہ )
3609Sunan An Nasai

گھوڑے کی دعا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْسُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ: اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، وَجَعَلْتَنِي لَهُ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ، وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو (یہاں مخاطب عرب تھے) (اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے (وہ کہتا ہے) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے ۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is no Arabian horse but it is allowed to offer two supplications every Sahar (end of the night): O Allah, You have caused me to be owned by whoever You wanted among the sons of Adam, and you have made me belong to him. Make me the dearest of his family and wealth to him, or among the dearest of his family and wealth to him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3579
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٩٧٩)، مسند احمد (٥/١٦٢، ١٧٠) (صحیح )
3610Sunan An Nasai

گھوڑیوں کو خچر پیدا کرانے کے لئے گدھوں سے جفتی کرانے کے کی سخت مذمت کے بارے میں۔

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَرَكِبَهَا فَقَالَ: عَلِيٌّ لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ لَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ.

علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ ﷺ نے سواری کی۔ علی ؓ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا (کر جفتی کرا) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے (بہت سے خچر) ہوجائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ali bin Abi Talib (RA) said: "A mule was given as a gift to the Messenger of Allah and he rode it." Ali said: "If we mate a donkey with a horse, we will have one like this." The Messenger of Allah said: "That is only done by those who do not know.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3580
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ گھوڑوں میں جو بات ہے وہ خچروں میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٥٩ (٢٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٤)، مسند احمد (١/٩٨، ١٠٠، ١٥٨) (صحیح )
3611Sunan An Nasai

گھوڑیوں کو خچر پیدا کرانے کے لئے گدھوں سے جفتی کرانے کے کی سخت مذمت کے بارے میں۔

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، قَالَ خَمْشًا: هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ، وَاللَّهِ مَااخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ.

عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہوسکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر ک دائیں (جفتی کرائیں) ۔

It was narrated that Abdullah bin Ubaidullah bin Abbas said: I was with Ibn Abbas and a man asked him: "Did the Messenger of Allah recite during Zuhr and Asr?" He said: "No." He said: "Perhaps he used to recite to himself?" He said: "May your face be scratched! This question is worse than the first one. The Messenger of Allah was a slave whose Lord commanded him and he conveyed (the message). By Allah, the Messenger of Allah did not specify anything for us above the people, except for three things: He commanded us to perform Wudu properly, not to consume charity, and not to mate donkeys with horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3581
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤١ (صحیح )
3612Sunan An Nasai

گھوڑوں کو چارہ کھلانے کے ثواب سے متعلق

قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيّحَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِوَعْدِ اللَّهِ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "Whoever keeps a horse for the cause of Allah out of faith in Allah and believing the promise of Allah, its feed, water, urine and dung will all count as Hasanat in the balance of his deeds.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3582
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٥ (٢٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٤)، مسند احمد (٢/٥٧٤) (صحیح )
3613Sunan An Nasai

غیر مضمر گھوڑوں کی گھڑ دوڑ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک) گھوڑوں کی دوڑ کرائی (کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے) ١ ؎ حفیاء سے روانہ کرتے (دوڑاتے) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے (جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)organized a horse race and sent them from Al-Hafya and its finish line was Thaniyyat Al-Wada; and he organized a race for horses that had not been made lean, and the course stretched from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3583
Notes · وضاحت
١ ؎: حفیاء ایک گاؤں کا نام اور ثنیّۃ الوداع ایک پہاڑ یا ایک محلے کا نام ہے۔ ٢ ؎: ثنیّۃ سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا اور حفیاء سے ثنیّۃ تک پانچ چھ میل کا فاصلہ ہے، معلوم ہوا کہ مسابقہ و مقابلہ مشروع اور جائز ہے عبث ولا یعنی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے ایسی مشق ہوتی ہے جن سے جنگ وغیرہ میں اچھے مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨)، ٥٧ (٢٨٦٩)، ٥٨ (٢٨٧٠)، الاعتصام ١٦ (٧٣٣٦)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٠)، مسند احمد ٢/٥، ٥٥-٥٦، سنن الدارمی/الجھاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح )
3614Sunan An Nasai

گھوڑوں کو دوڑنے کے لئے تیار کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، (دوڑ کی) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، (ایسے ہی) رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے (جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے) ۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر ؓ ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) organized a race for horses that had been made lean, from Al-Hafya and its finish line was Thaniyyat Al-Wada, and he organized another race for horses that had not been made lean, from Ath-Thaniyyah to the Masjid of Banu Zuraiq, and Abdullah was among those who took part in the race.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3584
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤١ (٤٢٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (٨٧٠)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٧ (٢٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٠)، موطا امام مالک/الجہاد ٩ (٤٥) (صحیح )
3615Sunan An Nasai

گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف تین چیزوں میں (انعام و اکرام کی) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There should be no awards (for victory in a competition) except for arrows, camels or horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3585
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٢ (١٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨)، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح )