Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 15 of 289

280Sunan An Nasai

جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کے ساتھ کھانا اور اس کا جھوٹا کھانا پینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَأَلْتُهَا: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ ؟ قالت: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ.

شریح ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی، آپ ﷺ ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا، آپ پانی مانگتے، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے، چناچہ میں لے کر پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، پھر آپ ﷺ اسے لیتے اور پیتے، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ١ ؎۔

It was narrated from Shuraih that he asked Aishah (RA) : “Can a woman eat with her husband while she is menstruating? She said: ‘Yes. The Messenger of Allah ﷺ would call me to eat with him while I was menstruating. He would take a piece of bone on which some bits of meat were left and insist that I take it first, so I would nibble a little from it, then put it down. Then he would take it and nibble from it, and he would put his mouth where mine had been on the bone. Then he would ask for a drink and insist that I take it first before he drank from it. So I would take it and drink from it, then put it down, then he would take it and drink from it, putting his mouth where mine had been on the cup.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 279
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ایسا اظہار محبت اور بیان جواز کے لیے کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح الإسناد )
281Sunan An Nasai

جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کے ساتھ کھانا اور اس کا جھوٹا کھانا پینا

أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، فَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ سُؤْرِي وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا منہ (برتن میں) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں (منہ لگا کر) پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا جو ٹھا پیتے، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to put his mouth on the place where I had drunk from, and he would drink from what was leftover by me, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 280
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
282Sunan An Nasai

جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کا جوٹھا پانی پینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ.

شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے پانی کا برتن دیتے، میں اس میں سے پیتی، اور میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں آپ کو دیتی، آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے، اور اپنا منہ اسی جگہ رکھتے۔

It was narrated from Al Miqdam bin Shuraih that his father said: “I heard Aishah (RA) say: ‘The Messenger of Allah ﷺ would hand me the vessel and I would drink from it, while I was menstruating, then I would give it to him and he would look for the place where I had put my mouth and put that to his mouth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 281
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
283Sunan An Nasai

جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کا جوٹھا پانی پینا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ وَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں (پانی) پیتی اور میں حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم ﷺ کو دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھ کر پیتے، اور میں ہڈی سے گوشت (نوچ کر) کھاتی، اور حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم ﷺ کو دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I would drink while I was menstruating, then I would hand it to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at a bone on which some bits of meat were left while I was menstruating, then I would give it to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where my mouth had been.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 282
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
284Sunan An Nasai

حائضہ عورت کو اپنے ساتھ لٹانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قالت: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چادر میں لیٹی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آگیا، تو میں آہستہ سے کھسک آئی اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ ﷺ پوچھنے لگے: کیا تم کو حیض آگیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ ﷺ نے مجھے بلایا، تو (جا کر) میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔

Umm Salamah narrated:“While I was lying down with the Messenger of Allah ﷺ under a blanket, my period came, so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Are you menstruating?’ I said: ‘Yes.’ Then he called me and I lied down with him under the blanket.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 283
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٤ (٢٩٨)، ٢١ (٣٢٢)، ٢٢ (٣٢٣)، الصوم ٢٤ (١٩٢٩) صحیح مسلم/فیہ ٢ (٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢١ (٦٣٧)، مسند احمد ٦/٣٠٠، ٣١٨، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٧ (١٠٨٥)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٠ (برقم: ٣٧١) (صحیح )
285Sunan An Nasai

حائضہ عورت کو اپنے ساتھ لٹانے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ أَوْ حَائِضٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ ﷺ کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ ﷺ پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ and I would sleep under a single blanket when I was menstruating. If anything got on him from me, he would wash that spot and no more, and pray in it, then come back. If anything got on it again from me, he would do likewise and no more, and he would pray in it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 284
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٠٧ (٢٦٩)، انکاح ٤٧ (٢١٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٧)، مسند احمد ٦/٤٤، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٥ (١٠٥٣)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٧٢، ٧٧٤ (صحیح )
286Sunan An Nasai

حائضہ خاتون کے ساتھ آرام کرنا اور اس کو چھونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ایک کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would tell one of us, if she was menstruating, to tie her Izar (waist wrap) tightly then he would fondle her.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 285
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٥ (٣٠٢)، صحیح مسلم/فیہ ١ (٢٩٣)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٧ (٢٦٨)، سنن الترمذی/الطھارة ٩٩ (١٣٢)، الصوم ٣٢ (٧٢٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارہ ١٢١ (٦٣٦)، مسند احمد ٦/١١٣، ١٦٠، ١٧٤، ١٨٢، ٢٠٤، ٢٠٦، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٧ (١٠٨٧، ١٠٨٨)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٢ برقم: ٣٨٣ (صحیح )
287Sunan An Nasai

حائضہ خاتون کے ساتھ آرام کرنا اور اس کو چھونا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ، أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “If one of us was menstruating, the Messenger of Allah ﷺ would tell her to put on an Izar (waist wrap) then he would fondle her.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 286
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں يباشرها کا لفظ آیا ہے یہاں مباشرت سے جماع مراد نہیں کہ یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کیسے مباشرت کرتے جبکہ حائضہ سے مباشرت حرام ہے، بلکہ یہاں بوس و کنار اور لیٹنا مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٥ (٢٩٩)، الصوم ٤ (٢٠٣٠)، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٣)، سنن ابی داود/الطہارة ١٠٧ (٢٦٨)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٩ (١٣٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢١ (٦٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٨٢)، مسند احمد ٦/٥٥، ١٣٤، ١٧٤، ١٨٩، ٢٠٩، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٧ (١٠٧٧)، ویأتی عندالمؤلف برقم: ٣٧٤ (صحیح )
288Sunan An Nasai

حائضہ خاتون کے ساتھ آرام کرنا اور اس کو چھونا

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَاللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْحَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ بُدَيَّةَ وَكَانَ اللَّيْثُ، يَقُولُ: نَدَبَةَ مَوْلَاةُ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ وَالرُّكُبَتَيْنِفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ: مُحْتَجِزَةً بِهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی جب اس پر تہبند ہوتا، جو آدھی ران اور گھٹنے تک پہنچتا، لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی ١ ؎۔

It was narrated that Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ would fondle one of his wives while she was menstruating, if she wore an Izar (waist wrap) that reached halfway down to them middle of her thighs or to her knees.” (Hasan) In the narration of Al-Laith: “Being covered with it.”

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 287
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں بھی مباشرت سے لیٹنا ہی مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٠٧ (٢٦٧)، مسند احمد ٦/٣٣٢، ٣٣٥، ٣٣٦، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٧ (١٠٩٧)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ١٣ (برقم: ٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٥ (٣٠٣)، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٤) (صحیح )
289Sunan An Nasai

ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَفَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: ويسألونک عن المحيض قل هو أذى (البقرہ: ٢٢٢ ) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔

It was narrated that Anas said: “When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, nor mix with them in their houses. They asked the Prophet ﷺ of Allah ﷺ about that, and Allah the Mighty and Sublime revealed: They ask you concerning menstruation. Say: ‘That is an Adha (a harmful thing).’ So the Messenger of Allah ﷺ commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: ‘The Messenger of Allah ﷺ does not leave anything of our affairs except he goes against it.’ Usaid bin Hudair and ‘Abbasd bin Bishr went and told the Messenger of Allah ﷺ and they said: ‘Should we have intercourse with them when they are menstruating?’ The expression of the Messenger of Allah ﷺ changed greatly until we thought that he was angry with them, and they left. Then the Messenger of Allah ﷺ received a gift of milk, so he sent someone to bring them back and he gave them some to drink, so they knew that he was not angry with them.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 288
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠٢)، سنن ابی داود/الطہارة ١٠٣ (٢٥٨)، النکاح ٤٧ (٢١٦٥)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٧٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٥ (٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٠٨)، مسند احمد ٣/١٣٢، ٢٤٦، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٧ (١٠٩٣)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٨، باتم مما ھنا (برقم: ٣٦٩) (صحیح )
290Sunan An Nasai

نہی خداوندی اور ممانعت کے علم کے باوجود جو شخص بیوی سے حالت حیض میں ہمبستری کرلے اس کا کیا کفارہ ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيالرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas from the Prophet ﷺ , concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating: “Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 289
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہوجانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٠٦ (٢٦٤)، النکاح ٤٨ (٢١٦٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٣ (٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ١٠٣ (١٣٧)، مسند احمد ١/٢٢٩، ٢٣٧، ٢٧٢، ٢٨٦، ٣١٢، ٣٢٥، ٣٦٣، ٣٦٧، سنن الدارمی/الطھارة ١١٢ (١١٤٦، ١١٤٧)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٩، (برقم: ٣٧٠) (صحیح )
291Sunan An Nasai

جو خاتون احرام باندھے اور اس کو حیض شروع ہوجائے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كَانَ بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا لَكِ ؟ أَنَفِسْتِ ؟فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنَّ لَا بِالْبَيْتِ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمیں صرف حج کرنا تھا، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہوگئی، تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ ﷺ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ حائضہ ہوگئی ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کردیا ہے، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ، نیز رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ with no intention other than Hajj. When he was in Sarif I began menstruating. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me and I was weeping. He said: ‘What is the matter with you? Has your Nifas begun?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘This is something that Allah the Mighty and Sublime has decreed for the daughters of Adam. Do what the pilgrims do, but do not perform Tawaf around the House.’ And the Messenger of Allah ﷺ sacrificed a cow on behalf of his wives.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 290
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٧ (٢٩٤)، الحج ٣٣ (١٥٦٠)، و ٨١ (١٦٥٠)، العمرة ٩ (١٧٨٨)، الأضاحي ٣ (٥٥٤٨)، ١٠ (٥٥٥٩)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابی داود/فیہ ٢٣ (١٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٦ (٢٩٦٣)، مسند احمد ٦/٣٩، سنن الدارمی/المناسک ٦٢ (١٩٤٥)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٤٩، ٢٧٤٢، ٢٩٩٣، (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٢) (صحیح )
292Sunan An Nasai

نفاس والی خاتون احرام کیسے باندھیں؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَاجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ: اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي.

محمد کہتے ہیں کہ ہم لوگ جابر بن عبداللہ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج (حجۃ الوداع) کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ پچیس ذی قعدہ کو نکلے ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: غسل کرلو اور لنگوٹ کس لو، پھر لبیک پکارو ۔

Ja’far bin Muhammad said: “My father told me: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ . He narrated: ‘The Messenger of Allah ﷺ set out when there were five (days) remaining in Dhul Qa’dah, and we set out with him. When he came to Dhul-Hulaifah, Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent word to the Messenger of Allah ﷺ asking what she should do. He said: ‘Perform Ghusl, bind yourself with a cloth then begin (the Talbiyah for Ihram). (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 291
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ٢٦١٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢١٥ (صحیح )
293Sunan An Nasai

اگر کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتٌ الْحَدَّادُ، عَنْعَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ: حُكِّيهِ بِضِلَعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو ۔

It was narrated that ‘Adi bin Dinar said: “I heard Umm Qais bint Mihsan say that she asked the Messenger of Allah ﷺ about menstrual blood that gets on one’s clothes. He said: ‘Scratch it with a stick and wash it with water and lotus leaves.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 292
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٣٢ (٣٦٣)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١١٨ (٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٤)، مسند احمد ٦/٣٥٥، ٣٥٦، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٥ (١٠٥٩)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٢٦ (برقم: ٣٩٥) (صحیح )
294Sunan An Nasai

اگر کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ تَكُونُ فِي حَجْرِهَا، أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ وَصَلِّي فِيهِ.

فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت کرتی ہیں (وہ ان کی گود میں پلی تھیں) کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کھرچ دو، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو، پھر اسے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھ لو ۔

It was narrated from Asma’ bint AbI Bakr that a woman asked the Messenger of Allah ﷺ about menstrual blood that gets on clothes. He said: “Scratch it, then rub it with water, then sprinkle water over it, and pray in it.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 293
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٧)، الحیض ٩ (٣٠٦)، صحیح مسلم/الطھارة ٣٣ (٢٩١)، سنن ابی داود/الطہارة ١٣٢ (٣٦١، ٣٦٢)، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٤ (١٣٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٨ (٦٢٩)، موطا امام مالک/الطہارة ٢٨ (١٠٣)، مسند احمد ٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٧٩٩)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ٢٦ (برقم: ٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٣) (صحیح )
295Sunan An Nasai

منی کپڑے میں لگ جانے کا حکم

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ يُجَامِعُ فِيهِ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى.

معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی بہن) ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔

It was narrated from Muawiyah bin Abi Sufyan that he asked Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ : “Did the Messenger of Allah ﷺ pray in a garment in which he had had intercourse?” She said: “Yes, so long as he saw no filth on it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 294
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٣٣ (٣٦٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٣ (٥٤٠)، مسند احمد ٦/٣٢٥، ٤٢٦، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٢ (١٤١٥، ١٤١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٨) (صحیح )
296Sunan An Nasai

کپڑے پر سے منی دھونے کا حکم

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے جنابت کا اثر دھوتی تھی ١ ؎، پھر آپ نماز کے لیے نکلتے، اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر باقی ہوتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to wash the Janabah from the garment of the Messenger of Allah ﷺ and he would go out to pray, with traces of water on his garment.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 295
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں اس سے مراد منی ہے، اور منی ایک قسم کی رطوبت ہے جو مرد کی شرمگاہ سے شہوت کے وقت اچھلتے ہوئے خارج ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٤ (٢٢٩، ٢٣٠)، ٦٥ (٢٣١)، صحیح مسلم/الطھارة ٣٢ (٢٨٩)، سنن ابی داود/فیہ ٣٦ (٣٧٣)، سنن الترمذی/فیہ ٨٦ (١١٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨١ (٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣٥)، مسند احمد ٦/٤٨، ١٤٢، ١٦٢، ٢٣٥ (صحیح )
297Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن الحرث بن نوفل عن عائشة قالت: كنت أفرك الجنابة وقالت مرة أخرى المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے جنابت مل کر صاف کردیتی ١ ؎، دوسری مرتبہ کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی مل کر صاف کردیتی تھی ٢ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to scrape the Janabah.” On another occasion she said: “The semen from the garment of the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 296
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں، خشک ہو تو اسے کھرچ دینے یا مل دینے، اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کردینے سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے، امام شافعی، داود ظاہری، اور امام احمد کی رائے میں منی پاک ہے، وہ منہ کے لعاب کی طرح ہے، صحابہ کرام ؓ اجمعین میں سے علی، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کا بھی یہی مسلک ہے، اس کے برعکس امام مالک اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ منی ناپاک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک منی اگر خشک ہو تو کھُرچ دینے سے پاک ہوجاتی ہے، دھونا ضروری نہیں، اس کے برعکس امام مالک کے نزدیک خشک ہو یا تر دونوں صورتوں میں دھونا ضروری ہے، منی کو پاک قرار دینے والوں کی دلیل کھرچنے والی حدیثیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر نجس ہوتی تو کھرچنے کے بعد اسے دھونا ضروری ہوتا، اور جن لوگوں نے ناپاک کہا ہے ان کی دلیل وہ روایتیں ہیں جن میں دھونے کا حکم آیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر پاک ہوتی تو اسے دھونے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جو لوگ پاک کہتے ہیں وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کپڑے کا دھونا نظافت کے لیے ہے نجاست کی وجہ سے نہیں۔ ٢ ؎: بظاہر اوپر والی روایت میں اور اس روایت میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ فرک (ملنے اور رگڑنے) والی روایتیں خشک منی پر محمول ہوں گی کیونکہ منی جب گیلی ہو تو ملنے سے صاف نہیں ہوگی، اور دھونے والی روایتیں تر منی پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٧) (صحیح )
298Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا عمرو بن يزيد قال حدثنا بهز قال حدثنا شعبة قال الحكم أخبرني عن إبراهيم عن همام بن الحرث أن عائشة قالت: لقد رأيتني وما أزيد على أن أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .

ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتی تھی کہ اسے (یعنی منی کو) رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے مل دوں۔

It was narrated from Hammam bin AI-Harith that Aishah (RA) said: “I remember when I could do no more than rub it from the garment of the Messenger of Allah ﷺ .” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 297
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٨)، سنن ابی داود/الطہارة ١٣٦ (٣٧١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٧)، مسند احمد ٦/٤٣، ١٢٥، ١٣٥، ١٩٣، ٢٦٣، (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٦) (صحیح )
299Sunan An Nasai

کپڑے سے منی کے کھرچنے سے متعلق

أخبرنا الحسين بن حريث أنبأنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أفركه من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے کپڑے سے اسے (یعنی منی کو) مل دیتی تھی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to rub it off from the garment of the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 298
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٨ (صحیح )